وزیراعظم کی انتونیو گوتریس سے ملاقات، پاکستان میں بیرونی حمایت یافتہ دہشتگردی کا معاملہ اٹھا دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی۔ ملاقات نہایت خوشگوار ماحول میں ہوئی پاکستان میں بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا معاملہ اٹھا دیا۔
وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کثیرالجہتی نظام کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور اقوام متحدہ کو دنیا کو درپیش بڑے چیلنجز کے حل میں مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے سیکرٹری جنرل کی عالمی امن و استحکام کے لیے قائدانہ کاوشوں کو سراہا اور ترقی پذیر ممالک کی آواز کو بلند کرنے میں اقوام متحدہ کے کردار پر اعتماد کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے دوران امدادی سرگرمیوں کی تعریف کرنے پر سیکرٹری جنرل کا شکریہ ادا کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے اضافی مالی وسائل کی فراہمی اور مربوط عالمی اقدامات ناگزیر ہیں۔
اہم قومی اور علاقائی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے جموں و کشمیر تنازع، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں اور پاکستان میں بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر مسئلے کا منصفانہ اور پُرامن حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے پاک بھارت حالیہ کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سیکرٹری جنرل کی کوششوں کو بھی سراہا۔
وزیراعظم نے غزہ کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سیاسی عمل کے آغاز کی ضرورت پر زور دیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان بطور رکن سلامتی کونسل خطے اور دنیا میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
سیکرٹری جنرل نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مضبوط مؤقف اور تعمیری کردار کی تعریف کی۔ دونوں رہنماؤں نے عالمی امن اور ترقی کے فروغ میں اقوام متحدہ کے لازمی کردار کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ پاکستان میں کے لیے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔