وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا مشن جاری، ملکی تاریخ کا سب سے بڑا یوتھ لون پروگرام شروع کیا ہے۔رانا مشہود احمد خان
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 28 جون2025ء) چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے کہا ہے کہ وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں مواقع فراہم کر رہے ہیں ،نوجوانوں کو بااختیار بنانا حکومتی ترجیحات میں شامل ہے ،پاکستان کی نوجوان نسل میں بہت ٹیلنٹ موجود ہے ،نوجوان آئی ٹی اور کھیل سمیت دیگر میں اپنا لوہا منوا رہے ہیں ،یوتھ ہب پورٹل کے ذریعے نوجوانوں کو سکالر شپ دے رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی اکیڈمک ایسوسی ایشن اور لاہور چیمبر کے اشتراک سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرصدر لاہور چیمبر میاں ابوذر شاد، نائب صدر شاہد نذیر چوہدری اور چیئرمین پاکستان آئی ٹی اکیڈمک ایسوسی ایشن وہاب یونس سمیت تاجر برادری کی بڑی تعداد موجود تھی۔(جاری ہے)
رانا مشہود نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا روشن مستقبل ہیں اور ان کی فلاح، فنی تربیت اور روزگار کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئی ٹی برآمدات کو 25 ارب ڈالر تک لے جانے کے ہدف پر کام کر رہی ہے جبکہ آن لائن ارننگ کے شعبے میں نوجوانوں کو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت 8 لاکھ سے زائد نوجوان بیرونِ ملک باعزت روزگار حاصل کر رہے ہیں جبکہ حکومت رواں سال یہ تعداد 15 لاکھ تک لے جانے کی خواہاں ہے، اس کے ساتھ ہی دسمبر میں پاکستان کی پہلی ''یوتھ گیمز'' کے انعقاد کا اعلان بھی کیا تاکہ نوجوانوں کو صحت مندانہ سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جا سکے۔چیئرمین یوتھ پروگرام نے ''آپریشن بنیان المرصوص''کے دوران نوجوانوں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی دفاعی صلاحیتوں نے پاکستان کا وقار دنیا بھر میں بلند کیا، بھارت کی پاکستان مخالف سرگرمیوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے پانی بند کرنے کی کوشش کی تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔انہوں نے خوشخبری دی کہ پاکستان آئندہ برس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کرے گاجو ملک کی خارجہ پالیسی کی بڑی کامیابی ہے، بجٹ سے متعلق گفتگو میں انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ متوازن اور عوام دوست ہے جبکہ آئندہ سال مزید عوام کو ریلیف دینے کیلئے بہتر بجٹ پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت دو سال میں آئی ایم ایف سے نجات حاصل کر لے گی،تاجر برادری کو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے رانا مشہود نے کہا کہ ان کے جائزمطالبات مشاورت سے پورے کئے جائیں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین آئی ٹی اکیڈمک ایسوسی ایشن وہاب یونس نے نیوٹیک کے منصوبوں میں شمولیت کے لیے تعاون کی درخواست کی تاکہ نوجوانوں کو جدید ہنر سکھا کر روزگار کے قابل بنایا جا سکے۔تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں اور نوجوانوں کے لیے خصوصی تربیتی پروگرامز میں اشتراک کے امکانات پر مشاورت کی گئی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نوجوانوں کو رانا مشہود نے کہا کہ انہوں نے رہے ہیں آئی ٹی
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔