غزہ میں کرنسی بھی مر گئی ہے
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
غزہ میں اب چند صحافی ، ولاگرز اور فری لانسر وڈیو گرافر ہی زندہ ہیں اور وہ بھی بھوک ، پیاس اور دربدری کی جکڑ بندی میں ہیں۔انھی میں مقامی صحافی ہانی قرموت بھی شامل ہیں۔کچھ دن پہلے ان کی بپتا پڑھ کے اندازہ ہوا کہ عذاب بس اتنا نہیں ہے کہ کسی محصور انسان کو پناہ یا خشک روٹی کا ٹکڑا بھی نہ مل سکے۔بلکہ کوئی شخص اس قابل بھی نہ رہے کہ کچھ خرید سکے۔
مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی کرنسی شیکل ہی استعمال ہوتی ہے اور اکتوبر دو ہزار تئیس کے بعد سے شیکل کی بھی ناکہ بندی ہو چکی ہے۔مسلسل بمباری اور بے دخلی کے سبب انٹرنیٹ بینکاری اور اے ٹی ایم سسٹم کب کے نابود ہو چکے ۔
صحافی ہانی قرموت لکھتے ہیں کہ غزہ میں آپ کسی کا بھی بٹوہ کھول کے دیکھ لیں اس میں سے شیکل کے چند مڑے تڑے خستہ نوٹ نکلیں گے جن کے پھٹے ہوئے ٹکڑے ٹیپ سے جوڑ کے استعمال کرنے کی کوشش بھی بے سود ہے۔
سات اکتوبر دو ہزار تئیس سے پہلے تک تین امریکی ڈالر مالیت کے برابر کا دس شیکل کا نوٹ روزمرہ لین دین میں سب سے زیادہ استعمال ہوتا تھا۔تازہ نوٹ سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے بعد سے آ نہیں رہے اور پرانے نوٹ یا تو شدید خستہ ہیں یا مسلسل گرد و غبار سے اتنے میلے ہو چکے ہیں کہ بمشکل پہچانے جاتے ہیں۔
کرنسی کی اس قدر کمی ہے کہ اگر آپ دوکاندار کو اسی شیکل مالیت کی شے خریدنے کے لیے سو شیکل کا نوٹ دیں تو اس کے پاس بقایا واپس کرنے کے لیے بیس شیکل بھی نہیں ہوتے۔چنانچہ اب کچھ لوگوں نے ایسے اسٹال کھول لیے ہیں جہاں پھٹے پرانے نوٹوں کی مرمت کا کام ہوتا ہے۔
چونکہ بینکنگ سسٹم کا ہی وجود ناپید ہو گیا اس لیے فلسطینی اتھارٹی اور بین الاقوامی ایجنسیوں کے بچے کھچے مقامی کارکنوں کو بھی ایک عرصے سے تنخواہیں نہیں پہنچ پا رہیں۔
بیرونِ ملک مقیم فلسطینی غزہ میں پھنسے پیاروں کو پیسے تو بھیجنا چاہتے ہیں مگر کیسے بھیجیں۔ایک ہی راستہ ہے۔یعنی بلیک مارکیٹ چینل۔مگر سفاکی کی حالت یہ ہے کہ اگر آپ مقبوضہ غربِ اردن کے شہر رملہ یا پھر قاہرہ سے ایک ہزار شیکل ( تین سو ڈالر ) غزہ بھیجنا چاہیں تو دلال اس میں سے پانچ سو شیکل کمیشن کاٹ لیتا ہے۔
وہ عمارتیں جن میں کبھی بینک آف فلسطین ، قاہرہ عمان بینک ، القدس بینک کی شاخیں ہوا کرتی تھیں ملبے کا ڈھیر ہیں۔ان بینکوں کے بورڈ بھی ملبے میں دب چکے ہیں۔یعنی اکاؤنٹ ہولڈرز کا ریکارڈ اور بینک میں جمع رقم بھی مر چکی ہے۔بینک کسٹمرز کے پاس صرف موبائیل فون میں اپنے اکاؤنٹس کی پرانی تفصیلات ہیں مگر انٹرنیٹ نہ ہونے کے سبب یہ فون بھی پتھر کا ٹکڑا ہیں۔گویا بینک بیلنس ہندسوں کی تصوراتی شکل میں تو موجود ہے مگر ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ باقی دنیا میں ڈجیٹل پیپر لیس کرنسی تیزی سے کاغذی کرنسی کا تختہ الٹ رہی ہے مگر ڈجیٹل ٹیکنالوجی سے لیس اسرائیلی اسلحے کے استعمال کے سبب غزہ خود بخود پیپر لیس دور میں داخل ہو گیا ہے۔ جس شخص کے ہاتھ میں جو شے تباہ ہونے سے اب تک بچی ہوئی ہے وہی آپس میں بارٹر ہو رہی ہے۔ ایک کلو دال کے بدلے دو کلو آٹا ، ایک بچے کی جیکٹ چند پیازیں دے کر خرید لو۔ایک بوتل مٹی کے تیل کے عوض پاؤ بھر چینی لے لو وغیرہ وغیرہ۔
مال کے بدلے مال کی بنیاد پر چلنے والی معیشت میں لوگ اپنی اشیا کی ویلیو بھی خود طے کرتے ہیں اور یہ ویلیو ہر نئے دن کے ساتھ کم زیادہ ہوتی رہتی ہے۔جو اشیا کل تک لوگ بے کار سمجھ کر پھینک دیتے تھے۔وہی اشیا کچرے کے ڈھیر سے دوبارہ نکال کے کپڑے سے صاف کر کے ضرورت کی کسی اور معمولی شے کے بدلے برائے فروخت ہیں۔حتی کہ ٹوٹے پھوٹے کھلونوں کی بھی مانگ بڑھ گئی ہے کیونکہ یہ ناکارہ کھلونے بھی فاقہ زدہ بچوں کی توجہ بٹانے کے لیے قیمتی آئٹمز میں شمار ہیں۔
جب نظامِ زندگی تتر بتر ہو جائے۔جب کرنسی کا دم گھٹ جائے۔جب جینے کے لیے عزتِ نفس قربان کرنا پڑے۔تب ایک نیا نارمل جنم لینے لگتا ہے۔اقدار بس شکل بدل لیتی ہیں۔حس اور بے حسی سوکن نہیں رہتیں ، بہنیں بن جاتی ہیں۔
غزہ کے لوگ صرف تکلیف میں نہیں ہیں بلکہ تکلیفوں کی خوراک بن رہے ہیں۔خواب تو رہے ایک طرف۔ لوگ تو امید باندھنے سے بھی ڈرنے لگے ہیں۔مستقبل کا تصور برس ، مہینے ، ہفتے سے سکڑتے سکڑتے اگلا سورج دیکھنے تک محدود ہو گیا ہے۔
ایک عورت پرامید تھی کہ اس کی کانوں کی بالیاں کوئی خرید لے گا اور یوں دو چار روز کے راشن کا انتظام ہو جائے گا۔مگر کوئی یہ بالیاں آخر کیوں خریدے گا۔گاہک بھی تو بھوکا پیاسا ہے۔غزہ کی کمر کسی مقامی معاشی پالیسی یا بدانتظامی نے نہیں بلکہ مضبوط عالمی معیشتوں نے مل کے توڑی ہے۔نسل کشی کے لیے بندوق ضروری نہیں۔بس زندہ رہنے کی صلاحیت اور امید چھین لینا کافی ہے۔
یہ پیپر لیس بارٹر معیشت بھی آخر کب تک سانس لے گی۔ایک دن نہ کوئی گاہک رہے گا نہ تاجر۔
دوسری جانب اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے کی فلسطینی اتھارٹی کو حاصل بینکاری سہولتیں بھی جون کے آخری ہفتے میں معطل کر دیں۔مقبوضہ فلسطینی بینک اسرائیل کے ہپولیم بینک اور اسرائیل ڈسکاؤنٹ بینک کے ذریعے باقی دنیا سے لین دین کرتے ہیں۔مگر جب سے کچھ یورپی ممالک نے فلسطینی مملکت تسلیم کرنے کا عندیہ دیا ہے اسرائیل نے اتھارٹی سے مالیاتی ٹرانزیکشن کا ناتا معطل کر دیا ہے۔ ایک برس میں یہ دوسری بار ہوا ہے۔
اس پابندی سے نہ صرف اتھارٹی کو بیرونِ ملک سے ملنے والی امداد کی وصولی متاثر ہو رہی ہے بلکہ عام فلسطینی شہری بھی براہِ راست سزا بھگت رہے ہیں۔کاروباری لوگ بیرونی کسٹمرز سے لین دین نہیں کر پا رہے بلکہ بیرونِ ملک مقیم عزیزوں کی بھیجی ہوئی رقم سے بھی محروم ہو رہے ہیں۔
خدا حریف ضرور دے مگر چچھورے یا گھٹیا دشمن سے دشمن کو بھی بچائے۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔
ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟
یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔
چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔
آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔
’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔
ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔
بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔
قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔
سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔
50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹرچند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔
بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔
یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیےایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔
عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟
مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘
ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل