Express News:
2026-06-03@03:51:52 GMT

حقیقت تو یہی ہے

اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT

عالمی بینک نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان کا موجودہ اقتصادی ماڈل ملک میں غربت کو سپورٹ نہیں کرتا جس کی وجہ سے گزشتہ تین سالوں کے دوران غربت پر قابو پانے کی حکومتی کوششوں کو بریک لگ گئی ہے اور ملک میں غربت کی شرح بڑھ کر 26.3 فی صد ہو گئی ہے۔

ان حالات میں ملک کی مڈل کلاس جو ملک کی آبادی کا 41.

7 فی صد ہے کو اپنے معاشی تحفظ کے لالے پڑ چکے ہیں اور ان کے لیے صحت و صفائی، صاف پانی، توانائی اور رہائش کی مناسب داموں دستیابی محدود ہو رہی ہے اور مہنگائی و بے روزگاری سے عوام سخت پریشان ہیں۔ ملک میں غربت میں اضافہ 2022 سے ہونا شروع ہوا تھا جب کہ 2001-2002 میں غربت 64.3 فی صد کم ہو کر 18.3 فی صد پر آ گئی تھی۔

ورلڈ بینک کی رپورٹ حقیقت ہے مگر 2022 سے بر سر اقتدار لوگ یہ حقیقت کبھی تسلیم نہیں کریں گے اور سرکاری ادارے اس کو حقائق کے خلاف اور بے بنیاد قرار دیں گے اور مرضی کے اعداد و شمار جو حقائق کے برعکس ہوں گے پیش کرکے عالمی بینک کی تجزیاتی رپورٹ کو غلط قرار دے کر مسترد کر دیں گے کیونکہ ملک میں اب تک یہی ہوتا آیا ہے۔

ہر بار بجٹ میں بھی یہی ہوتا آیا ہے اور حقائق اپنے عوام سے چھپائے جاتے ہیں اور اگر کوئی بیرونی ادارہ ان حقائق کو آشکار کر دے تو حکومتی حلقے کبھی اس کی حقیقت کو تسلیم نہیں کریں گے جس کی وجہ سے عوام تذبذب میں مبتلا رہتے ہیں اور حکومتی موقف کے بجائے حکومتی وضاحتوں پر یقین نہیں کرتے۔

ویسے تو ملک میں کوئی ایسا غیر جانبدار ادارہ موجود نہیں جو حقائق سے عوام کو آگاہ رکھے اگر کوئی ایسا کرے تو اس کو حقائق کی پہنچ سے دور رکھا جاتا ہے تاکہ حقیقت چھپی رہے مگر ملک سے باہر ایسے ادارے موجود ہیں جن سے حقائق نہیں چھپتے اور وہ کسی مصلحت کا شکار ہوئے بغیر حقائق آشکار کر ہی دیتے ہیں جن کی حکومت لاکھ تردید کرے عوام بھی اس پر یقین نہیں کرتے کیونکہ ہر حکومت عوام کا اعتماد کھو چکی ہے جس کی وجہ سے لوگ ہر بیرونی اطلاع پر یقین کر لیتے ہیں مگر شکر ہے کہ عوام بھارتی پروپیگنڈے پر یقین نہیں کرتے اور بھارت سے کوئی درست خبر بھی ملے تو اسے مسترد کر دیتے ہیں کیونکہ ملک کی طرح بھارت بھی ہمارے یہاں شروع سے ہی اعتماد کھویا ہوا ہے مگر بدقسمتی کہ جنگ 1971 میں حمودالرحمن کمیشن کی تفصیلات سے ہمیں بھارت نے ہی آگاہ کیا تھا اور سرکاری طور پر سرکار کے بنائے ہوئے اس کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر نہیں آنے دی گئی تھی اور وہ تفصیلات بھی ہمیں اپنے دشمن ملک نے دی تھیں۔

عالمی بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2001-2002میں قومی غربت کی شرح64.3فی صد سے کم ہو کر 18.3 فی صد پر آ گئی تھی اور وہ جنرل پرویز مشرف کا دور تھا جسے حقیقت پسند لوگ ترقی و خوشحالی کا ویسا ہی دور مانتے ہیں جیسا جنرل ایوب خان کا دور تھا مگر ترقی و خوشحالی کے دونوں ادوار کی حقیقت اس لیے تسلیم نہیں کی جاتی کہ اس وقت کے حکمرانوں کو آمر کہا جاتا ہے جب کہ ان کے دور سیاسی حکمرانوں سے کہیں بہتر تھے جب غربت کم اور ترقی زیادہ ہوئی۔

2018 میں بالاتروں کی مدد سے بننے والے پی ٹی آئی کے وزیر اعظم اپریل 2022 تک وزیر اعظم تھے جن کی حکومت میں عوام کی فلاح و بہبود اور غربت کے خاتمے پر توجہ دینے کے بجائے صرف سیاسی انتقام پر خصوصی توجہ دے کر بیڈ گورننس کی بدترین مثال قائم ہوئی اور اسی سال وہ حکومت ملک کی تاریخ میں پہلی بار آئینی طور پر برطرف کی گئی تھی اور موجودہ حکمران اقتدار میں آئے تھے جس کے بعد غربت میں اضافہ ہونا شروع ہوا جس کی تصدیق عالمی بینک کر رہا ہے۔ غربت کا واضح ثبوت یہ کہ ملک میں پندرہ سے چوبیس سال کے 37 فی صد نوجوان روزگار سے محروم ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ اپنی حکومت کی آئینی برطرفی کو سابق وزیر اعظم غیر آئینی قرار دے رہے ہیں جن کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا قومی اسمبلی کا اجلاس سپریم کورٹ کی ہدایت پر ہوا تھا اور وزیر اعظم کی برطرفی سو فی صد آئینی تھی مگر آئینی برطرفی کو ساڑھے تین سال بعد بھی پی ٹی آئی تسلیم نہیں کر رہی اور پی ٹی آئی کے حامی سینئر وکلا بھی یہ حقیقت برطرف اور سزا یافتہ سابق وزیر اعظم کو نہیں سمجھا رہے اور سابق وزیر اعظم کی من مانی کی وجہ سے ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے اور حکومت میں اتنی جرأت نہیں کہ وہ سابق وزیر اعظم کے آئے دن کے ان سیاسی بیانات کو عدالت میں چیلنج کرے اورعدالتی فیصلہ لے کہ دس اپریل 2022 کا تحریک عدم اعتماد کا اجلاس آئینی تھا یا نہیں؟

ملک میں جو آج نظام ہے اسے حکومتی نمایندے بھی ہائبرڈ نظام تسلیم کرتے ہیں جس میں حکومت کوئی اور چلا رہا ہے اور تین سال سے حکمران غیر ملکی دوروں ہی میں مصروف نظر آئے ہیں اور انھی کے دور میں غربت 26.3 فی صد بڑھنے کا عالمی اعتراف ہوا ہے مگر ان کی حکومت اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرے گی اور عوام کی حالت مزید روز بروز بد سے بدتر ہوتی جائے گی لیکن اس کی ذمے دار صرف حکومت ہی قرار نہیں پائے گی بلکہ حکومت کے پشت پناہوں پر بھی الزام آئے گا۔ فرق صرف یہ ہے کہ 2001 میں آمرانہ حکومت میں غربت کم ہوئی تھی اس وقت بھی مارشل لا نہیں تھا اور اب بھی جمہوری حکومت ہے جس میں غربت تشویش ناک ہو چکی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تسلیم نہیں کر عالمی بینک کی وجہ سے کی حکومت گئی تھی ملک میں ہیں اور ہے مگر ہے اور ملک کی

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان