اکتوبر میں شمالی امریکا کے آسمان پر کون سے اہم فلکیاتی مظاہر کی پیش گوئی کی گئی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
شمالی امریکا کی لمبی اور ٹھنڈی خزاں کی راتیں اس اکتوبر فلکیاتی شائقین کے لیے خاص رہیں گی کیونکہ آسمان پر مختلف مظاہر دیکھنے کو ملیں گے جن میں دو شہابیوں کی بارش بھی شامل ہے۔
اکتوبر کا آغاز ایک شاندار چاندنی رات سے ہوگا۔ 6 اکتوبر کی شب سال کا پہلا ‘سپر مون’ نمودار ہوگا جو عام چاند کے مقابلے میں کچھ بڑا اور روشن دکھائی دیتا ہے کیونکہ یہ زمین کے نسبتاً قریب ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: نیوجرسی میں ’شہابی چٹان‘ گھر پر آگری
اس بار یہ چاند ‘ہارویسٹ مون’ بھی ہوگا، جو عام طور پر ستمبر میں آتا ہے لیکن 2025 ان چند برسوں میں سے ایک ہے جب یہ اکتوبر میں طلوع ہوگا۔
یہ سپر ہارویسٹ مون 6 اکتوبر کی رات سے 7 اکتوبر کی صبح تک آسمان کو روشن کرے گا۔
اس کے بعد اکتوبر کی پہلی شہابیوں کی بارش ‘ڈریکنڈ’ ہوگی جو 8 اکتوبر کی رات سے 9 اکتوبر کی صبح تک اپنے عروج پر پہنچے گی۔ یہ ایک چھوٹا مظاہرہ ہے جس میں عام طور پر فی گھنٹہ 10 شہابیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔
اس سال تقریباً پورا چاند ہونے کے باعث ہلکی شہابیاں نظر آنا مشکل ہوگا تاہم کچھ روشن لکیریں آسمان پر جگمگا سکتی ہیں۔ دیگر شہابیوں کے برعکس یہ بارش آدھی رات سے پہلے دیکھنے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔
اکتوبر کے سب سے بڑے مظاہروں میں سے ایک ‘اورائنڈ’ شہابیوں کی بارش ہوگی جو 22 اکتوبر کی رات سے 23 اکتوبر کی صبح تک عروج پر ہوگی۔
یہ بھی پڑھیے: سپر بلڈ مون: پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں چاند گرہن
اس سال یہ مظاہرہ نئے چاند کے دنوں میں آئے گا جس سے آسمان بالکل تاریک ہوگا اور شہابیاں زیادہ نمایاں نظر آئیں گی۔ ماہرین کے مطابق فی گھنٹہ تقریباً 20 شہابیاں دیکھی جا سکیں گی۔
یہ شہابیاں ‘اورائن’ نامی برج کی سمت سے نکلتی دکھائی دیتی ہیں اور زیادہ تر آدھی رات کے بعد نمودار ہوتی ہیں جب یہ برج آسمان پر بلند ہو جاتا ہے۔ یوں اکتوبر فلکیات کے شائقین کے لیے یادگار مظاہر لے کر آ رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسمان سپر مون شہاب ثاقب فضا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شہاب ثاقب اکتوبر کی رات سے کے لیے کی رات
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔