سندھ حکومت اور ایس بی سی اے حادثے کے ذمے دار ہیں‘ حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کراچی کے علاقے لیاری میں عمارت گرنے اورملبے کے نیچے دب کر جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔منصورہ سے جاری بیان میں انھوں نے مرحومین کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سندھ کے حکمران اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی حادثے کے ذمے دار ہیں، پیپلزپارٹی کی حکومت نے ملک کے سب سے بڑے شہر کو تباہ و برباد کر دیا ہے اور عوام کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ انھوں نے کہا کہ کراچی میں مختلف مافیاز حکومت کی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں،قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہوتی ہے اور کرپشن عام ہے۔ پی پی گزشتہ2دہائیوں سے صوبے پر قابض ہے، کراچی کا قابض میئر اور صوبائی حکومت سے عوام سوال پوچھ رہے ہیں کہ ان کی کارکردگی کیا ہے؟انھوں نے کہا کہ حادثے کے ذمے داران کے خلاف فوری کارروائی اور متاثرین کی داد رسی کی جائے۔دریں اثنا امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے دریائے نیلم میں مسافر گاڑی کے گرنے سے جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے تعزیت اور مرحومین کی مغفرت کے لیے دعا کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انھوں نے
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔