اسلام آ باد:

وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ گردشی قرضے پاکستان کے لیے وبال جان ہیں ہماری کوششوں سے گردشی قرضہ چھ سال میں لازمی طور پر ختم ہوجائے گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ گردشی قرضے پاکستان کے لیے وبال جان ہیں ہم نے گردشی قرضے ختم کرنے کے لیے دن رات کوششیں کیں، گردشی قرضہ چھ سال سے قبل بھی ختم ہوسکتا ہے مگر یہ چھ سال میں لازمی طور پر ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں گردشی قرضے میں ریکارڈ اضافہ ہوا اس کے برعکس ہم نے گردشی قرضہ ختم کرنے کے لیے دن رات کوششیں کیں، ہماری اپنی کارکردگی کے ذریعے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں واضح کمی لائے ہیں، توانائی کے شعبے میں اصلاحات حکومت کی اولین ترجیح ہیں۔

ایک سوال پر انہوں ںے کہا کہ جب ہماری حکومت آئی تو گردشی قرض 2400 ارب روپے تھا جسے 2000 ارب پر لے آئے، 800 ارب کا حجم ہم نے بغیر کسی قرض لیے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ختم کیا، اب 1200 ارب رہ گیا، ہم سستے قرضے لے کر اسے ادا کررہے ہیں، گردشی قرضہ آٹھ تا دس سال میں ختم ہوتا اور عوام پر بوجھ پڑتا مگر ہم نے وہ کام کیا کہ عوام پر بوجھ بھی نہیں پڑے گا اور گردشی قرضہ چھ سال میں ختم ہوجائے گا۔

اویس لغاری نے کہا کہ پاور ڈویژن کی محنت سے چوری میں کمی اور ریکوری میں بہتری آئی، 2042 کروڑ روپے صرف ترسیلی نقصانات اور چوری کم کرنے سے بچائے گئے، ریکوری میں بہتری اور مالیاتی نظم و ضبط سے گردشی قرضے پر قابو پایا گیا، بینکوں کیساتھ خصوصی معاہدے کر کے 1725 ارب روپے کے قرض پر سود کم کروایا گیا، پہلے گردشی قرضے پر 2.

5 فیصد سے 4 فیصد اضافی سود بھرنا پڑتا تھا، اب نئے معاہدے سے سود کی شرح کم ہو گئی ہے اور صارفین کا بوجھ بھی کم ہوا ہے۔

اویس لغاری نے کہا کہ گردشی قرضے پر 23 پیسے فی یونٹ کا بوجھ صارفین ادا کر رہے تھے، اگر پرانا نظام رہتا تو یہ بوجھ کئی سالوں تک ختم نہ ہوتا، چوری پر قابو، بہتر ریکوری اور بینکنگ اصلاحات سے گردشی قرضے پر قابو پایا، اسلامک بینکنگ کے ذریعے ٹرانزیکشنز کر کے بینکنگ سیکٹر کو بھی ساتھ لیا گیا، بینکنگ معاہدے خوش دلی سے ہوئے، کوئی زبردستی یا دباؤ نہیں ڈالا گیا اسے یہ پاکستان کے مالیاتی نظام میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اویس لغاری سال میں کہا کہ چھ سال نے کہا کے لیے

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے