Islam Times:
2026-07-24@03:09:25 GMT

دوحہ کانفرنس

اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT

دوحہ کانفرنس

اسلام ٹائمز: دوحہ قرارداد نے ایک بار پھر اس امر کو ثابت کر دیا ہے کہ عالمِ اسلام کو صرف "بیانات" سے نہیں بچایا جا سکتا۔ اب وقت آگیا ہے کہ مسلم دنیا محض لفظوں کے ہیر پھیر سے نکل کر عملی اقدامات کرے۔ سفارتی، معاشی، عسکری اور سیاسی سطح پر اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کو واضح پیغام دیا جانا چاہیئے۔ اگر اسلامی دنیا متحد ہو جائے تو وہ عالمی نظام کو ہلا کر رکھ سکتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے اس وقت سب سے بڑی کمزوری مسلمانوں کی اپنی صفوں میں موجود ہے۔ اتحاد، قیادت، خود مختاری اور غیرت و حمیت کی کمی نے ہمیں عالمی طاقتوں کا غلام بنا دیا ہے۔ دوحہ قرارداد نے ہمیں ایک بار پھر آئینہ دکھایا ہے۔ یہ اب ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس آئینے میں اپنے اصل چہرے کو پہچان کر خود کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر تاریخ کے کوڑے دان میں دفن ہونے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ تحریر: مفتی گلزار احمد نعیمی
امیر جماعت اہل حرم پاکستان
مرکزی نائب صدر ملی یکجہتی کونسل پاکستان

دوحہ کانفرنس اور اس کے نتیجے میں جاری ہونے والی 25 نکاتی قرارداد نے عالمِ اسلام کی بے بسی، کمزوری اور اندرونی تضادات کو دنیا کے سامنے واضح کر دیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے نہ صرف انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کی گئیں بلکہ اس نے مسلم دنیا کی تمام "ریڈ لائنز" کو بھی پامال کر دیا۔ اس تمام صورتحال میں دوحہ قرارداد میں جس شرمناک کمزوری کا مظاہرہ کیا گیا، وہ نہ صرف امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے بلکہ مستقبل میں مسلمان ممالک کے لیے ایک انتباہی پیغام بھی ہے۔ دوحہ کانفرنس میں مسلم ممالک کے نمائندے، جو کہ مجموعی طور پر دنیا کی دو ارب سے زائد آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں، نہایت ہی مایوس کن اور بزدلانہ رویہ اختیار کیے نظر آئے۔ یہ نمائندے ایک تہائی اقوام متحدہ کی رکنیت رکھتے ہیں اور عالمی سطح پر توانائی کی ضروریات کا بھی ایک تہائی حصہ بھی پورا کرتے ہیں۔ اس کے باوجود عملی اقدامات کے بجائے محض بیانات اور رسمی قرارداد پر اکتفا کیا گیا۔

کانفرنس کا ماحول "آمدن، نشست، گفتن اور برخاستن" سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ ایک ایسے موقع پر جب اسرائیل نے نہ صرف غزہ بلکہ قطر جیسے ملک پر بھی حملے کی جرأت کی، مسلمانوں کے لیے یہ سنہری موقع تھا کہ وہ اپنے اتحاد، طاقت اور یکجہتی کا مظاہرہ کرتے، مگر افسوس یہ موقع بھی ضائع کر دیا گیا۔ اسرائیل نے اپنے حالیہ اقدامات سے بین الاقوامی قوانین اور اخلاقی اقدار کی دھجیاں اڑا دیں۔ نہتے شہریوں پر حملے، بچوں اور عورتوں کا قتل عام اور قطر جیسے ملک پر جارحیت تمام تر عالمی اداروں اور مسلم دنیا کی ریڈ لائنز کو روندتے ہوئے کیے گئے۔ مگر اس کے جواب میں مسلمان ممالک نے نہ صرف خاموشی اختیار کی بلکہ محض "زبان کی سختی" پر اکتفا کیا۔ اس موقع پر ضرورت اس امر کی تھی کہ "عمل کی سختی" دکھائی جاتی۔ کم از کم اتنا ہی کر لیا جاتا کہ اسرائیل کے لیے ایئر سپیس بند کر دی جاتی۔ سفارتی تعلقات منقطع کیے جاتے اور معاشی دباؤ ڈالا جاتا۔ مگر کوئی سنجیدہ قدم نہ اٹھایا گیا۔

قطر پر حملے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ باقی عرب ممالک کو واضح پیغام دیا جائے کہ اگر کسی نے اسرائیل یا اس کے سرپرست امریکہ کی مخالفت کی تو اس کا انجام بھی یہی ہوگا۔ اردن، مصر، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستیں اسرائیل اور امریکہ کے خوف سے خاموش تماشائی بنی رہیں۔ ان کے رویئے نے ثابت کر دیا کہ وہ اپنی خود مختاری، حمیت اور دینی و ملی غیرت سے زیادہ واشنگٹن اور تل ابیب کے اشاروں پر چلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ قطر نے ماضی قریب میں امریکہ کو دو کھرب ڈالر بطور تحفہ دیئے تھے، جس کا مقصد ظاہر ہے کہ اپنے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔ مگر جب وقت آیا تو یہی امریکہ قطر کی حفاظت کرنے سے منہ پھیر گیا۔ اسرائیل نے حملہ کیا اور امریکہ خاموش تماشائی بنا رہا۔ اس سے یہ حقیقت آشکار ہوگئی کہ امریکہ کی ساکھ اس خطے میں مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے۔ جن عرب حکمرانوں نے امریکہ کو اپنا محافظ سمجھا تھا، انہیں آج اس دھوکے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

دوحہ کانفرنس میں فلسطین کے مسئلے پر وہی فرسودہ باتیں کی گئیں کہ مسئلے کا حل "دو ریاستی فارمولا" ہے۔ یہ بنیادی طور پر اسرائیل کو بطور ریاست قبول کرنے کی طرف ایک قدم ہے، ورنہ عالم اسلام کے اکابرین نے ہمیشہ اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست قرار دیا تھا۔ وہ اس سرزمین پر اسرائیل کے ناجائز وجود کے کبھی بھی حامی نہیں رہے بلکہ اس کو مٹانا اپنا اہم اور ملی فریضہ سمجھتے تھے۔ آج کے حکمران ابراہام معاہدے کے نام پر گریٹر اسرائیل کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ یہ معاہدہ اسرائیل کی توسیع پسندی کو جائز قرار دینے کے مترادف ہے۔ دنیا میں اس وقت دو ہی ریاستیں ایسی ہیں، جن کا رویہ کھلی جارحیت اور توسیع پسندی پر مبنی ہے، ایک اسرائیل اور دوسرا بھارت۔ دونوں ممالک اپنے پڑوسیوں کے حقوق پامال کرتے ہیں، اقلیتوں پر ظلم کرتے ہیں اور علاقائی طاقت بننے کے لیے ہر بین الاقوامی قانون کو نظر انداز کرتے ہیں۔ اسرائیل کی غزہ اور قطر پر جارحیت ہو یا بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں بربریت، دونوں ممالک عالمی ضمیر کو چیلنج کر رہے ہیں۔

جن مسلم ممالک نے اسرائیل اور امریکہ سے خوشامدانہ تعلقات قائم کیے، آج وہ بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ انہیں اندازہ ہوچکا ہے کہ ان کی وفاداری کا کوئی صلہ نہیں ملنے والا۔ امریکہ صرف اپنے مفادات کا محافظ ہے، وہ کسی ملک کا دوست یا حامی نہیں ہوسکتا۔ جو عرب ممالک کل تک امریکی دفاعی چھتری پر فخر کرتے تھے، آج وہ اپنی حفاظت کے لیے بے بس ہوچکے ہیں۔ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ آخر اتنا عسکری سرمایہ، اربوں ڈالر کا اسلحہ، جدید ٹیکنالوجی، دفاعی معاہدات اور فوجی اتحاد کس کام کے لیے ہیں۔؟ اگر ان کا استعمال مظلوموں کی حفاظت، مسلم دنیا کے دفاع اور دشمن کو روکنے کے لیے نہیں ہو رہا تو پھر یہ سب کچھ صرف دکھاوے اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔ اسلحے کے انبار لگانے کا کوئی فائدہ نہیں، اگر دشمن کے سامنے جھکنا ہی مقدر ہو۔

دوحہ قرارداد نے ایک بار پھر اس امر کو ثابت کر دیا ہے کہ عالمِ اسلام کو صرف "بیانات" سے نہیں بچایا جا سکتا۔ اب وقت آگیا ہے کہ مسلم دنیا محض لفظوں کے ہیر پھیر سے نکل کر عملی اقدامات کرے۔ سفارتی، معاشی، عسکری اور سیاسی سطح پر اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کو واضح پیغام دیا جانا چاہیئے۔ اگر اسلامی دنیا متحد ہو جائے تو وہ عالمی نظام کو ہلا کر رکھ سکتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے اس وقت سب سے بڑی کمزوری مسلمانوں کی اپنی صفوں میں موجود ہے۔ اتحاد، قیادت، خود مختاری اور غیرت و حمیت کی کمی نے ہمیں عالمی طاقتوں کا غلام بنا دیا ہے۔ دوحہ قرارداد نے ہمیں ایک بار پھر آئینہ دکھایا ہے۔ یہ اب ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس آئینے میں اپنے اصل چہرے کو پہچان کر خود کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر تاریخ کے کوڑے دان میں دفن ہونے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: دوحہ کانفرنس ایک بار پھر ا اسرائیل اور اسرائیل کی پر اسرائیل مسلم دنیا کرتے ہیں دیا ہے کے لیے کر دیا

پڑھیں:

آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل اہم سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے انتخابی اتحاد اور مختلف حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے پر اتفاق کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنائیں گے، چیف الیکشن کمشنر کا واضح پیغام

یہ اتفاق رائے استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔

ملاقات میں آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال، آئندہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات اور دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی جبکہ انتخابات کے بعد بھی مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا۔

مزید پڑھیے: تنویر الیاس کے قافلے پر حملہ، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی شدید مذمت

ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد مختلف حلقوں میں امیدواروں کی حمایت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حتمی اعلان کرے گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس اتحاد کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے انتخابی میدان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ

ملاقات کے موقع پر سابق معاون خصوصی سردار امتیاز شاہین، مسلم کانفرنس یوتھ ونگ کے چیئرمین سردار عثمان عتیق، کھائیگلہ پونچھ سے مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار ڈاکٹر عرفان اشرف، سابق امیدوار اسمبلی سردار منظور ایڈووکیٹ، سابق ڈی جی ہیلتھ سردار محمود خان، پولیٹیکل ایڈوائزر سردار افتخار رشید، ممبر میونسپل کارپوریشن باغ سردار شجاع منگول ایڈووکیٹ، سابق پولیٹیکل سیکرٹری سردار شبریز صابر، پیر عبدالقادر، سردار عفان عتیق، راجہ عبدالجبار اور اسٹاف آفیسر سردار حفیظ خان بھی موجود تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر تنویر الیاس اور سرادر عتیق احمد کی ملاقات سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم