ٹرینوں کی نجکاری کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا، اوپن نیلامی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
لاہور:
پاکستان ریلوے کی 11 ٹرینوں کی نجکاری کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے تاہم اب ٹرینوں کی نیلامی اوپن ہوگی۔
پاکستان ریلوے نے اپنی 11 ٹرینوں کو آوٹ سورس کرکے نجی شعبے کے تعاون سے چلانے کا فیصلہ کیا تھا اور اس سلسلے میں ٹرینوں کی ٹیکنیکل بڈز کھلنے کے بعد فنانشل بڈز بھی چند روز قبل کھولی گئیں اور 9 ٹرینوں کے لیے پرائیویٹ کمپنیوں نے اپنی فنانشل بڈز جمع کرائیں۔
پاکستان ریلوے کو اپنی 9 ٹرینوں کے لیے 7 ارب 90 کروڑ 30 لاکھ روپے کی فنانشل بڈز موصول ہوئیں تاہم ابھی ٹرینوں کی حتمی منظوری ہونا باقی تھی۔
وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کی سربراہی میں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مسافر ٹرینوں کی آوٹ سورسنگ اوپن نیلامی کے ذریعے ہوا کرے گی جس کا اطلاق حالیہ آوٹ سورس ہونے والی ٹرینوں پر بھی ہو گا۔
پاکستان ریلوے کے اس اعلان کے بعد ٹرینوں کو آوٹ سورس کرکے پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے چلانے کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔
پاکستان ریلوے کو 9 ٹرینوں کے لیے 7 ارب 90 کروڑ روپے کی فنانشل بڈز موصول ہوئی تھیں، ہزارہ ایکسپریس کے لیے دو ارب 62 کروڑ روپے، ملت ایکسپریس کی دو ارب 60 کروڑ روپے، سبک خرام کی 64 کروڑ، راول ایکسپریس کی69 کروڑ روپے اور بدر ایکسپریس ٹرین کی24 کروڑ روپے ک بڈز موصول ہوئی تھیں۔
اسی طرح غوری ایکسپریس ٹرین کی 25 کروڑ روپے، تھل ایکسپریس ٹرین کی 60 کروڑ روپے، فیض احمد فیض مسافر ٹرین کی 8 کروڑ 65 لاکھ روپے اور راوی ایکسپریس ٹرین کی 16 کروڑ 12 لاکھ روپے بڈز موصول ہوئیں۔
دوسری جانب بہاالدین زکریا ایکسپریس اور موہنجودڑو ایکسپریس ٹرین کی کسی کمپنی نے فنانشل بڈز جمع نہیں کرائی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان ایکسپریس ٹرین کی پاکستان ریلوے ٹرینوں کی بڈز موصول کروڑ روپے کے لیے
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔