کراچی:

وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ بلاول نے بی آئی ایس پی والی بات بھی پنجاب حکومت سے نہیں وزیراعظم کو مخاطب کرکے کہی تھی، ہم وفاق سے بات کرتے ہیں تو پنجاب کو اعتراض ہوتا ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ سندھ حکومت کسانوں کو مدد فراہم کررہی ہے اور گندم کے کسانوں کو سپورٹ کررہی ہے، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ کسانوں کو سپورٹ کیا، کل بلاول نے انقلابی پالیسی کا اعلان کیا ان کی پالیسی سے کسان خوشحال ہوگا۔

انہوں ںے کہا کہ 25 ایکڑ تک کے کاشت کاروں کو کھاد اور بیج دیا جارہا ہے، 25 ایکڑ سے کم زمین والے کسان کو ہر ایکڑ کے عوض کھاد دی جائے گی، 4 لاکھ 4 ہزار 408 کسانوں کو پیکیج ملے گا، اس پیکیج سے 22 لاکھ ایکڑ زمین آباد ہوگی کسی کمپنی نے کھاد بلیک کی تو اسے بلیک لسٹ کردیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ 2008ء سے قبل پاکستان گندم درآمد کرتا تھا اور اس کے بعد برآمد کرنے لگا، گندم درآمد کرنے سے زرمبادلہ ضائع ہوگا، صدر زرداری نے گندم کے لیے مربوط پالیسی بنائی، وفاقی حکومت کو سبسڈی کے لیے آئی ایم ایف سے بات کرنی چاہیے کیوں کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے سبب گندم کی امدادی قیمت بند کی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی گزشتہ روز کی تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ  بلاول کی باتیں پنجاب کو عجیب لگتی ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا خوددار آدمی امداد کی اپیل کیسے کرسکتا ہے؟ عالمی اداروں سے مدد کی اپیل بلاول کی تھی، وزیراعلیٰ پنجاب کے ریمارکس نامناسب نہیں تھے، اپیل کرنے والا کیا خود دار نہیں؟ ایسا کہنا غلط ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی سیلاب پر سیاست نہیں کررہی، جب بھی بلاول وزیراعظم کی تعریف کرتے ہیں پنجاب حکومت کو تکلیف ہوتی ہے، بلاول نے بی آئی ایس پی والی بات بھی پنجاب حکومت سے نہیں وزیراعظم کو مخاطب کرکے کہی تھی، ہم وفاقی حکومت سے بات کرتے ہیں تو پنجاب حکومت کو اعتراض ہوتا ہے۔

وزیر اطلاعات سندھ کا کہنا تھا کہ مریم نواز میری بہنوں جیسی ہیں مگر جب بات کریں تو سیاسی طریقے سے بات کریں، خود داری یا ایمان داری کا سرٹیفکیٹ پنجاب حکومت سے نہیں لینا، پیپلز پارٹی نے سیلاب متاثرین کی خدمت کرتے ہوئے ٹک ٹاک نہیں بنوائے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پنجاب حکومت کسانوں کو حکومت سے کہا کہ سے بات

پڑھیں:

پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز

لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ  کے وژنری  اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ  نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز  نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔  ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز  کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔  رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے