Express News:
2026-06-03@02:38:35 GMT

غزہ میں کرنسی بھی مر گئی ہے

اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT

غزہ میں اب چند صحافی ، ولاگرز اور فری لانسر وڈیو گرافر ہی زندہ ہیں اور وہ بھی بھوک ، پیاس اور دربدری کی جکڑ بندی میں ہیں۔انھی میں مقامی صحافی ہانی قرموت بھی شامل ہیں۔کچھ دن پہلے ان کی بپتا پڑھ کے اندازہ ہوا کہ عذاب بس اتنا نہیں ہے کہ کسی محصور انسان کو پناہ یا خشک روٹی کا ٹکڑا بھی نہ مل سکے۔بلکہ کوئی شخص اس قابل بھی نہ رہے کہ کچھ خرید سکے۔

مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی کرنسی شیکل ہی استعمال ہوتی ہے اور اکتوبر دو ہزار تئیس کے بعد سے شیکل کی بھی ناکہ بندی ہو چکی ہے۔مسلسل بمباری اور بے دخلی کے سبب انٹرنیٹ بینکاری اور اے ٹی ایم سسٹم کب کے نابود ہو چکے ۔

صحافی ہانی قرموت لکھتے ہیں کہ غزہ میں آپ کسی کا بھی بٹوہ کھول کے دیکھ لیں اس میں سے شیکل کے چند مڑے تڑے خستہ نوٹ نکلیں گے جن کے پھٹے ہوئے ٹکڑے ٹیپ سے جوڑ کے استعمال کرنے کی کوشش بھی بے سود ہے۔

سات اکتوبر دو ہزار تئیس سے پہلے تک تین امریکی ڈالر مالیت کے برابر کا دس شیکل کا نوٹ روزمرہ لین دین میں سب سے زیادہ استعمال ہوتا تھا۔تازہ نوٹ سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے بعد سے آ نہیں رہے اور پرانے نوٹ یا تو شدید خستہ ہیں یا مسلسل گرد و غبار سے اتنے میلے ہو چکے ہیں کہ بمشکل پہچانے جاتے ہیں۔

کرنسی کی اس قدر کمی ہے کہ اگر آپ دوکاندار کو اسی شیکل مالیت کی شے خریدنے کے لیے سو شیکل کا نوٹ دیں تو اس کے پاس بقایا واپس کرنے کے لیے بیس شیکل بھی نہیں ہوتے۔چنانچہ اب کچھ لوگوں نے ایسے اسٹال کھول لیے ہیں جہاں پھٹے پرانے نوٹوں کی مرمت کا کام ہوتا ہے۔

چونکہ بینکنگ سسٹم کا ہی وجود ناپید ہو گیا اس لیے فلسطینی اتھارٹی اور بین الاقوامی ایجنسیوں کے بچے کھچے مقامی کارکنوں کو بھی ایک عرصے سے تنخواہیں نہیں پہنچ پا رہیں۔

 بیرونِ ملک مقیم فلسطینی غزہ میں پھنسے پیاروں کو پیسے تو بھیجنا چاہتے ہیں مگر کیسے بھیجیں۔ایک ہی راستہ ہے۔یعنی بلیک مارکیٹ چینل۔مگر سفاکی کی حالت یہ ہے کہ اگر آپ مقبوضہ غربِ اردن کے شہر رملہ یا پھر قاہرہ سے ایک ہزار شیکل ( تین سو ڈالر ) غزہ بھیجنا چاہیں تو دلال اس میں سے پانچ سو شیکل کمیشن کاٹ لیتا ہے۔

وہ عمارتیں جن میں کبھی بینک آف فلسطین ، قاہرہ عمان بینک ، القدس بینک کی شاخیں ہوا کرتی تھیں ملبے کا ڈھیر ہیں۔ان بینکوں کے بورڈ بھی ملبے میں دب چکے ہیں۔یعنی اکاؤنٹ ہولڈرز کا ریکارڈ اور بینک میں جمع رقم بھی مر چکی ہے۔بینک کسٹمرز کے پاس صرف موبائیل فون میں اپنے اکاؤنٹس کی پرانی تفصیلات ہیں مگر انٹرنیٹ نہ ہونے کے سبب یہ فون بھی پتھر کا ٹکڑا ہیں۔گویا بینک بیلنس ہندسوں کی تصوراتی شکل میں تو موجود ہے مگر ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ باقی دنیا میں ڈجیٹل پیپر لیس کرنسی تیزی سے کاغذی کرنسی کا تختہ الٹ رہی ہے مگر ڈجیٹل ٹیکنالوجی سے لیس اسرائیلی اسلحے کے استعمال کے سبب غزہ خود بخود پیپر لیس دور میں داخل ہو گیا ہے۔ جس شخص کے ہاتھ میں جو شے تباہ ہونے سے اب تک بچی ہوئی ہے وہی آپس میں بارٹر ہو رہی ہے۔ ایک کلو دال کے بدلے دو کلو آٹا ، ایک بچے کی جیکٹ چند پیازیں دے کر خرید لو۔ایک بوتل مٹی کے تیل کے عوض پاؤ بھر چینی لے لو وغیرہ وغیرہ۔

مال کے بدلے مال کی بنیاد پر چلنے والی معیشت میں لوگ اپنی اشیا کی ویلیو بھی خود طے کرتے ہیں اور یہ ویلیو ہر نئے دن کے ساتھ کم زیادہ ہوتی رہتی ہے۔جو اشیا کل تک لوگ بے کار سمجھ کر پھینک دیتے تھے۔وہی اشیا کچرے کے ڈھیر سے دوبارہ نکال کے کپڑے سے صاف کر کے ضرورت کی کسی اور معمولی شے کے بدلے برائے فروخت ہیں۔حتی کہ ٹوٹے پھوٹے کھلونوں کی بھی مانگ بڑھ گئی ہے کیونکہ یہ ناکارہ کھلونے بھی فاقہ زدہ بچوں کی توجہ بٹانے کے لیے قیمتی آئٹمز میں شمار ہیں۔

جب نظامِ زندگی تتر بتر ہو جائے۔جب کرنسی کا دم گھٹ جائے۔جب جینے کے لیے عزتِ نفس قربان کرنا پڑے۔تب ایک نیا نارمل جنم لینے لگتا ہے۔اقدار بس شکل بدل لیتی ہیں۔حس اور بے حسی سوکن نہیں رہتیں ، بہنیں بن جاتی ہیں۔

غزہ کے لوگ صرف تکلیف میں نہیں ہیں بلکہ تکلیفوں کی خوراک بن رہے ہیں۔خواب تو رہے ایک طرف۔ لوگ تو امید باندھنے سے بھی ڈرنے لگے ہیں۔مستقبل کا تصور برس ، مہینے ، ہفتے سے سکڑتے سکڑتے اگلا سورج دیکھنے تک محدود ہو گیا ہے۔

ایک عورت پرامید تھی کہ اس کی کانوں کی بالیاں کوئی خرید لے گا اور یوں دو چار روز کے راشن کا انتظام ہو جائے گا۔مگر کوئی یہ بالیاں آخر کیوں خریدے گا۔گاہک بھی تو بھوکا پیاسا ہے۔غزہ کی کمر کسی مقامی معاشی پالیسی یا بدانتظامی نے نہیں بلکہ مضبوط عالمی معیشتوں نے مل کے توڑی ہے۔نسل کشی کے لیے بندوق ضروری نہیں۔بس زندہ رہنے کی صلاحیت اور امید چھین لینا کافی ہے۔

 یہ پیپر لیس بارٹر معیشت بھی آخر کب تک سانس لے گی۔ایک دن نہ کوئی گاہک رہے گا نہ تاجر۔

دوسری جانب اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے کی فلسطینی اتھارٹی کو حاصل بینکاری سہولتیں بھی جون کے آخری ہفتے میں معطل کر دیں۔مقبوضہ فلسطینی بینک اسرائیل کے ہپولیم بینک اور اسرائیل ڈسکاؤنٹ بینک کے ذریعے باقی دنیا سے لین دین کرتے ہیں۔مگر جب سے کچھ یورپی ممالک نے فلسطینی مملکت تسلیم کرنے کا عندیہ دیا ہے اسرائیل نے اتھارٹی سے مالیاتی ٹرانزیکشن کا ناتا معطل کر دیا ہے۔ ایک برس میں یہ دوسری بار ہوا ہے۔

اس پابندی سے نہ صرف اتھارٹی کو بیرونِ ملک سے ملنے والی امداد کی وصولی متاثر ہو رہی ہے بلکہ عام فلسطینی شہری بھی براہِ راست سزا بھگت رہے ہیں۔کاروباری لوگ بیرونی کسٹمرز سے لین دین نہیں کر پا رہے بلکہ بیرونِ ملک مقیم عزیزوں کی بھیجی ہوئی رقم سے بھی محروم ہو رہے ہیں۔

خدا حریف ضرور دے مگر چچھورے یا گھٹیا دشمن سے دشمن کو بھی بچائے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.

com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی