مال گاڑی 13 بوگیاں انجن سمیت پٹری سے اتر گئیں، ٹرینوں کی آمدورفت معطل
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
( محمد حسن خان )کراچی سے یوسف والا جانے والی مال گاڑی حادثے کاشکارہوگئی اور 13 بوگیاں انجن سمیت پٹری سے اتر گئیں۔
حادثہ جامشوروکے قریب مٹنگ اسٹیشن کے قریب پیش آیا،حادثے کےبعد اپ ٹریک مکمل طورپربندہوگیا اور ٹرینوں کی آمدورفت معطل ہوگئی،کراچی سے پنجاب جانے والی 5سے زائد ٹرینوں کوبھی روک لیاگیا۔
مال بردار ٹرین کوئلہ لیکر کراچی سے یوسف والا جا رہی تھی کہ حادثے کاشکارہوگئی،اس کے بعد کراچی سے پنجاب جانے والی قراقرم ایکسپریس، ملت ایکسپریس ،کراچی ایکسپریس ،تیز گام، گرین لائن سمیت دیگر ٹرینوں کو مختلف اسٹیشنوں پر روک دیا گیا ۔
ریلوے حکام کے مطابق ٹریک کی بحالی میں کئی گھنٹے لگیں گے، عملہ اور کرین طلب کرلی گئی ہے۔
جلد کے ٹیٹوز سے اکتا کر چینی نوجوان دانتوں پر ٹیٹوز بنوانے لگے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کراچی سے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔