شہباز شریف ٹرمپ کو امن کا علمبردار قرار دیا،ملاقات کا اعلامیہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250927-01-17
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ امن کے علم بردار ہیں، ان کی قیادت میں پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ وزیراعظم آفس کے جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ملاقات کی۔ وزیراعظم نے صدر ٹرمپ
کو امن کا علمبردار قرار دیتے ہوئے عالمی سطح پر تنازعات کے خاتمے کے لیے ان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا اور پاک بھارت سیزفائر میں ان کی جرأت مندانہ قیادت اور فیصلہ کن کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے جنوبی ایشیا میں ایک بڑے سانحے کو ٹالا جا سکا۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششوں کی تعریف کی، بالخصوص نیویارک میں مسلم دنیا کے اہم رہنماؤں کو مدعو کر کے امن کے قیام کے لیے جامع مشاورت کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ وزیراعظم نے پاکستان اور امریکا کے درمیان رواں سال ہونے والے ٹیرف معاہدے پر بھی صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاک امریکا دیرینہ شراکت داری کو سراہتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں یہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ اس موقع پر انہوں نے امریکی کمپنیوں کو پاکستان کے زراعت، آئی ٹی، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان خطے کی سلامتی اور انسداد دہشتگردی پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر اعظم نے انسداد دہشتگردی میں پاکستان کے کردار کی توثیق پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور سیکورٹی و انٹیلی جنس کے شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے پر زور دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک