اقوام متحدہ میں بھی وزیر اعظم شہباز شریف کا روائیتی جذباتی انداز ، ڈائس پر مکّے برسادیے
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
نیویارک(ڈیلی پاکستان آن لائن) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے جذباتی انداز میں ڈائس پر مکّے برسادیے۔
اپنے خطاب میں موسمیاتی تبدیلی اور پاکستان پر اس کے منفی اثرات اور نقصانات پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں کہا جاتا ہے ان نقصانات سے نمٹنے کے لیے ہم مزید قرض لیں۔ان کا کہنا تھاکہ یہ کسی صورت انصاف نہیں ہے، آپ کسی ترقی پذیر ملک سے جو ہر سال موسمیاتی تبدیلی کے باعث سیلاب کا سامنا کرتا ہو یہ کیسے امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ مزید قرضے لے جبکہ موسمیاتی تبدیلی میں اس کا کوئی کردار بھی نہ ہو۔شہباز شریف نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ قرضے لینا بہتر نہیں ہوگا ہم قرضے لیے بغیر محنت کرکے اور خون پسینہ ایک کرکے پاکستان کو ایک عظیم ملک بنائیں گے۔یہ کہتے ہوئے وزیر اعظم نے جذباتی انداز میں ڈائس پر مکّے مارے جس پر ہال میں تالیاں بج اٹھیں۔
مختصر سی مدت میں محبت اور دوستی کا ایسا رشتہ بندھ گیا جسے الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا،اس کے جانے کے بعد صاحب کی اداسی اور میری تنہائی گہری ہو گئی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔