یونان کے وزیر اعظم کیریاکوس مِتسوتاکِس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں خبردار کیا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو شدید خطرات میں ڈال رہی ہے اور اس کے نتیجے میں اسرائیل عالمی تنہائی سے دوچار ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد آج دنیا بھر میں سب سے زیادہ مسلح جنگیں ہو رہی ہیں اور ایسے حالات میں عالمی برادری پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فوری اقدامات کرے۔

غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مِتسوتاکِس نے زور دیا کہ عام شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی بھی فوجی ہدف، چاہے وہ کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو، ہزاروں بچوں کی شہادتیں، دس لاکھ سے زائد فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور انسانی المیے کو جواز فراہم نہیں کر سکتا۔

یونانی وزیر اعظم نے واضح کیا کہ ان کا ملک اسرائیل کے تحفظ کے حق کی حمایت کرتا ہے، مگر ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر غزہ میں جارحانہ پالیسی جاری رہی تو یہ اسرائیل کے اپنے مفاد کے خلاف ہوگا اور دنیا بھر میں اس کے حامیوں کی حمایت بتدریج کمزور پڑ جائے گی۔

انھوں نے دو ریاستی حل پر زور دیتے ہوئے جنگ بندی اور غزہ میں بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا تاکہ مزید تباہی اور انسانی جانوں کا نقصان روکا جا سکے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم