مریم نواز تفرقہ انگیز باتوں کے بجائے خدمت پر توجہ دیں،شازیہ مری
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
اسلام آباد : رہنما پاکستان پیپلز پارٹی شازیہ مری نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو تفرقہ انگیز باتوں کے بجائے خدمت پر توجہ دینی چاہیے۔
مریم نواز کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے شازیہ مری نے کہا کہ پاکستان کھوکھلے بیانیے کا متحمل نہیں ہو سکتا لہٰذا وزیراعلیٰ پنجاب کو تفرقہ انگیز باتوں کے بجائے خدمت پر توجہ دینی چاہیے۔ شازیہ مری نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری ہمیشہ سیلاب متاثرین کی مدد پر فوکس کرتے ہیں، جو سیلاب متاثرین کیلئے ریلیف مانگ رہے ہیں وہ سیاست نہیں کر رہے، لوگ اب بھی پانی میں پھنسے ہیں اور مدد کے منتظر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی عوام کی خدمت پر یقین رکھتی ہے کھوکھلے بیانات پر نہیں، جو جوس کے ڈبوں پر تصویریں لگا رہے ہیں اور ٹک ٹاک بنا رہے ہیں اسے ریلیف ورک کہتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔