تنہائی کا کرب جن کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہے، وہی اس کی اذیت کو جانتے ہیں، ہمارے ارد گرد کتنے لوگ تنہائی کے آسیب کا شکار ہیں، کسی کو پتا نہیں، بس جن کا شور سوشل میڈیا پر مچ گیا، اس کے تعلق سے لوگ اپنی اپنی کہانیاں بنا کر پیش کررہے ہیں، میری دو عزیز سہیلیاں اس تنہائی کا زخم سہتے سہتے ختم ہوگئیں، ایک دوست تھیں جانی مانی صحافی شمیم اختر، جو بیوہ تھیں، انھوں نے ایک بچے کو لے کر پالا، جب وہ جوان ہو گیا تو اس کی شادی اپنی بھابی کی بھتیجی سے کروا دی۔
اس کے بعد ہم سے کہنے لگیں کہ ’’ میں اپنی زندگی ہی میں فلیٹ اپنے بیٹے کے نام کردوں گی‘‘ ہم دوستوں نے انھیں منع کیا کہ ملنا تو اسی کو ہے، لیکن تمہاری زندگی میں نہیں، میں نے انھیں مشورہ دیا کہ آپ کاغذی کارروائی مکمل کر لیں، لیکن فائل اپنے پاس رکھیں جس میں واضح طور پر لکھا ہو کہ جو کچھ بھی ہوگا آپ کے بعد ہوگا، لیکن ان خاتون نے نہ ماننا تھا، نہ مانی اور اچھے لگژری فلیٹ کی فائل لے پالک کے حوالے کر دی۔
اس نے چند ماہ بعد ہی وہ فلیٹ بیچ دیا اور اپنی ساس کے قریب ایک گھر لے لیا، شمیم اختر کے لیے 10x10 کا ایک چھوٹا سا کمرہ چھت پر بنوا دیا، وہ بہت بیمار رہنے لگی تھیں، لیکن دوپہر کے کھانے کی ذمے داری ان پر تھی، اگر کسی دن وہ نہ پکا پاتیں تو انھیں فاقہ کرنا پڑتا، رات کو زیادہ تر ان کی بہو اور بیٹا باہر چلے جاتے اور کھانا کھا کر آتے، یہ پریشان رہتیں، اب روتی رہتی تھیں کہ فلیٹ کیوں بیٹے کے نام کیا، مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔ میرا ڈپریشن ان سے مل کر اور بڑھ جاتا تھا۔ دوست احباب اگر ان کے لیے کچھ کھانے پینے کا سامان یا پھل وغیرہ لے کر جاتے توکوئی پانی کو بھی پوچھنے نہ آتا،گیٹ پر ہی سے اوپر جانے کا اشارہ مل جاتا تھا۔
شمیم کھانے پینے کی چیزوں کو چھپا دیتی تھیں، بصورت دیگر ان کی بہو لے جاتی تھی۔ شمیم کا آدھا چہرہ جھلسا ہوا تھا، جس کے بارے میں وہ یہ بتاتی تھیں کہ کالج میں پریکٹیکل کرتے ہوئے جل گیا۔ تب سبھی یہ سوچتے کہ پریکٹیکل کرتے ہوئے اسی لیے کوٹ پہنا جاتا ہے کہ اگر کچھ گرے تو کپڑے خراب نہ ہوں، میں نے کبھی شمیم سے ان کے چہرے کے متعلق بات نہ کی، دراصل مجھے کبھی یہ نہیں پسند کہ کسی کی خامیوں پر بات کی جائے۔ پھر ایک دن معروف صحافی علیم درانی نے مجھے اور اختر کو یہ بتایا کہ کالج کے زمانے میں ایک لڑکا برابر شمیم کا پیچھا کرتا تھا، پھر ایک دن اس نے اپنا رشتہ بھجوایا، جسے فوری طور پر اس لیے رد کر دیا گیا کہ وہ آوارہ تھا، پھر ایک دن شمیم کے لیے تباہی لے کر آیا۔
نیچے کا گھر تھا، کھڑکی روڈ پر کھلتی تھی، شمیم استری کر رہی تھیں کہ اس بدبخت نے تیزاب شمیم کے چہرے پہ پھینک دیا، بعد میں وہ پکڑا گیا لیکن کیا فائدہ؟ شمیم تو جیتے جی مرگئی۔ شمیم نے آخری وقت میں یہ وصیت کر دی تھی کہ اس کی میت اس کی بھانجی کے گھر سے اٹھائی جائے، ایسا ہی ہوا، وہ تنہائی کا آسیب سینے سے لگائے قبر میں جا سوئیں۔ انتقال سے دو ماہ پہلے شمیم نے مجھے فون کیا اور کہا کہ ’’ میں اگر کسی اولڈ ہوم کا پتا جانتی ہوں تو، مجھے وہاں داخل کرا دو۔‘‘ میں نے قائد اعظم کے مزار کے سامنے ایک اولڈ پیپلز ہوم ہے جس کا نام غالباً دارالسکون ہے اور اسے کرسچن سوسائٹی چلاتی ہے، میں نے دورہ کیا ہے بہت خوب انتظام ہے۔
اس وقت ایک مریض کے 17 ہزار روپے لیے جاتے تھے، میں نے وہاں کی منتظم خاتون سے بات کی تو انھوں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ وہ بیمار لوگوں کو ایڈمٹ نہیں کرتے کیونکہ ان کے پاس کسی ڈاکٹر کا انتظام نہیں ہے۔ بعد میں خیال آیا کہ اگر اتنا اچھا اولڈ ہوم ہے تو کسی ڈاکٹر کا انتظام بھی کر لیتے۔ ہو سکتا ہے کوئی ڈاکٹر بغیر پیسے لیے ہفتے میں ایک بار وقت دے سکتا تھا۔
دوسری دوست جو تنہائی کا شکار ہو کر اس دنیا سے گئیں وہ عبداللہ گرلز کالج کی ایسوسی ایٹ پروفیسر تھیں جو شپ اونرز کالج کے پاس مردہ پائی گئی تھیں، ایدھی والوں نے فیس بک پر ان کی تصویر لگا دی تھی اور وہ لاوارث لاش سمجھ کر دفنانے والے تھے کہ ان کے چھوٹے بھائی کو خبر ہو گئی۔ اس نے لاش وصول کی، مجھے لوگوں کی بے حسی پر رونا آیا، میں نے پچھلے دنوں ان پر ایک کالم بھی لکھا تھا، لیکن افسوس یہ ہوا کہ ان کی المناک موت پر سوشل میڈیا بالکل خاموش تھا، شاید اس لیے کہ ان کا تعلق شوبز کی دنیا سے نہیں تھا۔ ورنہ اگر وہ کوئی اداکارہ ہوتیں تو نجانے فیس بک پہ کتنی کہانیاں آ چکی ہوتیں، لیکن وہ تو پروفیسر تھیں، ان سے کون اپنا تعلق بتاتا۔
تنہائی کے کرب کی ایک اور خاتون شکار ہوئیں، عائشہ خان جو کچھ عرصہ پہلے تک عائشہ ریاست کے نام سے ڈراموں میں کام کرتی تھیں، پھر کب انھوں نے خان کا لاحقہ اپنے نام کے ساتھ لگا لیا اس کا پتا نہیں چلا۔ اس میں شک نہیں کہ عائشہ کی موت بہت المناک ہوئی، لیکن اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ ان کی تنہائی تھی، سب کچھ اپنے بیٹے کے سپرد کر کے تنہائی کا عذاب انھوں نے جھیلا، عائشہ خان کی موت کی خبر جیسے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔
ان کے جاننے والوں کی تحریروں کے تانتے بندھ گئے، پتا نہیں کہاں کہاں سے ان کے واقف کار نکل آئے اور ہر ایک کی کہانی الگ، کوئی اپنی تحریر میں بتا رہا ہے کہ ان کے دو بیٹے تھے، ایک بیٹا ملائیشیا میں ہے دوسرا اسلام آباد میں چک شہزاد میں۔ فیس بک پر بھی لوگ رواں ہوگئے، کوئی بتا رہا ہے ان کے تین بچے تھے، دو بیٹے، ایک بیٹی لیکن بیٹی کا کہیں ذکر نہیں۔ کوئی لکھ رہا ہے کہ ان کے بیٹوں کے نام احمد اور احمر تھے، کوئی لکھ رہا ہے کہ ان کے بیٹوں کے نام ریحان اور کامران ہیں۔ کسی نے تصحیح کرنے کی کوشش نہیں کی، شاید ان کے لواحقین کسی بھی تحریر کی تصدیق یا تردید کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کر رہے۔
جو بھی ہوا بہت برا ہوا، عائشہ نے بڑی ذمے داری سے بچوں کو پالا لیکن وہ اپنا اپنا حصہ لے کر الگ ہو گئے، کسی کو نہ ماں کی تنہائی کا خیال تھا، نہ رشتے کا، شادی کے بعد عموماً لڑکے بدل جاتے ہیں، وہ بیوی کی نظر سے دنیا کو دیکھنے لگتے ہیں، بہوئیں چاہتی ہیں کہ ساس مر جائے، نندیں ہیں تو وہ بھی جہنم واصل ہو جائیں، لیکن وہ یہ بھول جاتی ہیں کہ دنیا مکافات عمل ہے، وہ بھی ایک دن ساس بنیں گی، لیکن نہ بیٹوں کو خدا کا خوف ہوتا ہے نہ ان کی بیویوں کو۔ عائشہ خان کی موت بہت عبرت ناک ہے، ایک بے بس ماں کی موت جو اپنی اولادوں سے جیتے جی محروم ہو گئی، جو فون کالز کا انتظار کرتی تھی، پھر ناامید ہو کر خود فون کرتی تھی تو جواب نہیں ملتا تھا، جواب ملتا تو بیٹا کہتا ’’ بس دو منٹ دیجیے، ابھی فون کرتا ہوں۔‘‘ اور یہ دو منٹ کبھی دو گھنٹے اور کبھی دو دن میں تبدیل ہو جاتے، لیکن فون نہ آتا، کچھ عرصہ پہلے انھوں نے نئی گاڑی خریدی اور مٹھائی لے کر طلعت حسین کے گھر پہنچیں، وہاں اپنے دل کی بھڑاس نکالی، خوب روئیں اور اس بات کا اعتراف کیا کہ زندگی میں انھوں نے بیٹوں کو جائیداد دے کر بہت بڑی غلطی کی ہے۔ اب جو سنا ہے کہ ان کا ایک بیٹا اسلام آباد سے آیا ہے میت وصول کرنے۔
ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ ہمسایوں کو پہلے خیال نہیں آیا کہ وہ نظر نہیں آ رہی ہیں، ایک صاحب جنھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی بیگم سے عائشہ کے بہت گہرے تعلقات تھے انھوں نے نوٹس نہیں لیا، ان کے بقول وہ تین دن تک کھانا لے کر جاتے رہے لیکن دروازہ نہیں کھلا، ایسی صورت میں انھیں پولیس کو اطلاع دینی چاہیے تھی، لیکن وہ تین دن تک کھانا واپس لاتے رہے اور پھر سات دن بعد جب فلیٹ سے تعفن اٹھنے لگا تب پولیس کو اطلاع دی، اور پھر ان کی گھریلو ملازمہ کہاں تھی۔
اس کی بھی کوئی خبر نہیں۔ مجھے شکایت ہے تو اہل محلہ سے، ایک جانی مانی خاتون جب مسلسل منظر سے غائب ہیں تو ان کا نوٹس لینا چاہیے تھا۔ کسی نے لکھا ’’اچھا ہوا عائشہ خان مرگئیں۔‘‘ میں بھی یہی کہتی ہوں کہ اچھا ہوا عائشہ مرگئیں۔ جیتی رہتیں تو نہ جانے تنہائی کے کتنے کرب انھیں سہنے پڑتے، لوگوں کی بے حسی کا اس سے بڑا ثبوت اورکیا ہوگا کہ لوگوں کی بغل میں ایک عورت مر گئی اور انھیں خبر نہ ہوئی، پتا نہیں معاشرے کو کیا ہوتا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تنہائی کا پتا نہیں انھوں نے کہ ان کے ہے کہ ان لیکن وہ ہیں کہ ایک دن کی موت رہا ہے کے نام
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔