پنجاب سوشل سکیورٹی گورننگ باڈی اجلاس، مزدوروں کی فلاح و بہبود کیلئے اہم فیصلے
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
کلیم اختر:صوبائی وزیر لیبر فیصل ایوب کھوکھر کی زیر صدارت پنجاب سوشل سکیورٹی (پیسی) گورننگ باڈی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری لیبر نعیم غوث، کمشنر پنجاب سوشل سکیورٹی محمد علی سمیت دیگر ممبران نے شرکت کی۔
اجلاس میں مزدوروں اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں ڈسکہ روڈ ڈسپنسری کو سوشل سکیورٹی بنیادی مرکز صحت سیالکوٹ کے درجے پر، ایمرجنسی سنٹر انڈس شوگر ملز کو سوشل سکیورٹی ڈسپنسری کے درجے پر اور پنڈی بھٹیاں ڈسپنسری کو بنیادی مرکز صحت کے درجے پر اپ گریڈ کرنے کی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ واہ کینٹ میں نئی سوشل سکیورٹی ڈسپنسری قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ماڈل ٹاؤن کانشترکالونی میں مبینہ پولیس مقابلے میں ملزم ہلاک
رحیم یار خان میں 50 بستروں پر مشتمل پیسی ہسپتال جبکہ لاہور ڈیفنس روڈ پر 100 بستروں پر مشتمل کارڈیک ہسپتال کے قیام کی ہدایت بھی دی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ 166ویں، 167ویں اور 168ویں اجلاس میں منظور شدہ سکیمز پر عملدرآمد کی رپورٹ پیش کی گئی۔
مزید برآں پیسی کے بڑے 12 ہسپتالوں کو سولر پر منتقل کرنے، پیسی پنشن ریگولیشنز 2003 اور گورننگ باڈی قواعد 1966 میں ترامیم، 2025-26 میں زائد قیمت پر ادویات کی خریداری کے سپلائی آرڈرز اور مریم نواز راشن کارڈ ونگ سمیت دیگر ونگز کے لیے پوسٹوں کی شفٹنگ کی منظوری بھی دی گئی۔
اوورسیز پاکستانیوں کے لیے او پی سی پنجاب میں جدید فیسلیٹیشن سنٹر قائم
اجلاس میں فلڈ ریلیف میڈیکل کیمپس میں ڈیوٹی سرانجام دینے والے ڈاکٹروں اور دیگر عملے کو اعزازیہ دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔
فیصل ایوب کھوکھر کا کہنا تھا کہ ڈینگی کے ممکنہ خدشات کے پیش نظر ہسپتالوں میں بہترین انتظامات کئے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔