سعودی حکومت کا انوکھا فیصلہ، بیمار افراد کیلئے حج کرنا ممنوع قرار
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
سعودی وزارت صحت کی ہدایات کے مطابق عازمین حج 2026 کیلئے طبی شرائط میں کینسر، دل، گردوں، پھیپھڑوں، جگر، رعشہ، نفسیاتی امراض، کمزور یادداشت، ضعیف مریض شامل ہیں، اس کے علاوہ حاملہ خواتین، کالی کھانسی، تپ دق، وائرل ہیمرج بخار والے بھی حج نہیں کر سکیں گے۔ وزارت مذہبی امور کے مطابق جعلی یا غلط سرٹیفکیٹ دینے والے ڈاکٹر کیخلاف بھی کارروائی ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ وزارت مذہبی امور کے حکام کا کہنا ہے عازمین حج اور انہیں صحتمندی کا میڈیکل سرٹیفکیٹ دینے والے خبردار، ہوشیار ہو جائیں۔ سعودی حکومت نے سخت پابندی عائد کردی ہے، بیمار افراد کیلئے حج کرنا ممنوع قرار دیدیا گیا ہے۔ سعودی وزارت صحت کی ہدایات کے مطابق عازمین حج 2026 کیلئے طبی شرائط میں کینسر، دل، گردوں، پھیپھڑوں، جگر، رعشہ، نفسیاتی امراض، کمزور یادداشت، ضعیف مریض شامل ہیں، اس کے علاوہ حاملہ خواتین، کالی کھانسی، تپ دق، وائرل ہیمرج بخار والے بھی حج نہیں کر سکیں گے۔ وزارت مذہبی امور کے مطابق جعلی یا غلط سرٹیفکیٹ دینے والے ڈاکٹر کیخلاف بھی کارروائی ہوگی۔ بیمار عازم حج کو ڈی پورٹ کر دیا جائے گا، جس کے اخراجات بھی مریض کو خود ادا کرنا ہوں گے۔ سعودی حکام کی مانیٹرنگ ٹیمیں عازم حج کے فٹنس سرٹیفکیٹ کی درستی کی تصدیق کریں گی۔ وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ مقررہ بنیادی صحت کے حامل افراد ہی سفر حج پر روانہ ہوں گے۔ میڈیکل افسر بیمارعازمین کو حج پر روانگی سے روکنے کا مجاز ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔