WE News:
2026-07-24@09:20:14 GMT

پُرامن معاشرے کے معمار

اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT

پُرامن معاشرے کے معمار

معاشرے کی بنیاد صرف مادی ترقی یا تکنیکی اختراعات پر نہیں رکھی جا سکتی۔ ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنس دان، بینکرز عسکری ادارے اور سیاست دان معاشرے کو چلانے کا ذریعہ ہیں۔ لیکن شاعر، ادیب، فن کار، اساتذہ اور جدید دور میں سوشل میڈیا کے تخلیق کار اس کی روح کو تشکیل دیتے ہیں۔

یہ تخلیقی قوتیں الفاظ، خیالات، تصاویر اور موسیقی کے ذریعے انسانی شعور، جذبات اور اخلاقیات کو جلا بخشتی ہیں۔ تاہم، جب یہی قوتیں نفرت، خوف، یا تعصب کو فروغ دیتی ہیں، تو معاشرہ اپنا توازن کھو  بیٹھتا ہے۔

آج کے دور میں جب شدت پسندی اور عدم برداشت ہمارے اجتماعی شعور کو کمزور کر رہی ہے۔ ادب، فنون لطیفہ، تعلیم، اور سوشل میڈیا کو امن، برداشت اور انسانی اقدار کے فروغ کے لیے استعمال کرنا ناگزیر ہے۔

شاعر اپنے کلام سے، ادیب اپنی تحریروں سے، موسیقار اپنی دھنوں سے، مصور اپنی تصاویر سے اور اساتذہ  تعلیم سے معاشرے کی سوچ کو بدل سکتے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگوں اور تنازعات کے ادوار میں تخلیقی ذہنوں نے امن کی آواز بلند کی۔ مثال کے طور پر، جنگ عظیم اول کے دوران آئرش شاعر ولیم بٹلر ییٹس نے اپنی نظم “An Irish Airman Foresees His Death” میں جنگ کے بے معنی پن کو اجاگر کیا۔

ہسپانوی خانہ جنگی میں پابلو پکاسو کی پینٹنگ “Guernica” نے جنگ کی تباہ کاریوں کو دکھا کر امن کی تحریکوں کو تقویت دی۔

پاکستانی شاعر فیض احمد فیض نے ’ہم دیکھیں گے‘ جیسے کلام سے ظلم کے خلاف مزاحمت اور پرامن معاشرے کا پیغام دیا۔ اسی طرح، ساحر لدھیانوی کی نظم ’اے شریف انسانو‘ تقسیم ہند کے بعد کے سماجی زخموں کو بیان کرتی ہے اور انسانیت سے خطاب کرتے ہوئے نفرت کے بجائے محبت اور امن کی اپیل کرتی ہے، جو آج بھی ہم آہنگی کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔

لوک ادب، صوفی شاعری اور موسیقی ایسی تخلیقی قوتیں ہیں جو زبان، مذہب، اور طبقاتی تقسیم سے ماورا ہو کر لوگوں کے دلوں کو جوڑتی ہیں۔

جنوبی ایشیا، بالخصوص پاکستان، کی ثقافتی وراثت میں یہ عناصر صدیوں سے معاشرتی ہم آہنگی اور امن کے فروغ کا ذریعہ رہے ہیں۔

لوک ادب کی سادہ کہانیاں اور صوفی شاعری کے عمیق پیغامات عام لوگوں کے جذبات کو چھوتے ہیں، جبکہ موسیقی ان پیغامات کو ایک عالمگیر زبان میں ڈھالتی ہے۔

لوک رومانی داستانیں، جیسے کہ پنجابی، سندھی، پختون یا بلوچی ثقافتوں میں سنائی جانے والی محبت اور قربانی کی کہانیاں، انسانی رشتوں کی اہمیت اور سماجی بندھنوں کی عکاسی کرتی ہیں۔

یہ داستانیں محبت، رواداری اور قربانی کے پیغامات کے ذریعے مختلف مذاہب اور طبقات کے لوگوں کو ایک مشترکہ ثقافتی وراثت کے تحت جوڑتی ہیں۔

مثال کے طور پر امریتا پریتم کا ناول ’پنجر‘ جو لوک رومانی داستانوں سے متاثر ہے، تقسیم ہند کے زخموں کو بیان کرتا ہے اور انسانی تکلیف، محبت، اور مفاہمت کے ذریعے امن کا پیغام دیتا ہے۔

اس ناول کی مرکزی کردار پُورو کی کہانی لوک داستانوں کی طرح سماجی ہم آہنگی اور انسانی اقدار کو اجاگر کرتی ہے، جو نفرت اور تقسیمِ ہند کے مقابلے میں محبت اور اتحاد کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔

اسی طرح، پاکستان اور بھارت کے دیہاتوں میں زبانی روایات کے ذریعے سنائی جانے والی لوک داستانیں لوگوں کو فرقہ وارانہ تقسیم سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کے قریب لاتی ہیں۔ یہ داستانیں نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور باہمی احترام کا سبق بھی سکھاتی ہیں۔

صوفی شاعر جیسے بلھے شاہ، شاہ حسین، بابا فرید، رحمان بابا   اور شاہ عبدالطیف بھٹائی نے اپنی شاعری میں محبت، انسانیت، اور روحانی ہم آہنگی کا پیغام دیا۔

بلھے شاہ کا کلام، جیسے ’بلھا کی جاناں میں کون‘، ذات پات اور مذہبی تعصبات سے آزاد ایک ایسی دنیا کی ترغیب دیتا ہے جہاں سب انسان برابر ہیں۔

ان کا پیغام آج بھی پنجاب کے صوفی میلوں اور درباروں میں گونجتا ہے، جہاں مختلف مذاہب کے لوگ اکٹھے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت و احترام کا رشتہ استوار کرتے ہیں۔ صوفی شاعری نے ہمیشہ سے نفرت اور تقسیم کے مقابلے میں اتحاد اور امن کو فروغ دیا ہے۔

صوفی موسیقی، جیسے کہ قوالی، مختلف طبقات کو ایک لڑی میں پرو دیتی ہے۔ نصرت فتح علی خان کی قوالیوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں لوگوں کو ایک روحانی اور جذباتی سطح پر جوڑا۔

ان کی قوالی ’دم مست قلندر‘ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگوں کو ایک ہی دھن پر جھومنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اسی طرح مقامی لوک موسیقی اور شاعری جیسے پنجاب میں ٹپے اور ماہیے، سندھ  میں سُر اور وائی، پختون ثقافت میں ٹپہ اور بلوچی میں لیوا، ثقافتی تقریبات میں مختلف گروہوں کوایک دوسرے کےقریب لاتے ہوئے سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔

لوک ادب، صوفی شاعری، اور موسیقی کی یہ طاقت معاشرے میں امن کو فروغ دینے کا ایک منفرد ذریعہ ہے، کیونکہ یہ عام لوگوں کی زبان ہے جو دلوں کو چھو جاتی ہے۔

اسی طرح اساتذہ بھی معاشرے کے معمار ہیں جو نئی نسل کی ذہنی، اخلاقی، اور سماجی تربیت کرتے ہیں۔ ایک ایسا نصاب جو معاشرتی اقدار جیسے رواداری، انصاف، اور انسانیت سے ہم آہنگ ہو، امن کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

بدقسمتی سے، ہمارے خطے میں تعلیم کو اکثر مخصوص نظریاتی بیانیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جس نے تنقیدی سوچ کو محدود کیا۔ اس کے برعکس، اگر نصاب میں لوک رومانی داستانیں، صوفی شاعری، اور متنوع مذہبی و ثقافتی روایات شامل کی جائیں، تو طلبہ میں مختلف طبقات کے لیے احترام اور مشترکہ انسانی اقدار کا شعور پیدا ہو سکتا ہے۔

مثال کے طور پر، اگر نصاب میں صوفی شاعری یا لوک داستانوں کے پیغامات شامل کیے جائیں، تو طلبہ محبت، رواداری، اور ہم آہنگی کاسبق سیکھ سکتے ہیں۔

اساتذہ کا کردار یہ ہے کہ وہ ایسی تعلیم دیں جو طلبہ کو تنقیدی سوچ، ہمدردی، اور سماجی ہم آہنگی کی طرف راغب کرے، نہ کہ تعصب یا تقسیم کو فروغ دے۔

آج کے ڈیجیٹل دور میں، سوشل میڈیا ایک ایسی تخلیقی قوت بن چکا ہے جو لمحوں میں لاکھوں دلوں تک پہنچ سکتا ہے۔ بدقسمتی سے، یہ پلیٹ فارم اکثر نفرت، تعصب، اور غلط معلومات پھیلانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ مثال کے طور پر، 2020 میں بھارت میں دہلی فسادات کے دوران سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد نے کشیدگی کو ہوا دی۔

اسی طرح، ہمارے خطے میں سیاسی یا مذہبی اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا غلط استعمال عام ہے۔

تاہم، سوشل میڈیا کو امن کے فروغ کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، خاص طور پرامن پسند اور لوک ادب اور صوفی شاعری اور موسیقی کو عام کرنے کے لیے۔

مثال کے طور پر، نصرت فتح علی خان کی قوالیوں، سائیں ظہور اور عابدہ پروین کے کلام  کو یوٹیوب اور فیس بُک پر لاکھوں لوگوں نے سنا اور شیئر کیا، جس سے پاکستان کی ثقافتی تنوع اور ہم آہنگی کا پیغام پھیلا۔

ملالہ یوسفزئی نے سوشل میڈیا کا استعمال کر کے تعلیم اور امن کا پیغام دنیا بھر میں پہنچایا اور نوبل انعام کی حقدار ٹھہری۔

امن اور محبت کے فروغ کے لیے میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا کا  مثبت استعمال  کیسے کیا جائے: لوک اور صوفی مواد کا فروغ:

شاعر اور فنکار  لوک داستانیں، صوفی شاعری، اور موسیقی کو سوشل میڈیا پر شیئر کریں تاکہ نئی نسل اپنی ثقافتی جڑوں سے جڑے اور رواداری سیکھے۔

تنقیدی سوچ کی ترغیب:

اساتذہ اور تخلیق کار ایسی پوسٹس شیئر کریں جو لوگوں کو حقائق کی جانچ پڑتال اور تنقیدی سوچ کی طرف راغب کریں۔

تعمیری مکالمہ:

نفرت انگیز تبصروں کے جواب میں، تخلیق کار تعمیری مکالمے کو فروغ دیں جو اختلاف رائے کو احترام سے حل کرے۔

مقامی مسائل پر توجہ:

مقامی فنکار اپنے خطے کے مسائل، جیسے کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی، کو ادب اور  موسیقی کے ذریعے اجاگر کریں۔

جب تخلیقی قوتیں، چاہے وہ روایتی ادب ہو، لوک فنون ہوں، تعلیم ہو، یا سوشل میڈیا، نفرت اور تعصب کو فروغ دیتی ہیں، تو معاشرے کی بنیادیں کمزور ہوتی  ہیں۔ پروپیگنڈے کے لیے فنون لطیفہ کا استعمال ہو یا آج کے سوشل میڈیا پر فیک نیوز کا پھیلاؤ، دونوں صورتوں میں تخلیقی قوتوں کا غلط استعمال معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتا ہے۔

شدت پسندی کے اس دور میں، شاعروں، ادیبوں، فنکاروں، اساتذہ، اور سوشل میڈیا تخلیق کاروں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہےکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو انسانیت، برداشت، اور امن کے فروغ کے لیے استعمال کریں۔

لوک داستانیں، امن پسند شاعری، اور موسیقی کو سوشل میڈیا کے ذریعے اجاگر کر کے مختلف طبقات کو جوڑا جا سکتا ہے۔ اساتذہ ایک ایسا نصاب اور رویہ اپنائیں جو معاشرتی اقدار سے ہم آہنگ ہو اور طلبہ میں تنقیدی سوچ اور ہمدردی پیدا کرے۔

اگر شاعر اپنے کلام میں محبت، ادیب اپنی تحریروں میں انصاف، مصور اپنی تصاویر میں خوبصورتی، اساتذہ اپنی تعلیم میں رواداری اور سوشل میڈیا تخلیق کار اپنی پوسٹوں میں ہم آہنگی کو فروغ دیں، تو معاشرہ نہ صرف مادی ترقی کرے گا بلکہ اخلاقی طور پر بھی مضبوط ہوگا۔

آج کے دور میں، جب نفرت اور شدت پسندی ہمارے اجتماعی شعور کو کمزور کر رہی ہے۔ امن پسند ادب، لوک رومانی داستانیں اور صوفی موسیقی کی عالمگیر زبان، معاشرتی اقدار سے ہم آہنگ تعلیم، اور سوشل میڈیا کی طاقت کے ذریعے مختلف طبقات کو جوڑ کر ایک پرامن معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

آئیے، ہم سب مل کر ایسی تخلیقات کی آبیاری کریں جو معاشرے کو امن کی راہ پر گامزن کریں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آشر گل

شاعر معاشرہ موسیقی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اور سوشل میڈیا کے فروغ کے لیے مثال کے طور پر مختلف طبقات امن کے فروغ تنقیدی سوچ لوک رومانی اور انسانی صوفی شاعری اور موسیقی صوفی شاعر معاشرے کی تخلیق کار کا ذریعہ کے ذریعے اور صوفی ہم آہنگی لوگوں کو نفرت اور کا پیغام اجاگر کر سکتا ہے لوک ادب اور امن کو فروغ کرتی ہے امن کی کے دور کو ایک

پڑھیں:

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ  نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق  بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی  کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔  بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی   ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع  ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

 بنگلہ دیش کے  میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی  ویڈیو قرار دیا، لیکن جب  تنقید کرنے والے  خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک  ادارے  نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔  نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ  ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو   میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر  تنقید کافی برھ گئی تو    جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔  غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے  اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

 نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور  ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ  شوہر کے مؤقف کی  تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی  قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

 بنگلہ دیشی میڈیا  میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم  سے متعلق  قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز  پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی  کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔ 

دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل

 بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔  غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو  دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔

 نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ  ڈرائیور، دوسری  کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا،  ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور  ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔  نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔  لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر  میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔  

پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی

  اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی