Express News:
2026-06-03@08:09:20 GMT

تعلیم و تربیت

اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT

دورجدید میں تعلیم کی اہمیت و ضرورت سے کسی فرد واحد کو مفر نہیں، اچھی اور معیاری تعلیم سے اپنے بچوں کو آراستہ کرنا فی زمانہ بے حد ضروری ہے، کیوں کہ بچے کسی بھی سماج اور معاشرہ کا سرمایہ اور تاب ناک مستقبل کی تعمیر کے لیے ضروری اساس ہوتے ہیں، بچوں کے ذہنی خدوخال نہایت ہی حساس اور کورے کاغذ کی طرح ہوتے ہیں۔

 ان کی بہتر، نشوونماء اور تربیت ایک روشن مستقبل کے لیے بنیاد کی فراہمی کا کام کرتی ہے، بچوں کے تعلق سے کسی بھی موقع پر تساہل یا کسی بھی زاویے سے بے اعتنائی ملک و ملت کے لیے کسی المیہ سے کم نہیں، کیوں کہ جو قوم تعلیمی پس ماندگی کا شکار ہوجائے اور اپنی فکری و تہذیبی نہج سے دست بردار ہوجائے، تو اس قوم کو زمانے کے ساتھ چلنے میں ہر قدم پر ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان کی نسلوں کو اس قعر مذلت سے باہر نکلنے اور امید افزاء شعور و آگہی تک رسائی حاصل کرنے میں زمانہ لگ جاتا ہے۔

 یوں بھی عالمی تباہی و معاشی بدحالی کے تسلسل میں ہمیں فی زمانہ اپنی نسلِ نو کی بہتر پرورش اور دینی حمیت کی پاس داری کے ساتھ زندہ رکھنے کے لیے معیاری تعلیم گاہوں کا انتخاب کرنا چاہیے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہوپائے گا، جب ہم اسکول، کالج اور عصری تعلیم گاہ کے انتخاب میں بہت ہی محتاط قدم کے ساتھ آگے بڑھیں گے، کیوں کہ موجودہ دور میں ہر طرف الحادی و ارتدادی قوتیں سرراہ اس تاک میں ہیں کہ دین حنیف کے پیرو کاروں کے پائے ثبات میں کس طرح تزلزل پیدا کریں ، تاکہ اس کی نسلیں اپنے اسلاف و اکابر سے کٹ کر رہ جائیں، جب کہ تاریخی حوالہ جات یہ بتاتے ہیں کہ مسلمانوں پر ایک دور ایسا بھی گزارا ہے، جب اقوام عالم کی باگ ڈور ان کے ہاتھوں میں تھی، لوگ دنیا کے کونہ کونہ سے علم و ادب کی چاہ میں مسلم حکماء، دانش ور اور مفکرین کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کرنے کے لیے دشوار گزار راستوں کا سفر طے کرتے تھے اور تعلیم کے حصول کے لیے ہر طرح کی صعوبتیں بھی برداشت کرتے تھے۔

 آج بھی جدید طبی سائنس، ریاضی، شہری ہوا بازی، جہاز رانی اور دیگر بہت سے میدان میں استعمال ہونے والے بنیادی اصول و فروع مسلم مفکرین کی مرہون منت ہیں، لیکن اب وہ مبادیات اور فروعات ہماری نظروں سے اوجھل ہیں ، کیوں کہ وہاں تک ہماری رسائی بہت ہی محدود ہوچکی ہے، اگر تھوڑی بہت ہے بھی تو ہماری نسلیں ان اصولوں، فلسفوں اور قواعد کے بارے میں اس لیے کچھ نہیں جان پاتی کہ اب ان کے نام انگریزی لاحقہ کے ساتھ متعارف کردیے گئے ہیں ، کہا جاتا ہے کہ یہ وہ دور تھا جب تعلیم و حکمت میں ان بزرگوں کا طوطی بول رہا تھا، پھر آپس کی چپقلش، اپنوں کی بے رخی اور رب ذوالجلال کی عطا کردہ نعمت کی ناقدری کی وجہ سے اس عظیم دولت سے یک لخت ہم دور کردیے گئے اور آج ہماری یہ حالت ہوچکی ہے کہ ہم اپنی کھوئی ہوئی اس لازوال نعمت کے عشرعشیر کے بھی لائق نہیں، الامان الحفیظ۔

اس وقت ہمارا مطمع نظر مسلم امہ میں تعلیمی پس ماندگی کے تناظر میں کچھ گوش گزار کرنے سے ہے، انسانی فطرت میں خالق کائنات نے یہ بات ودیعت کررکھی ہے کہ انسانی جبلت کسی محدود شے کے حصول پر قانع نہیں رہ تی، وہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں دن رات سرگرداں رہتی ہے، ہمیشہ سے انسانی خواہش رہی ہے کہ سماج اور معاشرتی زندگی میں کس طرح اپنی عزت و جاہ کی بالادستی قائم کی جاسکے، خواہ اس کو حاصل کرنے میں کسی حد تک جانا پڑجائے، لیکن ہماری کوشش آج بھی انسانی زندگی پر اثرانداز ہونے والی سب سے مؤثر ترین دولت تعلیم کے حوالے سے بے پروا اور لاابالی پن کا شکار ہے۔ رائج اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مسلم معاشرہ عصری اور تکنیکی تعلیم کی طرف مثبت قدم بڑھا تو رہا ہے لیکن جس تیزی اور برق رفتاری کا یہ میدان متقاضی ہے، اس میں اب بھی ہم دوسری اقوام سے ابھی بہت زیادہ پیچھے ہیں، جس کا اندازہ گاہے گاہے جاری ہونے والے مختلف بین الاقوامی سروے اور دیگر رپورٹوں سے بہ خوبی لگایا جاسکتا ہے، اس طرح کے شماریات کو دیکھنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مسلم امہ میں تعلیم کا رجحان پہلے کے مقابلے میں کچھ بڑھا ضرور ہے، لیکن جدید تعلیم کی تحقیقات اور جدید مشمولات تک رسائی میں سرد مہری جوں کی توں برقرار ہے۔

عصری تعلیم سے منسلک اسکالرز اور محقق عام طور پر موجودہ مواد کی تحقیق کے بہ جائے اس کے تراجم پر زیادہ دھیان مرکوز کر رہے ہیں، جس کا خاطرخواہ فائدہ نظر نہیں آرہا ہے، ہماری معاشرتی زندگی میں اب پہلے سے کہیں زیادہ لوگوں میں بچوں کی تعلیم کے لیے فکری مندی دیکھنے میں آرہی ہے، لوگ اپنے بچوں کی بہتر تعلیم کے لیے پس انداز بھی کرنے لگے ہیں اور اس کے لیے گھریلو بجٹ تک مختص کررہے ہیں، جس کی تحسین کی جانی چاہیے اور اس کی ہر طرح سے حوصلہ افزائی بھی ہونی چاہیے، تاکہ اس بیدار مغزی کی لو کو اور تیز کیا جاسکے۔ لیکن بہ حیثیت مسلم امہ ہماری کچھ دینی و ملی ذمے داریاں بھی ہیں، جس سے ہمارا معاشرہ اب بھی باہر نہیں نکل پایا ہے، معاشرے اور سماج کو اس سے باہر نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر تعلیمی مہم کی ضرورت ہے، تاکہ دوردراز گاؤں میں بسنے والے افراد اور معاشی پس ماندگی کے شکار لوگوں کے دلوں میں بھی تعلیم کی جوت جگائی جاسکے اور ان کو اس بات پر قائل کیا جائے کہ بچوں کے بہتر مستقبل کی تعمیر میں اچھی اور معیاری تعلیم کیوں کر ضروری ہے؟ اس تسلسل میں اگر ہم ملت کے بچوں کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں ایک طرح کی سرد مہری کے ساتھ جدید کلچر کی طرف رغبت زیادہ محسوس ہوتی ہے، بچوں کی تربیت اور تربیت یافتہ اساتذہ کی ہوتی ہے۔

 ہم اپنے بچوں کو نامی گرامی اسکول و کالجز میں داخل کروا تو دیتے ہیں لیکن اس میں بڑی حد تک بے پروائی بھی کرجاتے ہیں، ہماری سوچ صرف اس بات پر مرکوز رہتی ہے کہ ہمارے بچے معیاری اور ہائی لیول اسکول کے طالب علم ہیں باقی اور کچھ نہیں دیکھتے، جب کہ بحیثیت سرپرست ہمارے اوپر دہری ذمے داری عاید ہوتی ہے کہ ہم اپنے بچوں کی عادات و اطوار کا تجزیہ کریں، اور اس کے ہر عمل پر اپنی نظر رکھیں ، اس کے آپس کے برتاؤ اور دینی معاملات کے حوالے سے بھی گاہے بہ گاہے جائزہ لیتے رہیں، کیوں کہ عام طور پر آزادخیال ادارے میں بے جا آزادی کو فروغ دینے کا ایک رجحان پایا جاتا ہے، جس کا منفی اثر بچوں کے ذہن میں گھر کر جاتا ہے اور اس کے نتیجہ میں زندگی بھر ہمیں اس لاابالی پن کے سہارے جینا پڑتا ہے۔

 اس وقت جب کہ مختلف عصری تعلیم گاہوں میں داخلے کی کارروائی جاری ہیں ، ہمیں پہلی فرصت میں اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے، اپنی اولاد کو اچھی تعلیم سے آراستہ کرنے اور اس کے تابناک مستقبل کی طرف راہ نمائی ہمارا مذہبی، ملی و اخلاقی فریضہ بھی ہے، ہماری ایک معاشرتی ذمے داری یہ بھی ہے کہ ہم اپنے پاس پڑوس اور محلے میں لوگوں کو اس جانب متوجہ کریں۔

 ان کو تعلیم کی اہمیت و ضرورت سے متعلق ترغیب دیں تاکہ قوم کے بچے تعلیم سے آراستہ ہوکر ایک اچھا شہری بن سکیں اور ملک و ملت کی خدمت کے قابل ہوسکیں ، اس سے کسی بھی مرحلہ میں کاہلی سستی اور بے رغبتی ملک و ملت دونوں کے لیے خسارہ کا سودا ہوگا، کیوں کہ تعلیم کے تناظر میں آنے والی اکثر رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ گاؤں دیہات کے اکثر بچے ڈراپ آؤٹ میں سب سے آگے ہیں، ہائر سیکنڈری اسکول تک جاتے جاتے ہمارے بچے اسکول سے ڈراپ آؤٹ ہوجاتے ہیں جو قابل توجہ نکتہ ہے، اس پر بہت سنجیدگی سے غور و فکر اور تجزیہ کی ضرورت ہے، آج کے تقابلی دور میں تعلیم سے جی چرانے کوایک فکری غلطی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے جو یقیناً خودکشی کے مترادف ہے۔

موجودہ وقت میں ایک اہم مسئلہ یہ بھی درپیش ہے کہ بغیر کسی تحقیق کے ہم اپنے بچے کو غیرمعیاری اسکول کے حوالے کردیتے ہیں، پھر فکرمعاش اور دیگر دنیاوی جھمیلوں میں کچھ اس قدر مشغول ہوجاتے ہیں کہ پلٹ کر کوئی خبر نہیں لیتے، بس صرف بچوں کو اس کی صلاحیت سے زیادہ بوجھ تلے جکڑ دیتے ہیں اور انگریزی کے چند الفاظ بول لینے کو تعلیمی معراج تصور کر بیٹھتے ہیں، اگر یہی طالب علم کسی مقابلے وغیرہ میں خاطرخواہ کارکردگی نہیں دکھا پاتا ہے، تو طرح طرح کے طعنوں سے اس ناپختہ ذہن کو گزرنا پڑتا ہے جس کا نتیجتاً کبھی کبھی اس قدر بھیانک صورت اختیار کرلیتی ہے کہ بچہ زندگی کی قیمتی ڈور اپنی سانس تک کو ختم کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے، ایسے لاتعداد واقعات ہمارے سامنے آتے رہتے ہیں اور پھر ہم ہائے افسوس کا ماتم کرنے لگتے ہیں۔

عصری تعلیم وقت کی ضرورت ہے، اگر یوں کہا جائے کہ ناگزیر ہے تو کسی طور غلط نہ ہوگا، اکیسویں صدی کے بدلتے ہوئے حالات میں عصری تعلیم سے محرومی جہالت کے زمرہ میں ہی تصور کی جائے گی، لیکن اگر یہ تعلیم دین و ایمان کے سودے کے ساتھ ہو تو ہمارے لیے بہت بڑی حرماں نصیبی ہوگی جس کی بھرپائی کا ہمارے پاس کوئی موقع میسر نہ ہوگا؛ کیوں کہ جب سادہ دلوں اور کچے اذہان پر ایمانیات اور وحدانیت سے بے زاری کی لکیریں کھینچ دی جاتی ہیں تو اس کو محو کر پانا بے حد مشکل مرحلہ ہوتا ہے، اس لیے ملت کے بہی خواہ اور سماجی کارکنان کو آگے آنا چاہیے اور اپنے زیراثر علاقوں میں بچوں کے سرپرست کو اس بات کی راہ نمائی کرنی چاہیے کہ عصری تعلیم کے لیے ہم کس طرح کے ادارہ کا انتخاب کریں۔

 اسلام میں علوم کے حصول کی حدود نہیں ہیں، کیوں کہ نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ اور آپ کے بے شمار اقوال و افکار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے غیرمسلم قیدی کو جرمانے کے عوض عبرانی زبان اور اس وقت جس زبان کی ضرورت تھی صحابہ کرامؓ کو سکھانے کے لیے متعین کیا تھا، اس طرح کے اقوال سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام میں تعلیم کے حصول میں کسی طرح کی کوئی بندش نہیں ہے، ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ اس زبان و علم کی رو میں بہہ کر اپنے ایمان کا سودا کر بیٹھنے کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

 ہمارے لیے ضروری ہے کہ موجودہ دنیاوی تقاضے کو سامنے رکھتے ہوئے جس علم کی بھی ضرورت ہو اس کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش کریں ، اس کے حصول میں کسی طور بھی بے اعتنائی کا ثبوت نہ دیں، بل کہ ہر لمحہ بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کریں لیکن پھر بات وہیں آجاتی ہے کہ ایمان کے سودے کے ساتھ کسی طرح کی تعلیم ہماری عاقبت کی خرابی کا باعث نہ بنے، تاکہ ہمیں روز محشر شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے، کیوں کہ بہ طور سرپرست ہمیں روزِقیامت اپنی اولاد اور کنبے کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا ہے، یاد رکھیں! ترقی کے مواقع خود نہیں آتے بل کہ انھیں حاصل کیا جاتاہے اور اس کے لیے تعلیم سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں ہوسکتا، ہم تعلیم کے ہتھیار سے ہی درپیش چیلینجوں کا نہ صرف کام یابی سے مقابلے کرسکتے ہیں، بل کہ خود کو پس ماندگی کی دلدل سے باہر نکال کر قوم و ملت کو عزت و وقار کے مقام پر کھڑا کرسکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی ضرورت ہے عصری تعلیم میں تعلیم پس ماندگی اپنے بچوں اور اس کے کے حوالے تعلیم سے تعلیم کی تعلیم کے ہے کہ ہم ہم اپنے کیوں کہ بچوں کی بچوں کے کے حصول کے ساتھ کسی بھی جاتا ہے ہے کہ ا ہیں کہ طرح کے طرح کی کے لیے

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • سمرکیمپ سے متعلق احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، وزیر تعلیم پنجاب
  • وزیر تعلیم پنجاب کا سمر کیمپ کے حوالے سے حکومتی ہدایت پر عملدرآمد نہ کرنے کا نوٹس
  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟