پنجاب؛ سوشل سکیورٹی اسپتالوں میں شام کی شفٹ میں علاج کی سہولیات کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
لاہور:
پنجاب بھر میں سوشل سکیورٹی اسپتالوں میں یکم جولائی سے شام کی شفٹ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کا مقصد محنت کش طبقے کو مزید سہولت فراہم کرنا ہے۔
صوبائی حکومت کے اس اقدام کے تحت لاہور میں واقع نواز شریف سوشل سکیورٹی اسپتال سمیت دیگر اہم شہروں کے اسپتال شام کے اوقات میں بھی مکمل طور پر فعال رہیں گے۔
ابتدائی مرحلے میں لاہور، فیصل آباد، اسلام آباد، ملتان، شاہدرہ اور گجرانوالہ کے سوشل سکیورٹی اسپتالوں میں شام کی او پی ڈی کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ شام کی شفٹ میں مریضوں کو میڈیسن، سرجری، گائنی، ریڈیالوجی، ڈینٹل اور فزیو تھراپی جیسی بنیادی اور اہم طبی سہولیات میسر ہوں گی۔ او پی ڈی میں سینئر کنسلٹنٹ اور ماہر ڈاکٹرز مریضوں کا معائنہ کریں گے۔
اس اقدام سے محنت کشوں اور ان کے اہل خانہ کو بڑی سہولت میسر آئے گی، جو اب دن کے وقت کام سے چھٹی لیے بغیر شام میں بھی اپنا چیک اپ کروا سکیں گے۔ اس سے نہ صرف ان کے روزگار کا نقصان نہیں ہو گا بلکہ علاج کی سہولت بھی باآسانی دستیاب ہو گی۔
اداروں اور آجرین کے لیے بھی یہ فیصلہ خوش آئند ہے، کیونکہ انہیں عملے کی غیر حاضری جیسے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور ملازمین اپنی طبی ضروریات شام کے وقت پوری کر سکیں گے، جس سے اداروں کی کارکردگی بھی متاثر نہیں ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل سکیورٹی شام کی
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔