میڈیکل کالجز کیلئے داخلہ پالیسی منظور، غریب مریض کو علاج کی سہولت ملنی چاہئے: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیر اعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں محکمہ صحت سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ پنجاب کے پبلک اور پرائیویٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز کیلئے ایڈمشن پالیسی کی منظوری دی گئی۔ سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلے کیلئے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ پاس کرنا ضروری قرار دیا گیا۔ اوورسیز پاکستانیز کے بچوں کیلئے 20ہزار ڈالر فیس مقرر کی گئی۔ پرائیویٹ میڈیکل کالج میں داخلے کیلئے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں فیس جمع کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ پرائیویٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز کی حتمی لسٹ آنے کے بعد متعلقہ کالج کو جمع شدہ ایک تہائی فیس ٹرانسفر کرے گی۔ پرائیویٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز میں داخلے کے خواہشمند طلبا حتمی میرٹ لسٹ آنے پر متعلقہ کالج میں ہی فیس جمع کرائیں گے۔ پرائیویٹ ہسپتالوں میں پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کے بعد لازمی سروس لینے کی باہم تجویز پر اتفاق کیا گیا۔ پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں سپیشلسٹ کی مانگ کے مطابق ٹرینی ڈاکٹر کومتعلقہ شعبے میں سپیشلائزڈکیلئے بھیجا جائے گا۔ مریم نواز نے ساہیوال میں پہلی کامیاب انجیو پلاسٹی پر اظہار مسرت کیا ہے۔ ساہیوال کے کارڈیک مرکز میں سرجری کے آغاز کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ میو ہسپتال کو ابلیشن سینٹر میں مریضوں کے علا ج کیلئے فول پروف اور شفاف طریق کار وضع کرنے کینسر کے مریضوں کو ہر صورت ریلیف دینے کی ہدایت ہے۔ نئے میڈیکل کالج کی الگ بلڈنگ بنانے کے بجائے سرکاری یونیورسٹیوں میں ہی میڈیکل بلاک بنانے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا ہے۔ پنجاب کے مختلف اداروں کے بورڈ آف مینجمنٹ کی منظوری دے دی۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ پنجاب کے ہر ہسپتال میں غریب مریض کو روپیہ خرچ کیے بغیر مفت علاج کی سہولت ملنی چاہیے۔ میں چاہتی ہوں کہ کینسر کے ہر مریض کا علاج ممکن بنایا جائے۔ٰ مریم نوازنے نواز شریف میڈیکل سٹی کے جلد قیام کیلئے بھی ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ادھر مریم نواز سے پاکستان میں تعینات آئرلینڈ کی پہلی ریزیڈنٹ سفیر میری او نیل نے ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے آئر لینڈ کی سفیر میری او نیل کا پر خلوص و پر تپاک خیر مقدم کیا۔ پاک آئرلینڈ تعلقات کے فروغ، تجارتی مواقع، موسمیاتی تعاون، تعلیم، آئی ٹی اور عوامی روابط کے فروغ پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ تجارتی،تعلیمی اور ماحولیاتی شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے آئرلینڈ کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت،مکمل معاونت کی یقین دہانی کرائی۔ مریم نواز نے کہا کہ آئرلینڈ اصول پسندی اور ترقی کی علامت ہے، سفیر میری اونیل کی آمد تعلقات میں نئے باب کا آغاز ہے۔ آئرش اداروں، بزنس اورعوام سے نئی شراکت داری کا اہم ذریعہ ہوگا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ آئرش سفارت خانے کا قیام پاکستان اور آئرلینڈ کے درمیان سیاسی، معاشی، ثقافتی اور تعلیمی تعاون کو نئی جہت دے گا۔ پاکستان اور آئرلینڈ امن، کثیرالجہتی تعاون اور رول بیسڈ انٹرنیشنل آرڈر کے حامی ہیں۔ پنجاب ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ خطہ ہے اور حالیہ تباہ کن سیلاب اس کی واضح مثال ہے۔پنجاب اور آئر لینڈ کے مابین موسمیاتی رزیلینس، پائیدار زراعت، رینیوایبل انرجی اور گرین ٹرانزیشن میں تعاون ممکن ہے۔ پاک آئر لینڈ موجودہ دوطرفہ تجارت 213 ملین ڈالر، کئی گنا مزید بڑھائی جا سکتی ہے۔ پنجاب آئر لینڈ کو زرعی ترقی،ڈیری فارمنگ، لائیو سٹاک، آئی ٹی اور رینیوایبل انرجی میں شاندار مواقع فراہم کرسکتا ہے۔ پاکستان کی سپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خصوصی سہولتیں اور مراعات دے رہی ہے۔ پنجاب آئرلینڈ کو محض ایک سفارتی پارٹنر نہیں بلکہ ایک دوست کے طور پر دیکھتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پرائیویٹ میڈیکل میڈیکل کالج مریم نواز ا ئر لینڈ ا ئرلینڈ کیا گیا
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔