سندھ بلڈنگ ،وسطی کے رہائشی پلاٹوں پر کمرشل تعمیرات بلا روک ٹوک جاری
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
پلاٹ نمبر ST4A6/20EBالمعروف سراج ہاؤس پر بینک کی تعمیر غیرقانونی قرار
ڈائریکٹر سید ضیاء کی خلاف ضابطہ تعمیرات منہدم کرنے کی علاقہ مکینوں کو یقین دہانی
ڈائریکٹر وسطی سید ضیاء کی ملی بھگت سے رہائشی پلاٹوں پر کمرشل تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے۔ فیڈرل بی ایریا کے رہائشی پلاٹ نمبر ST4A6/20EB، جو "سراج ہاؤس” کے نام سے معروف ہے ، پر بغیر منظوری بینک کی تعمیر تیزی سے کی جارہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق، گلبرگ ٹاؤن کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں واقع مذکورہ پلاٹ پر ایک نامعلوم بینک نے بلڈنگ کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیراتی کام شروع کر رکھا ہے ۔ مقامی رہائشیوں کی شکایات پر ایس بی سی اے کے اہلکاروں نے موقع کا معائنہ کیا تو تعمیراتی کام غیرقانونی پایا گیا۔ جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے علاقہ مکینوں کا کہنا ہے ہم نے ڈائریکٹر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سید ضیاء سے رابطہ کیا ہے انکا کہنا ہے کہ "فیڈرل بی ایریا ایک باقاعدہ رہائشی ایریا ہے ، یہاں کسی بھی قسم کی تجارتی تعمیر، خاص طور پر بینک جیسی عمارت کے لیے ماسٹر پلان اور بلڈنگ کوڈز کے مطابق اجازت لازمی ہے ۔ بغیر اجازت تعمیر ہونے والی یہ عمارت مکمل طور پر غیرقانونی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے متعلقہ بینک کی انتظامیہ کو ہٹانے کا نوٹس جاری کر دیا ہے اور اگر قوانین کی خلاف ورزی جاری رہی تو عمارت کو نشان زدہ (ڈینجرس ڈیکلیئر) قرار دے کر اسے منہدم کردیاجائے گا۔ ہم ایسے تمام غیرقانونی تعمیراتی کاموں کے خلاف سخت کارروائی کریں گے ۔مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ رہائشی علاقے میں بینک بننے سے ٹریفک کے مسائل میں اضافہ، شور اور سیکیورٹی کے خدشات پیدا ہوں گے ۔ علاقہ مکینوں نے وزیر بلدیات سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔واضح رہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کراچی میں عمارتوں کی تعمیر کے قوانین کی نگرانی اور انفورسمنٹ کی ذمہ دار اتھارٹی ہے ۔مگر دلچسپ امر یہ ہے کہ مذکورہ پلاٹ میں تعمیراتی کام بلا روک ٹوک جاری ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔