جماعت اسلامی کا مفت آئی ٹی ڈیجیٹل کورسز شروع کرنے کااعلان
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">ضلع مہمند(آئی این پی )جماعت اسلامی پاکستان اور الخدمت فاؤنڈیشن کی جانب سے ضلع مہمند کے طلباء وطالبات کے لیے جدید دور کے فری آئی ٹی ڈیجیٹل کورسز شروع کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہ پروگرام بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں اور سکول و کالجز کے طلباء و طالبات کے لیے خاص طور پر تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ جدید ٹیکنالوجی اور اے آئی کی مدد سے ہنر حاصل کر کے بہتر روزگار کے مواقع حاصل کر سکیں۔جماعت اسلامی پاکستان ضلع مہمند کے امیر محمد سعید خان ،الخدمت فاؤنڈیشن مہمند کے صدر ڈاکٹر اسرار علی ، مثمر شاہ، عبد القدیر خان نے مہمند پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اس پروگرام کی ویژن جماعت اسلامی کے مرکزی امیر حافظ نعیم الرحمن نے دیا ہے۔ پروگرام کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو ہنر مند بنانا اور انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔اٹی ٹی کورسز مکمل طور پر مفت ہوں گے اور آن لائن کیے جائیں گے، جن میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ویب ڈویلپمنٹ، ای کامرس، ویڈیو ایڈیٹنگ ، گرافِکس ڈیزائن ، ایمزون ، ایپ ڈویلپمنٹ سمیت 28 سے زائد کورسز شامل ہیں۔ پروگرام میں داخلہ آسان ہوگا اور پورے ضلع میں نوجوان اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے، خاص طور پر خواتین کو بھی گھر بیٹھے اس پروگرام کا حصہ بننے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔الخدمت فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر اسرار علی نے کہا کہ مہمند میں ایک سنٹر قائم کیا جائے گا جہاں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب ہوگی اور ضرورت کے مطابق مزید سنٹرز بھی قائم کیے جائیں گے تاکہ نوجوانوں کو اس نادر موقع سے بھرپور فائدہ حاصل ہو۔انہوںنے کہا کہ یہ پروگرام نوجوانوں کے لیے ایک سنہری موقع ہے تاکہ وہ جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر بہتر مستقبل بنا سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :