نئی سہولت کا آغاز اوورسیز پاکستانیوں کی سنی گئی
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک: پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (پی ایل آر اے) نے اوورسیز پاکستانیوں کیلیے بغیر سم کارڈ اسٹامپ پیپر حاصل کرنے کا آسان طریقہ متعارف کروا دیا۔
حکومت پنجاب نے اسٹامپ پیپر حاصل کرنے کیلیے رجسٹرڈ سم کارڈ ہونا لازمی قرار دیا تھا تاکہ او ٹی پی موصول ہو سکے لیکن اس سے وہ اوورسیز پاکستانیوں کافی پریشان رہے جن کے پاس سم کارڈ نہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اب اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جس میں رجسٹرڈ سم کارڈ کی شرط ختم کر دی گئی، اب اوورسیز پاکستانی اسٹامپ پیپر کیلیے او ٹی پی بذریعہ ای میل وصول کر سکیں گے۔
ڈالر کی قیمت میں کمی
نئی پالیسی کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اب مقامی رجسٹرڈ سم کارڈ کی ضرورت نہیں رہے گی، اسٹامپ پیپر اور پاورز آف اٹارنی وغیرہ کیلیے او ٹی پی ای میل پر ملے گا، سہولت سے دنیا کے کسی بھی کونے سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
ترجمان پی ایل آر اے کے مطابق ای میل OTP سسٹم خاص طور پر بیرون ملک پاکستانیوں کیلیے بنایا گیا ہے۔
سہولت سے اوورسیز پاکستانیوں کیلیے اسٹامپ پیپر حاصل کرنا اور پاور آف اٹارنی سمیت دیگر قانونی دستاویزات مکمل کرنا آسان ہو جائے گا۔
روزِ اول سے پاکستان کو ڈیجیٹل نیشن بنانے کیلئے اقدامات کو اولین ترجیح دی؛ وزیراعظم
پی ایل آر اے نئے سسٹم کے تحت بیرون ملک پاکستانیوں کیلیے رسائی اور سہولت کو بڑھا رہا ہے تاکہ وہ اپنے قانونی و جائیداد کے معاملات تیزی اور آسانی سے حل کر سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اوورسیز پاکستانیوں پاکستانیوں کیلیے پاکستانیوں کی اسٹامپ پیپر سم کارڈ
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔