مال بردار ٹرین کی 13 بوگیاں جھمپیر کے قریب پٹڑی سے اتر گئیں، دونوں ٹریک بند
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
کراچی سے یوسف والا جانے والی مال بردار ٹرین کی 13 بوگیاں میٹنگ اسٹیشن کے قریب پٹڑی سے اتر گئیں، جس کے باعث اَپ ٹریک بری طرح متاثر ہونے سے عارضی طور پر معطل ہوگیا۔
ریلوے حکام کے مطابق مال بردار ٹرین کوئلہ لیکر کراچی سے یوسف والا جا رہی تھی، حادثے کے بعد ٹرینوں کی آمدورفت معطل ہوئی جبکہ مسافر ٹرینوں کو مختلف مقامات پر روکا گیا۔ قراقرم، ملت، کراچی ایکسپریس، تیزگام اور گرین لائن سمیت دیگر ٹرینوں کی روانگی متاثر ہوئی۔
امدادی کاموں کے لیے ریلوے عملہ اور کرین طلب کر لی گئی، رات سے ٹریک کی بحالی میں کئی گھنٹے لگ گئے۔
مال بردار بوگیوں کی بحالی کے لیے ڈاؤن ٹریک پر کرین موجود ہونے پر اَپ اور ڈاون ٹریک دونوں بند ہوگئے۔ ٹرینوں کی آمدورفت چند گھنٹوں ڈاؤن ٹریک سے بحالی کے بعد ایک بار پھر ریلوے انتظامیہ نے بند کر دی۔
ریلوے حکام کے مطابق 13 بوگیوں میں سے 6 بوگیوں کو ٹریک سے ہٹایا جا چکا ہے جبکہ اب بھی 7 بوگیاں ٹریک پر موجود ہیں۔ ریلوے انتظامیہ کو لاکھوں روپے نقصان کی صورت میں پاور ہاوس کو ادا کرنے ہوں گے۔
بحالی کا کام گزشتہ رات سے جاری ہے جس میں مزید کئی گھنٹے لگیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مال بردار
پڑھیں:
افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA
— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026
اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا
طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔
آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سیلاب نورستان