ن لیگ کی قیادت سے مذاکرات جاری ہیں، جلد اچھی خبر ملے گی: فواد چودھری
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما اور وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے، اور آنے والے دنوں میں مثبت پیش رفت متوقع ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فواد چودھری نے مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین سے اہم ملاقات کی، جس میں سیاسی کشیدگی میں کمی اور مفاہمتی عمل کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں فواد چودھری نے بتایا کہ چودھری شجاعت نے سیاسی درجہ حرارت میں کمی کے لیے مذاکرات کو ناگزیر قرار دیا ہے، ملک میں اس وقت تلخی اور تقسیم اپنی انتہا پر ہے، ایسے میں تمام سیاسی قوتوں کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا۔
فواد چودھری کے مطابق وہ سیاسی تناؤ کم کرنے کے لیے ن لیگ کے رہنماؤں سے اعلیٰ سطح پر ملاقاتیں کر چکے ہیں، اور امید ہے کہ آنے والے دنوں میں اچھی اور مثبت خبریں سننے کو ملیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کو مذاکراتی عمل کا حصہ بنانا ضروری ہے جن کے دونوں جانب بہتر تعلقات ہوں تاکہ سیاسی فضا میں اعتماد بحال ہو۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ اب بھی تحریک انصاف کا حصہ ہیں، اور جو لوگ غیرسنجیدہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، ان پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ ان کے مطابق، حقیقی طور پر عمران خان کے نظریاتی حامی اس مفاہمتی پیش رفت سے خوش ہوں گے۔
سابق وزیر نے بتایا کہ پہلا ہدف لاہور جیل میں قید پی ٹی آئی کارکنان کی رہائی ہے، کیونکہ ملک میں تقسیم خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور موجودہ حالات میں مفاہمت ہی واحد راستہ ہے۔
فواد چودھری نے کہا کہ چودھری شجاعت حسین ان رہنماؤں میں شامل ہیں جو ہمیشہ بات چیت اور مفاہمت پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ بانی پی ٹی آئی سمیت دیگر سیاسی قوتیں بھی چودھری شجاعت کا احترام کرتی ہیں۔
اس موقع پر عمران اسماعیل نے کہا کہ اگر ہم طالبان سے مذاکرات کر سکتے ہیں تو اپنے ہی لوگوں سے کیوں نہیں؟ ان کے مطابق، اگر پی ٹی آئی لچک دکھائے گی تو دوسری جانب سے بھی مثبت ردعمل آئے گا۔ عمران اسماعیل نے بتایا کہ شاہ محمود قریشی بھی مفاہمتی سیاست کے حامی ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ملک کو استحکام کی طرف لے جانے کے لیے مزاحمت نہیں بلکہ مکالمہ ضروری ہے۔
ذرائع کے مطابق فواد چودھری، عمران اسماعیل اور محمود مولوی نے سیاسی محاذ پر سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اور مختلف جماعتوں کے رہنماؤں سے رابطے جاری ہیں۔
اطلاعات کے مطابق یہ وفد کل نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ملاقات کرے گا، جس میں سیاسی تناؤ میں کمی اور مذاکراتی عمل کے فروغ پر بات چیت کی جائے گی۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ فواد چودھری اور ان کے ساتھی اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور مولانا فضل الرحمان سے بھی ملاقاتیں کریں گے، جب کہ سیاسی رابطوں کے بعد یہ وفد اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے انہیں مفاہمتی پیش رفت سے آگاہ کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فواد چودھری نے چودھری شجاعت پی ٹی آئی کے مطابق بتایا کہ کے لیے نے کہا
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔