Juraat:
2026-07-24@03:34:53 GMT

پاکستان کی غربت کا تسلسل ایک اجتماعی المیہ

اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT

پاکستان کی غربت کا تسلسل ایک اجتماعی المیہ

پروفیسر شاداب احمد صدیقی

معرکہ حق کے بعد پاکستان کے سفارتی تعلقات میں بہتری آئی ہے اور دنیا میں پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے ۔روزانہ وزیراعظم شہباز شریف اور ان کا وفد بین الاقوامی سطح پر وہاں کے صدر اور وزیراعظم سے ملاقات کر کے تجارتی معاہدے کر رہے ہیں۔ بظاہر تو پاکستان کی معیشت ترقی کی جانب گامزن ہے لیکن پاکستان کے غریب عوام کی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ۔پاکستان میں غربت کا مسئلہ ایک قومی المیہ بن چکا ہے ۔
عالمی بینک کی تازہ رپورٹ نے اس بحران کی سنگینی کو مزید اجاگر کر دیا ہے جس کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر 25۔3 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً 6کروڑ افراد افلاس کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار محض اقتصادی تجزیہ نہیں بلکہ ان کے پیچھے لاکھوں گھروں کی ٹوٹی ہوئی امیدیں، بھوک سے بلکتے بچے ، بے روزگار نوجوان اور وہ مائیں ہیں جو دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہی ہیں۔ یہ صورتحال پاکستان جیسے زرعی اور انسانی وسائل سے مالامال ملک کے لیے نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ خطرناک بھی ہے ۔ورلڈ بینک کی رپورٹ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پاکستان کا موجودہ ترقیاتی ماڈل 2018 سے 2024 کے دوران غربت کی سطح میں خاطر خواہ کمی لانے کے لیے ناکافی ثابت ہوا ہے ۔ زراعت مسلسل سکڑ رہی ہے ، تعمیرات میں اجرتیں گر چکی ہیں، قرضے اور خسارے بڑھ رہے ہیں، سرمایہ کاری کمزور ہو گئی ہے اور طاقتور اشرافیہ پالیسیوں کو اپنے فائدے کے لیے موڑ رہی ہے ۔ اس دوران لاکھوں نوجوان بہتر روزگار کی تلاش میں بیرون ملک ہجرت پر مجبور ہوئے جبکہ ٹرانسپورٹ، کمیونی کیشن اور مائننگ جیسے شعبے غریب عوام کے لیے روزگار پیدا کرنے میں ناکام رہے ۔ مقامی حکومتوں کی کارکردگی ناقص رہی اور ٹیکسوں کا بوجھ زیادہ تر نچلے طبقے پر ڈالا گیا۔سیاسی عدم استحکام نے اس صورتحال کو مزید خراب کر دیا۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد تباہ ہوا اور کاروباری سرگرمیاں سکڑ گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ورلڈ بینک کے اعلیٰ عہدیداروں سے ناکام ترقیاتی ماڈل پر سوال کیا گیا تو ورلڈ بینک کے چیف اکنامسٹ ”توبیاس حقے ”(Tobias Haque) جو ورلڈ بینک میں پاکستان کے لیے لیڈ کنٹری اکنامسٹ (Lead Country Economist) ہیں نے دفاع کرتے ہوئے کہا کہ غربت کا خاتمہ ایک کثیر جہتی عمل ہے جس میں میکرواکنامک استحکام، افراط زر میں کمی، آمدن میں اضافہ اور معیشت کو کھولنا شامل ہے ۔ ورلڈ بینک نے یہ وضاحت بھی کی کہ بین الاقوامی خطِ افلاس اور پاکستان کے قومی خطِ افلاس کا موازنہ درست نہیں۔ بین الاقوامی پاورٹی انڈیکس کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح 45 فیصد ہے ، جبکہ سرکاری پیمانے کے مطابق یہ 25۔3 فیصد بنتی ہے ۔ اس فرق سے اندازہ ہوتا ہے کہ عالمی معیار پر پاکستان کی غربت کہیں زیادہ شدید ہے ۔پاکستان میں غربت کے اس عذاب کی کئی جہتیں ہیں۔ سب سے پہلی وجہ معیشت کی وہ ساخت ہے جو زیادہ تر کھپت پر انحصار کرتی ہے اور پیداواریت یا صنعتی تنوع کی بنیاد پر کھڑی نہیں۔ جیسے ہی کوئی بحران آتا ہے ، یہ ڈھانچہ ہل کر رہ جاتا ہے اور سب سے پہلے غریب عوام اس کی زد میں آتے ہیں۔ زرعی شعبہ جسے معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے ، جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری سے محروم ہے ۔ کسان آج بھی پرانے طریقوں پر محنت کرتے ہیں مگر ان کی محنت کا صلہ نہ تو مناسب قیمت کی صورت میں ملتا ہے اور نہ ہی بہتر سہولتوں میں۔ یہی وجہ ہے کہ خوراک پیدا کرنے والا کسان خود غربت کی لپیٹ میں رہتا ہے ۔اسی طرح صنعت اور خدمات کے شعبے میں پالیسیوں کی غیر یقینی کیفیت، توانائی بحران اور سرمایہ کاری کی کمی نے مواقع کم کر دیے ہیں۔ نوجوان جو تعلیم اور ہنر حاصل کرتے ہیں، انہیں موزوں نوکریاں نہیں ملتیں اور وہ یا تو بے روزگار رہ جاتے ہیں یا بیرون ملک جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
یہ ہجرت بظاہر انفرادی مسئلہ لگتی ہے لیکن درحقیقت یہ قومی ترقی کے لیے ایک بڑا نقصان ہے کیونکہ ہنر مند افرادی قوت ملک چھوڑ کر چلی جاتی ہے ۔تعلیم اور صحت جیسے شعبے بھی غربت کے پھیلاؤ میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک بچہ جب معیاری تعلیم سے محروم رہتا ہے تو اس کا مستقبل محدود ہو جاتا ہے ۔ وہ نہ بہتر ملازمت حاصل کر پاتا ہے اور نہ ہی اپنی زندگی کا معیار بلند کر پاتا ہے ۔ یہی غربت نسل در نسل منتقل ہوتی ہے ۔ صحت کے شعبے میں ناقص سہولیات بیماریوں کو بڑھاتی ہیں، خاندانوں کو مزید قرض میں دھکیل دیتی ہیں اور ان کی مالی حالت تباہ کر دیتی ہیں۔ صاف پانی، نکاسی، بجلی اور رہائش جیسی بنیادی سہولتوں کی کمی دیہی اور پسماندہ علاقوں میں زندگی کو اور زیادہ مشکل بنا دیتی ہے ۔غربت کے سماجی اثرات بھی کم نہیں۔ بھوک اور مایوسی جرائم میں اضافے کا سبب بنتی ہے ۔ چوری، ڈکیتی اور منشیات کے پھیلاؤ کی جڑیں اسی غربت میں پیوست ہیں۔ نوجوان جب مواقع سے محروم رہتے ہیں تو یا تو وہ مایوسی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں یا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ یوں غربت نہ صرف معیشت کو تباہ کرتی ہے بلکہ سماجی تانے بانے کو بھی بکھیر دیتی ہے ۔علاقائی سطح پر بھی غربت کی تقسیم غیر مساوی ہے ۔
بلوچستان اور اندرونِ سندھ کے دیہی علاقے شدید غربت کا شکار ہیں جہاں تعلیم، صحت اور روزگار کی سہولتیں انتہائی محدود ہیں۔ جنوبی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع میں بھی یہی صورتحال ہے ۔ اس کے برعکس بڑے شہروں میں حالات نسبتاً بہتر ہیں لیکن مہنگائی نے وہاں بھی متوسط طبقے کو متاثر کیا ہے ۔ آج کا مڈل کلاس خاندان بھی غربت کے قریب پہنچ رہا ہے کیونکہ آمدن اور اخراجات میں فرق بڑھتا جا رہا ہے ۔عالمی تناظر میں اگر دیکھا جائے تو پاکستان کی صورتحال بنگلہ دیش اور بھارت جیسے ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں زیادہ کمزور ہے ۔ بنگلہ دیش نے ٹیکسٹائل ایکسپورٹ، خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت اور سماجی تحفظ کے پروگراموں کے ذریعے غربت میں نمایاں کمی کی۔ بھارت نے بھی آئی ٹی اور سروس سیکٹر میں سرمایہ کاری کر کے روزگار کے مواقع پیدا کیے ۔ اس کے برعکس پاکستان اب بھی معاشی بدانتظامی، سیاسی عدم استحکام اور قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے ۔پاکستان اگر اس بحران سے نکلنا چاہتا ہے تو فوری اور سنجیدہ اقدامات ضروری ہیں۔ سب سے پہلا قدم انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری ہے ۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں کو مضبوط بنائے بغیر غربت کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ہر بچے کو معیاری تعلیم اور ہر خاندان کو صحت کی بنیادی سہولت میسر ہونی چاہیے ۔ اسی طرح سماجی تحفظ کے نظام کو مؤثر اور وسیع کرنا ہوگا تاکہ بحران کے وقت کمزور طبقے کو سہارا مل سکے ۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور احساس پروگرام جیسے اقدامات کو مزید شفاف اور مضبوط بنایا جائے ۔
روزگار کے مواقع پیدا کرنا بھی لازمی ہے ۔ صنعت اور خدمات کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھائی جائے ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو سہولت دی جائے اور نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے پروگرام شروع کیے جائیں۔ زرعی شعبے کو جدید ٹیکنالوجی، بہتر بیج، کھاد اور آبپاشی کے نظام سے مستحکم کیا جائے تاکہ کسان زیادہ پیداوار حاصل کر سکیں اور ان کی آمدن بڑھے ۔مالیاتی اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔ ٹیکس نظام کو منصفانہ بنایا جائے تاکہ بوجھ صرف نچلے طبقے پر نہ پڑے ۔ غیر ضروری سبسڈیز ختم کر کے بچت غربت کے خاتمے کے منصوبوں پر لگائی جائے ۔ اشرافیہ کی مراعات کم کر کے وسائل کو عام عوام تک پہنچایا جائے ۔پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی تیار ہونا ہوگا۔ 2022کا سیلاب اس بات کا ثبوت ہے کہ قدرتی آفات لاکھوں افراد کو چند دنوں میں غربت میں دھکیل سکتی ہیں۔ مضبوط انفراسٹرکچر، بہتر حکمت عملی اور کلائمٹ چینج سے نمٹنے کے اقدامات کو قومی ترجیح دی جائے ۔
آخر میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ غربت صرف ایک اقتصادی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی انصاف کا سوال ہے ۔ جب کروڑوں عوام غربت میں جکڑے ہوں تو یہ ریاست کے مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے ۔ پاکستان کو اب ایسی پالیسیاں اپنانی ہوں گی جو عوامی مرکزیت پر مبنی ہوں، جن میں تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف کو اولین حیثیت دی جائے ۔ اگر آج ہم نے سنجیدہ اور بروقت اقدامات نہ کیے تو غربت مزید بڑھتی جائے گی اور آنے والی نسلوں کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔ لیکن اگر ہمت اور نیت کے ساتھ یہ اقدامات کیے گئے تو غربت کے شکنجے کو توڑ کر ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے ۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: پاکستان میں غربت سرمایہ کاری پاکستان کی پاکستان کے ورلڈ بینک تعلیم اور جاتے ہیں کو مزید غربت کی غربت کے غربت کا اور ان ہے اور کے لیے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر