Islam Times:
2026-06-03@05:00:30 GMT

دوحہ کانفرنس

اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT

دوحہ کانفرنس

اسلام ٹائمز: دوحہ قرارداد نے ایک بار پھر اس امر کو ثابت کر دیا ہے کہ عالمِ اسلام کو صرف "بیانات" سے نہیں بچایا جا سکتا۔ اب وقت آگیا ہے کہ مسلم دنیا محض لفظوں کے ہیر پھیر سے نکل کر عملی اقدامات کرے۔ سفارتی، معاشی، عسکری اور سیاسی سطح پر اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کو واضح پیغام دیا جانا چاہیئے۔ اگر اسلامی دنیا متحد ہو جائے تو وہ عالمی نظام کو ہلا کر رکھ سکتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے اس وقت سب سے بڑی کمزوری مسلمانوں کی اپنی صفوں میں موجود ہے۔ اتحاد، قیادت، خود مختاری اور غیرت و حمیت کی کمی نے ہمیں عالمی طاقتوں کا غلام بنا دیا ہے۔ دوحہ قرارداد نے ہمیں ایک بار پھر آئینہ دکھایا ہے۔ یہ اب ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس آئینے میں اپنے اصل چہرے کو پہچان کر خود کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر تاریخ کے کوڑے دان میں دفن ہونے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ تحریر: مفتی گلزار احمد نعیمی
امیر جماعت اہل حرم پاکستان
مرکزی نائب صدر ملی یکجہتی کونسل پاکستان

دوحہ کانفرنس اور اس کے نتیجے میں جاری ہونے والی 25 نکاتی قرارداد نے عالمِ اسلام کی بے بسی، کمزوری اور اندرونی تضادات کو دنیا کے سامنے واضح کر دیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے نہ صرف انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کی گئیں بلکہ اس نے مسلم دنیا کی تمام "ریڈ لائنز" کو بھی پامال کر دیا۔ اس تمام صورتحال میں دوحہ قرارداد میں جس شرمناک کمزوری کا مظاہرہ کیا گیا، وہ نہ صرف امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے بلکہ مستقبل میں مسلمان ممالک کے لیے ایک انتباہی پیغام بھی ہے۔ دوحہ کانفرنس میں مسلم ممالک کے نمائندے، جو کہ مجموعی طور پر دنیا کی دو ارب سے زائد آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں، نہایت ہی مایوس کن اور بزدلانہ رویہ اختیار کیے نظر آئے۔ یہ نمائندے ایک تہائی اقوام متحدہ کی رکنیت رکھتے ہیں اور عالمی سطح پر توانائی کی ضروریات کا بھی ایک تہائی حصہ بھی پورا کرتے ہیں۔ اس کے باوجود عملی اقدامات کے بجائے محض بیانات اور رسمی قرارداد پر اکتفا کیا گیا۔

کانفرنس کا ماحول "آمدن، نشست، گفتن اور برخاستن" سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ ایک ایسے موقع پر جب اسرائیل نے نہ صرف غزہ بلکہ قطر جیسے ملک پر بھی حملے کی جرأت کی، مسلمانوں کے لیے یہ سنہری موقع تھا کہ وہ اپنے اتحاد، طاقت اور یکجہتی کا مظاہرہ کرتے، مگر افسوس یہ موقع بھی ضائع کر دیا گیا۔ اسرائیل نے اپنے حالیہ اقدامات سے بین الاقوامی قوانین اور اخلاقی اقدار کی دھجیاں اڑا دیں۔ نہتے شہریوں پر حملے، بچوں اور عورتوں کا قتل عام اور قطر جیسے ملک پر جارحیت تمام تر عالمی اداروں اور مسلم دنیا کی ریڈ لائنز کو روندتے ہوئے کیے گئے۔ مگر اس کے جواب میں مسلمان ممالک نے نہ صرف خاموشی اختیار کی بلکہ محض "زبان کی سختی" پر اکتفا کیا۔ اس موقع پر ضرورت اس امر کی تھی کہ "عمل کی سختی" دکھائی جاتی۔ کم از کم اتنا ہی کر لیا جاتا کہ اسرائیل کے لیے ایئر سپیس بند کر دی جاتی۔ سفارتی تعلقات منقطع کیے جاتے اور معاشی دباؤ ڈالا جاتا۔ مگر کوئی سنجیدہ قدم نہ اٹھایا گیا۔

قطر پر حملے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ باقی عرب ممالک کو واضح پیغام دیا جائے کہ اگر کسی نے اسرائیل یا اس کے سرپرست امریکہ کی مخالفت کی تو اس کا انجام بھی یہی ہوگا۔ اردن، مصر، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستیں اسرائیل اور امریکہ کے خوف سے خاموش تماشائی بنی رہیں۔ ان کے رویئے نے ثابت کر دیا کہ وہ اپنی خود مختاری، حمیت اور دینی و ملی غیرت سے زیادہ واشنگٹن اور تل ابیب کے اشاروں پر چلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ قطر نے ماضی قریب میں امریکہ کو دو کھرب ڈالر بطور تحفہ دیئے تھے، جس کا مقصد ظاہر ہے کہ اپنے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔ مگر جب وقت آیا تو یہی امریکہ قطر کی حفاظت کرنے سے منہ پھیر گیا۔ اسرائیل نے حملہ کیا اور امریکہ خاموش تماشائی بنا رہا۔ اس سے یہ حقیقت آشکار ہوگئی کہ امریکہ کی ساکھ اس خطے میں مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے۔ جن عرب حکمرانوں نے امریکہ کو اپنا محافظ سمجھا تھا، انہیں آج اس دھوکے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

دوحہ کانفرنس میں فلسطین کے مسئلے پر وہی فرسودہ باتیں کی گئیں کہ مسئلے کا حل "دو ریاستی فارمولا" ہے۔ یہ بنیادی طور پر اسرائیل کو بطور ریاست قبول کرنے کی طرف ایک قدم ہے، ورنہ عالم اسلام کے اکابرین نے ہمیشہ اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست قرار دیا تھا۔ وہ اس سرزمین پر اسرائیل کے ناجائز وجود کے کبھی بھی حامی نہیں رہے بلکہ اس کو مٹانا اپنا اہم اور ملی فریضہ سمجھتے تھے۔ آج کے حکمران ابراہام معاہدے کے نام پر گریٹر اسرائیل کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ یہ معاہدہ اسرائیل کی توسیع پسندی کو جائز قرار دینے کے مترادف ہے۔ دنیا میں اس وقت دو ہی ریاستیں ایسی ہیں، جن کا رویہ کھلی جارحیت اور توسیع پسندی پر مبنی ہے، ایک اسرائیل اور دوسرا بھارت۔ دونوں ممالک اپنے پڑوسیوں کے حقوق پامال کرتے ہیں، اقلیتوں پر ظلم کرتے ہیں اور علاقائی طاقت بننے کے لیے ہر بین الاقوامی قانون کو نظر انداز کرتے ہیں۔ اسرائیل کی غزہ اور قطر پر جارحیت ہو یا بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں بربریت، دونوں ممالک عالمی ضمیر کو چیلنج کر رہے ہیں۔

جن مسلم ممالک نے اسرائیل اور امریکہ سے خوشامدانہ تعلقات قائم کیے، آج وہ بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ انہیں اندازہ ہوچکا ہے کہ ان کی وفاداری کا کوئی صلہ نہیں ملنے والا۔ امریکہ صرف اپنے مفادات کا محافظ ہے، وہ کسی ملک کا دوست یا حامی نہیں ہوسکتا۔ جو عرب ممالک کل تک امریکی دفاعی چھتری پر فخر کرتے تھے، آج وہ اپنی حفاظت کے لیے بے بس ہوچکے ہیں۔ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ آخر اتنا عسکری سرمایہ، اربوں ڈالر کا اسلحہ، جدید ٹیکنالوجی، دفاعی معاہدات اور فوجی اتحاد کس کام کے لیے ہیں۔؟ اگر ان کا استعمال مظلوموں کی حفاظت، مسلم دنیا کے دفاع اور دشمن کو روکنے کے لیے نہیں ہو رہا تو پھر یہ سب کچھ صرف دکھاوے اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔ اسلحے کے انبار لگانے کا کوئی فائدہ نہیں، اگر دشمن کے سامنے جھکنا ہی مقدر ہو۔

دوحہ قرارداد نے ایک بار پھر اس امر کو ثابت کر دیا ہے کہ عالمِ اسلام کو صرف "بیانات" سے نہیں بچایا جا سکتا۔ اب وقت آگیا ہے کہ مسلم دنیا محض لفظوں کے ہیر پھیر سے نکل کر عملی اقدامات کرے۔ سفارتی، معاشی، عسکری اور سیاسی سطح پر اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کو واضح پیغام دیا جانا چاہیئے۔ اگر اسلامی دنیا متحد ہو جائے تو وہ عالمی نظام کو ہلا کر رکھ سکتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے اس وقت سب سے بڑی کمزوری مسلمانوں کی اپنی صفوں میں موجود ہے۔ اتحاد، قیادت، خود مختاری اور غیرت و حمیت کی کمی نے ہمیں عالمی طاقتوں کا غلام بنا دیا ہے۔ دوحہ قرارداد نے ہمیں ایک بار پھر آئینہ دکھایا ہے۔ یہ اب ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس آئینے میں اپنے اصل چہرے کو پہچان کر خود کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر تاریخ کے کوڑے دان میں دفن ہونے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: دوحہ کانفرنس ایک بار پھر ا اسرائیل اور اسرائیل کی پر اسرائیل مسلم دنیا کرتے ہیں دیا ہے کے لیے کر دیا

پڑھیں:

ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں

حاصل مطالعہ
عبدالرحیم

ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭

متعلقہ مضامین

  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ