کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کا سیلاب، بلڈنگ کنٹرول عملہ ملوث ہے، سیف الدین ایڈوکیٹ
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:سٹی کونسل کراچی کے اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈوکیٹ نے ایک وفد کے ہمراہ ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) مزمل حسین ہالیپو سے ملاقات کی، ملاقات میں شہر بھر میں جاری غیر قانونی تعمیرات، ان کے اثرات اور ممکنہ تدارک پر تفصیلی گفتگو کی گئی، وفد میں شاہد فرمان، تیمور احمد اور منظر عالم بھی شامل تھے۔
سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ کراچی اس وقت غیر قانونی تعمیرات کے بدترین دور سے گزر رہا ہے، جو کسی بڑے المیے کو جنم دے سکتا ہے، یہ تعمیرات نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہیں بلکہ ان کے نتیجے میں پانی، سیوریج، بجلی، گیس اور پارکنگ جیسے بنیادی مسائل میں بھی اضافہ ہورہا ہے، ایک گھر کی جگہ 6 سے 12 منزلہ عمارتیں کھڑی کی جارہی ہیں جبکہ بعض مقامات پر باقاعدہ کثیرالمنزلہ بلڈنگز تعمیر ہورہی ہیں، اور یہ سب کچھ ایس بی سی اے کے عملے کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام کے لیے منتخب نمائندوں اور ڈپٹی کمشنر کو بھی اس عمل میں شامل کیا جائے تاکہ نگرانی موثر بنائی جاسکے۔ ملاقات کے دوران مجوزہ بلڈنگ کنٹرول ایکٹ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ جماعت اسلامی کے وفد نے اس حوالے سے ایک تحریری یادداشت بھی پیش کی۔
سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ مقصد کسی کو بے گھر کرنا نہیں بلکہ ایک واضح حد مقرر کرنا ہے کہ اب مزید غیر قانونی تعمیرات کی اجازت نہیں دی جائے گی، پرانی غیر قانونی تعمیرات سے نمٹنے کے لیے بھی قابلِ عمل تجاویز تیار کی جاسکتی ہیں۔
ڈی جی ایس بی سی اے مزمل حسین ہالیپو نے اس موقع پر ادارے کو درپیش وسائل اور افرادی قوت کی کمی سے آگاہ کیا اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آئندہ کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالی۔ جماعت اسلامی کے وفد نے شہر کی بہتری کے لیے مثبت اقدامات میں ہر فورم پر تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: غیر قانونی تعمیرات
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔