پاکستان اور امریکہ میں تعلقات کی نئی راہیں کھل رہی ہیں،ملک خدا بخش
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251104-06-19
کراچی(3نومبر2025)ایف پی سی سی آئی انرجی کمیٹی کے کنوینر،سینئروائس چیئرمین پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن(پی پی ڈی اے)،پاکستان بزنس فورم(کراچی ریجن) کے صد اورچیئرمین ملک گروپ ملک خدا بخش نے پاکستان اور امریکا کے مابین مضبوط ہوتے ہوئے اورنئی بلندیوں کو چھونے والے تعلقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امریکی حکمران ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تاریخ میں پہلی بار فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اوروزیراعظم میاں شہبازشریف کے بارے میں مثبت خیالات کا اظہاردونوں ممالک کو مزید قریب لانے میں مدد گار ثات ہوگا۔ملک خدا بخش نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ برسوں کی سردمہری کے بعد امریکہ نے اپنی خارجہ پالیسی کا رخ تبدیل کیا ہے، جس سے نہ صرف پاک امریکہ تعلقات بحال ہو رہے ہیں بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت اور افغانستان سے تنازعات اور اسرائیل سمیت کئی معاملات میں پاکستان سے اختلافات کے باوجود دنیا کے واحد اسلامی ایٹمی ملک سے اپنے تعلقات مضبوط بنانے کا جوفیصلہ کیا ہے، پاکستان اور امریکہ میں تعلقات کی نئی راہیں کھلیں گی جو پاکستان کیلئے فائدہ مند ثابت ہوں گی۔انہوں نے کہا کہدونوں ممالک کے درمیان ایک اہم پیش رفت پاکستان اور امریکہ کے درمیان اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے پر بات چیت کاشروع ہونا ہے، جسکے تحت امریکہ پاکستان کو نہ صرف فضا سے فضا میں مار کرنے والے جدید ترین میزائل اور لڑاکا طیارے فراہم کرے گا بلکہ کم ٹیرف کے عوض نایاب معدنیات کی ترقی میں بھی مدد دے گا جو پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔ملک خدا بخش نے کہا کہ مئی 2025کی جنگ میں بھارت کو پاکستان کے ہاتھوں بری طرح شکست سے نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کو ایک طاقت کے طور پر تسلیم کیا جانے لگا ہے اور صدر ٹرمپ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جنگی صلاحیتوں اور وزیراعظم شہبازشریف کے تدبر اور دوراندیشی کی تعریف و توصیف میں مسلسل اپنے جذبات کا اظہار کررہے ہیں جبکہ ٹرمپ نے مداخلت کرکے پاک بھارت جنگ رکوائی، جس کا ذکرانہوں نے بارہاکیا ہے، ملک کی سیاسی اور فوجی قیادت ایک پیج پر ہونے کی وجہ سے امریکہ کے مفاد میں ہے کہ وہ پاکستان کو ساتھ لے کر چلے، بلاشبہ پاکستان اس وقت بڑی کامیابی سے دونوں بڑے ممالک امریکا اور چائنا کے ساتھ تعلقات متوازن رکھے ہوئے ہے۔ ملک خدا بخش نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی تعلقات کافی مستحکم رہے ہیں، جن کے تحت سال 2024 میں دوطرفہ اشیائے تجارت کا تخمینہ تقریباً 7.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملک خدا بخش نے پاکستان اور پاکستان کو نے کہا کہ
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘