اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں میں فوج تعینات کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کی جانب سے فوج تعیناتی کیلئے کہا گیا تھا۔ وزارت داخلہ نے اسلام آباد میں بھی فوج تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق فوج سول اداروں کی مدد کیلئے سکیورٹی کے فرائض سرانجام دے گی۔ اسلام ٹائمز۔ وزارت داخلہ نے محرم الحرام کے دوران سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ملک بھر میں فوج کی تعیناتی کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے محرم الحرام میں سکیورٹی کے پیش نظر چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کی جانب سے فوج تعیناتی کیلئے کہا گیا تھا۔ وزارت داخلہ نے اسلام آباد میں بھی فوج تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق فوج سول اداروں کی مدد کیلئے سکیورٹی کے فرائض سرانجام دے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: چاروں صوبوں فوج تعیناتی وزارت داخلہ
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔