بغیر لائسنس دوائیں بیچنے کا الزام، حکیم شہزاد گرفتاری کی زد میں آگئے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور کی ڈرگ کورٹ نے غیر قانونی ادویات کی فروخت اور اشتہارات کے معاملے میں اہم کارروائی کی ہے۔ عدالت نے حکیم شہزاد کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
چیئرمین ڈرگ کورٹ محمد نوید رانا نے ان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے اور ڈی پی او کو ہدایت دی کہ حکیم شہزاد کو گرفتار کرکے اگلی پیشی پر عدالت میں پیش کیا جائے۔ بتایا گیا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود وہ پیش نہ ہوئے، جس پر یہ سخت اقدام اٹھایا گیا۔
مقدمے کے متن کے مطابق حکیم شہزاد بغیر لائسنس ادویات فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پر ان کی غیر قانونی تشہیر بھی کر رہا تھا۔ ان ہی الزامات کی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی تیز کی گئی۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ حکیم شہزاد کو ہر صورت 24 ستمبر کو گرفتار کرکے پیش کیا جائے تاکہ کیس کی مزید سماعت آگے بڑھائی جا سکے۔ یہ فیصلہ غیر معیاری اور غیر قانونی ادویات کے کاروبار کے خلاف ایک سخت پیغام کے طور پر سامنے آیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حکیم شہزاد
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
گلگت بلتستان میں آئندہ ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی ماحول شدید گرم ہو گیا ہے اور خیبر پختونخوا سے مبینہ طور پر پی ٹی آئی ورکرز کو بڑی تعداد میں گلگت بلتستان لائے جانے پر مقامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
عوامی اور سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا سے سیاسی کارکنوں کو بسوں کے ذریعے گلگت بلتستان منتقل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بیرونی دباؤ کے ذریعے یہاں کے مقامی سیاسی عمل کو اثر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ انتخابی نتائج پر من مانے اثرات مرتب کیے جا سکیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آنے والے ان انتخابات کو سبوتاژ کرنا نہ صرف جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے بلکہ یہ یہاں کے پرامن سیاسی عمل کو بھی شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
مقامی سطح پر یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں جس طرح پورے پاکستان میں بے چینی، تباہی اور رکاوٹ کی سیاست کو فروغ دیا، اب وہ اسی تباہ کن نقطہ نظر کو گلگت بلتستان میں بھی دہرانا چاہتی ہے۔
سوشل میڈیا اور سیاسی مہمات میں اب یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے سامنے اب 2 واضح راستے ہیں؛ ایک طرف پی ٹی آئی کے تحت مبینہ طور پر نفرت، تقسیم، افراتفری اور عدم استحکام کی سیاست ہے، تو دوسری طرف امن، خوشحالی، اتحاد اور ملکی ترقی کا راستہ ہے۔
عوامی آراء کے مطابق گلگت بلتستان کے غیور لوگ امن اور ترقی کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ کسی بھی ایسی قوت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں جو ان کے پرسکون خطے کو تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہو۔ انتخابات کے اس نازک موقع پر عوام سے عقل مندی سے انتخاب کرنے اور ملک دشمن عزائم رکھنے والے عناصر کو مسترد کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں تاکہ خطے کا امن برقرار رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی تحریک انصاف جی بی الیکشن گلگت بلتستان