سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس؛ ایجنڈا میں27 ویں ترمیم نہیں نکلی
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
سٹی42: سینیٹ اور قومی اسمبلی کے سیکریٹریٹس نے جمعہ کے روز ہونے والے الگ الگ اجلاسوں کا ایجنڈا میڈیا کو ریلیز کردیا ۔حکومت کی جانب سے نیب ترمیم 2023 واپس لینے کیلئے تحریک پیش کی جائے گی۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے کل کے اجلاس کا 14نکاتی ایجنڈا جاری کردیا، سینیٹ اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے کل ہونے والے اجلاسوں کا ایجنڈا جاری کردیا، 27ویں آئینی ترمیم قومی اسمبلی ایجنڈے میں بھی شامل نہیں ہے۔
واٹس ایپ صارفین کیلئے خوشخبری ,اب بغیر فون نکالے ایپ استعمال کرنا ممکن
سینیٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری ایجنڈے کے مطابق اجلاس میں فیڈرل پراسکیوشن سروس ترمیمی بل 2025 کی منظوری، سی ڈی اے ترمیمی بل 2025 ، نیشنل اسکول فار پبلک پالیسی ترمیمی بل پر قانوں سازی کی جائے گی۔
ایجنڈے کے مطابق حکومت کا نیب ترمیمی بل 2023واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نیب ترمیمی بل واپس لینے کی تحریک پیش کریں گے، رولز 115 کے تحت سینیٹ میں پیش نیب ترمیمی بل واپس لیا جائیگا۔
یوٹیوبرڈکی بھائی کےمقدمہ میں مبینہ رشوت لینےوالےافسران نےاستعفے دیدیئے
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 قومی اسمبلی
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔