گوگل کا برطانیہ میں 5 ارب پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن: امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے برطانیہ کی مصنوعی ذہانت (AI) معیشت میں 5 ارب پاؤنڈ (تقریباً 6.8 ارب ڈالر) کی بھاری سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا ہے ۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق گوگل نے کہاکہ کمپنی ہرٹ فورڈشائر کے علاقے والتھم کراس میں نیا ڈیٹا سینٹر قائم کرے گی جو لندن کے قریب واقع ہے۔ یہ منصوبہ تیزی سے بڑھتی ہوئی مصنوعی ذہانت اور گوگل کلاؤڈ سروسز کی طلب کو پورا کرنے کے لیے شروع کیا جا رہا ہے۔
ڈیٹا سینٹر کے قیام سمیت یہ سرمایہ کاری اگلے دو برسوں میں کی جائے گی، جس میں سرمایہ جاتی اخراجات، تحقیق و ترقی اور انجینئرنگ کے منصوبے شامل ہیں، اس سرمایہ کاری میں گوگل کی تحقیقاتی کمپنی ڈیپ مائنڈ بھی شامل ہے جو صحت اور سائنس کے شعبے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق اس اقدام سے برطانوی کمپنیوں کے لیے سالانہ 8 ہزار 250 ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔
مزید برآں گوگل نے برطانیہ میں توانائی کی فراہمی کو مستحکم کرنے اور گرین انرجی کے فروغ کے لیے تیل و گیس کی عالمی کمپنی شیل کے ساتھ ایک معاہدہ بھی کیا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج برطانیہ کے دورے پر پہنچ رہے ہیں جہاں ان کے قیام کے دوران 10 ارب ڈالر سے زائد کے اقتصادی معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے