بیرون ملک پاکستانیوں کو عزت و بہترین سہولیات فراہم کرنا اولین ذمہ داری ہے، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
نیویارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 25 ستمبر2025ء)ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارنے نیویارک قونصلیٹ میں قونصلر سروسز ایریا کا افتتاح کیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان قونصلیٹ جنرل نیویارک کی تاریخی عمارت 1948 میں قائم ہوئی تھی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو عزت و بہترین سہولیات فراہم کرنا اولین ذمہ داری ہے، اوورسیز پاکستانیوں کے لیے خصوصی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا، بیرون ملک سے ویڈیو لنک کے ذریعے گواہی ریکارڈ کرنے کی سہولت متعارف کرائی ہے۔
مقدمات کی ای فائلنگ، ٹیکسیشن و بینکنگ میں سہولت دی گئی۔ اسحاق ڈارنے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے بچوں کے لیے یونیورسٹیوں اور میڈیکل کالجز میں کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔(جاری ہے)
ترجمان کے مطابق پنجاب اور بلوچستان میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سہولت دفاتر قائم کئے گئے ہیں۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ ایئرپورٹس پر گرین چینل سہولت بحال کر دی گئی، 126 ممالک کے لیے ویزا پرائر ٹو ارائیول کیٹیگری متعارف کرائی گئی۔
ترجمان کے مطابق ڈپٹی وزیراعظم نے قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی اور ٹیم کی کاوشوں کو سراہا،نیویارک قونصلیٹ میں 24 گھنٹے ایمرجنسی ہیلپ لائن کا آغاز کر دیا گیا، پنجاب لینڈ ریکارڈ کِیوسک کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ترجمان دفترخارجہ کے مطابق قونصلیٹ کا نیا ویب پورٹل لانچ کر دیا گیا، کمیونٹی کو مزید سہولت ملے گی۔نادرا ڈیسک اور آن لائن پاور آف اٹارنی کی سہولت قونصلیٹ میں دستیاب ہے۔ قونصلیٹ میں آن لائن اپوائنٹمنٹ سسٹم کا آغاز کر دیا گیا، باقاعدہ ای کچہریاں اور کمیونٹی ٹاؤن ہالز کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے،ثقافتی اور اقتصادی روابط کے فروغ کے لیے قونصلیٹ سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے قونصلیٹ میں کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
بیرون ملک سفری پابندیوں سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ سامنے آگیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ صرف اوور اسٹے پر دوسرے ملک سے ڈی پورٹ ہونا سفری پابندی کا جواز نہیں، جسٹس محمد آصف نے چار صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے دوسرے ملک سے اوور اسٹے پر ڈی پورٹ ہونے پر پی سی ایل میں نام ڈالنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ سفری پابندی کے لیے کسی جرم ، سیکیورٹی خدشے یا ناقابل تردید ثبوت کا وجود ضروری ہے، بغیر جرم شہری کے بیرونِ ملک سفر اور روزگار کے آئینی حق پر پابندی لگانے کا جواز نہیں۔
عدالت نے کہا کہ سفری پابندی کا اقدام آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10-A، 15، 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔ شہری کا نام اس طرح سفری پابندی لسٹ میں رکھنا آئین کے بنیادی حقوق اور قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت کے مطابق وفاقی حکومت نے بتایا کہ خلیجی ملک میں اوور اسٹے کی وجہ سے شہری ڈی پورٹ ہوا، وفاقی حکومت کا موقف ہے پالیسی کی تحت شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا، وفاقی حکومت کے مطابق دوسرے شہریوں کے ویزوں کے تحفظ اور ملک کے وقار کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا۔