بھارتی حکومت لداخ خطے میں جابرانہ کارروائیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کرے، آغا سید حسن
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
ذرائٰع کے مطابق آغا سید حسن نے بڈگام میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب میں کہا کہ لداخ کے عوام گزشتہ چھ برس سے اپنے جائز اور بنیادی آئینی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن موسوی الصفوی نے لداخ خطے کے علاقے لیہہ میں بھارتی فورسز کی طرف سے نہتے مظاہرین پر طاقت کے وحشیانہ استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے جابرانہ کارروائیوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائٰع کے مطابق آغا سید حسن نے بڈگام میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب میں کہا کہ لداخ کے عوام گزشتہ چھ برس سے اپنے جائز اور بنیادی آئینی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں، جن میں ریاستی درجہ، بااختیار اسمبلی (مقننہ) اور چھٹے شیڈول میں شمولیت شامل ہیں، مگر بھارتی حکومت ان مطالبات کو مسلسل نظرانداز کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا خطے کے لوگوں نے مطالبات پر زور دینے کیلئے بھوک ہڑتالیں بھی کیں لیکن بھوک ہڑتال پر بیٹھے لوگوں کو بھی گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی بے حسی اور تین برس کے بے نتیجہ مذاکرات کے بعد لوگ سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور ہوئے۔آغا سید حسن نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ جابرانہ کارروائیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند اور لوگوں کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے ان کے آئینی و سیاسی حقوق بحال کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔