WE News:
2026-06-03@05:22:54 GMT

پُرامن معاشرے کے معمار

اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT

پُرامن معاشرے کے معمار

معاشرے کی بنیاد صرف مادی ترقی یا تکنیکی اختراعات پر نہیں رکھی جا سکتی۔ ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنس دان، بینکرز عسکری ادارے اور سیاست دان معاشرے کو چلانے کا ذریعہ ہیں۔ لیکن شاعر، ادیب، فن کار، اساتذہ اور جدید دور میں سوشل میڈیا کے تخلیق کار اس کی روح کو تشکیل دیتے ہیں۔

یہ تخلیقی قوتیں الفاظ، خیالات، تصاویر اور موسیقی کے ذریعے انسانی شعور، جذبات اور اخلاقیات کو جلا بخشتی ہیں۔ تاہم، جب یہی قوتیں نفرت، خوف، یا تعصب کو فروغ دیتی ہیں، تو معاشرہ اپنا توازن کھو  بیٹھتا ہے۔

آج کے دور میں جب شدت پسندی اور عدم برداشت ہمارے اجتماعی شعور کو کمزور کر رہی ہے۔ ادب، فنون لطیفہ، تعلیم، اور سوشل میڈیا کو امن، برداشت اور انسانی اقدار کے فروغ کے لیے استعمال کرنا ناگزیر ہے۔

شاعر اپنے کلام سے، ادیب اپنی تحریروں سے، موسیقار اپنی دھنوں سے، مصور اپنی تصاویر سے اور اساتذہ  تعلیم سے معاشرے کی سوچ کو بدل سکتے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگوں اور تنازعات کے ادوار میں تخلیقی ذہنوں نے امن کی آواز بلند کی۔ مثال کے طور پر، جنگ عظیم اول کے دوران آئرش شاعر ولیم بٹلر ییٹس نے اپنی نظم “An Irish Airman Foresees His Death” میں جنگ کے بے معنی پن کو اجاگر کیا۔

ہسپانوی خانہ جنگی میں پابلو پکاسو کی پینٹنگ “Guernica” نے جنگ کی تباہ کاریوں کو دکھا کر امن کی تحریکوں کو تقویت دی۔

پاکستانی شاعر فیض احمد فیض نے ’ہم دیکھیں گے‘ جیسے کلام سے ظلم کے خلاف مزاحمت اور پرامن معاشرے کا پیغام دیا۔ اسی طرح، ساحر لدھیانوی کی نظم ’اے شریف انسانو‘ تقسیم ہند کے بعد کے سماجی زخموں کو بیان کرتی ہے اور انسانیت سے خطاب کرتے ہوئے نفرت کے بجائے محبت اور امن کی اپیل کرتی ہے، جو آج بھی ہم آہنگی کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔

لوک ادب، صوفی شاعری اور موسیقی ایسی تخلیقی قوتیں ہیں جو زبان، مذہب، اور طبقاتی تقسیم سے ماورا ہو کر لوگوں کے دلوں کو جوڑتی ہیں۔

جنوبی ایشیا، بالخصوص پاکستان، کی ثقافتی وراثت میں یہ عناصر صدیوں سے معاشرتی ہم آہنگی اور امن کے فروغ کا ذریعہ رہے ہیں۔

لوک ادب کی سادہ کہانیاں اور صوفی شاعری کے عمیق پیغامات عام لوگوں کے جذبات کو چھوتے ہیں، جبکہ موسیقی ان پیغامات کو ایک عالمگیر زبان میں ڈھالتی ہے۔

لوک رومانی داستانیں، جیسے کہ پنجابی، سندھی، پختون یا بلوچی ثقافتوں میں سنائی جانے والی محبت اور قربانی کی کہانیاں، انسانی رشتوں کی اہمیت اور سماجی بندھنوں کی عکاسی کرتی ہیں۔

یہ داستانیں محبت، رواداری اور قربانی کے پیغامات کے ذریعے مختلف مذاہب اور طبقات کے لوگوں کو ایک مشترکہ ثقافتی وراثت کے تحت جوڑتی ہیں۔

مثال کے طور پر امریتا پریتم کا ناول ’پنجر‘ جو لوک رومانی داستانوں سے متاثر ہے، تقسیم ہند کے زخموں کو بیان کرتا ہے اور انسانی تکلیف، محبت، اور مفاہمت کے ذریعے امن کا پیغام دیتا ہے۔

اس ناول کی مرکزی کردار پُورو کی کہانی لوک داستانوں کی طرح سماجی ہم آہنگی اور انسانی اقدار کو اجاگر کرتی ہے، جو نفرت اور تقسیمِ ہند کے مقابلے میں محبت اور اتحاد کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔

اسی طرح، پاکستان اور بھارت کے دیہاتوں میں زبانی روایات کے ذریعے سنائی جانے والی لوک داستانیں لوگوں کو فرقہ وارانہ تقسیم سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کے قریب لاتی ہیں۔ یہ داستانیں نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور باہمی احترام کا سبق بھی سکھاتی ہیں۔

صوفی شاعر جیسے بلھے شاہ، شاہ حسین، بابا فرید، رحمان بابا   اور شاہ عبدالطیف بھٹائی نے اپنی شاعری میں محبت، انسانیت، اور روحانی ہم آہنگی کا پیغام دیا۔

بلھے شاہ کا کلام، جیسے ’بلھا کی جاناں میں کون‘، ذات پات اور مذہبی تعصبات سے آزاد ایک ایسی دنیا کی ترغیب دیتا ہے جہاں سب انسان برابر ہیں۔

ان کا پیغام آج بھی پنجاب کے صوفی میلوں اور درباروں میں گونجتا ہے، جہاں مختلف مذاہب کے لوگ اکٹھے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت و احترام کا رشتہ استوار کرتے ہیں۔ صوفی شاعری نے ہمیشہ سے نفرت اور تقسیم کے مقابلے میں اتحاد اور امن کو فروغ دیا ہے۔

صوفی موسیقی، جیسے کہ قوالی، مختلف طبقات کو ایک لڑی میں پرو دیتی ہے۔ نصرت فتح علی خان کی قوالیوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں لوگوں کو ایک روحانی اور جذباتی سطح پر جوڑا۔

ان کی قوالی ’دم مست قلندر‘ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگوں کو ایک ہی دھن پر جھومنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اسی طرح مقامی لوک موسیقی اور شاعری جیسے پنجاب میں ٹپے اور ماہیے، سندھ  میں سُر اور وائی، پختون ثقافت میں ٹپہ اور بلوچی میں لیوا، ثقافتی تقریبات میں مختلف گروہوں کوایک دوسرے کےقریب لاتے ہوئے سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔

لوک ادب، صوفی شاعری، اور موسیقی کی یہ طاقت معاشرے میں امن کو فروغ دینے کا ایک منفرد ذریعہ ہے، کیونکہ یہ عام لوگوں کی زبان ہے جو دلوں کو چھو جاتی ہے۔

اسی طرح اساتذہ بھی معاشرے کے معمار ہیں جو نئی نسل کی ذہنی، اخلاقی، اور سماجی تربیت کرتے ہیں۔ ایک ایسا نصاب جو معاشرتی اقدار جیسے رواداری، انصاف، اور انسانیت سے ہم آہنگ ہو، امن کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

بدقسمتی سے، ہمارے خطے میں تعلیم کو اکثر مخصوص نظریاتی بیانیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جس نے تنقیدی سوچ کو محدود کیا۔ اس کے برعکس، اگر نصاب میں لوک رومانی داستانیں، صوفی شاعری، اور متنوع مذہبی و ثقافتی روایات شامل کی جائیں، تو طلبہ میں مختلف طبقات کے لیے احترام اور مشترکہ انسانی اقدار کا شعور پیدا ہو سکتا ہے۔

مثال کے طور پر، اگر نصاب میں صوفی شاعری یا لوک داستانوں کے پیغامات شامل کیے جائیں، تو طلبہ محبت، رواداری، اور ہم آہنگی کاسبق سیکھ سکتے ہیں۔

اساتذہ کا کردار یہ ہے کہ وہ ایسی تعلیم دیں جو طلبہ کو تنقیدی سوچ، ہمدردی، اور سماجی ہم آہنگی کی طرف راغب کرے، نہ کہ تعصب یا تقسیم کو فروغ دے۔

آج کے ڈیجیٹل دور میں، سوشل میڈیا ایک ایسی تخلیقی قوت بن چکا ہے جو لمحوں میں لاکھوں دلوں تک پہنچ سکتا ہے۔ بدقسمتی سے، یہ پلیٹ فارم اکثر نفرت، تعصب، اور غلط معلومات پھیلانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ مثال کے طور پر، 2020 میں بھارت میں دہلی فسادات کے دوران سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد نے کشیدگی کو ہوا دی۔

اسی طرح، ہمارے خطے میں سیاسی یا مذہبی اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا غلط استعمال عام ہے۔

تاہم، سوشل میڈیا کو امن کے فروغ کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، خاص طور پرامن پسند اور لوک ادب اور صوفی شاعری اور موسیقی کو عام کرنے کے لیے۔

مثال کے طور پر، نصرت فتح علی خان کی قوالیوں، سائیں ظہور اور عابدہ پروین کے کلام  کو یوٹیوب اور فیس بُک پر لاکھوں لوگوں نے سنا اور شیئر کیا، جس سے پاکستان کی ثقافتی تنوع اور ہم آہنگی کا پیغام پھیلا۔

ملالہ یوسفزئی نے سوشل میڈیا کا استعمال کر کے تعلیم اور امن کا پیغام دنیا بھر میں پہنچایا اور نوبل انعام کی حقدار ٹھہری۔

امن اور محبت کے فروغ کے لیے میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا کا  مثبت استعمال  کیسے کیا جائے: لوک اور صوفی مواد کا فروغ:

شاعر اور فنکار  لوک داستانیں، صوفی شاعری، اور موسیقی کو سوشل میڈیا پر شیئر کریں تاکہ نئی نسل اپنی ثقافتی جڑوں سے جڑے اور رواداری سیکھے۔

تنقیدی سوچ کی ترغیب:

اساتذہ اور تخلیق کار ایسی پوسٹس شیئر کریں جو لوگوں کو حقائق کی جانچ پڑتال اور تنقیدی سوچ کی طرف راغب کریں۔

تعمیری مکالمہ:

نفرت انگیز تبصروں کے جواب میں، تخلیق کار تعمیری مکالمے کو فروغ دیں جو اختلاف رائے کو احترام سے حل کرے۔

مقامی مسائل پر توجہ:

مقامی فنکار اپنے خطے کے مسائل، جیسے کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی، کو ادب اور  موسیقی کے ذریعے اجاگر کریں۔

جب تخلیقی قوتیں، چاہے وہ روایتی ادب ہو، لوک فنون ہوں، تعلیم ہو، یا سوشل میڈیا، نفرت اور تعصب کو فروغ دیتی ہیں، تو معاشرے کی بنیادیں کمزور ہوتی  ہیں۔ پروپیگنڈے کے لیے فنون لطیفہ کا استعمال ہو یا آج کے سوشل میڈیا پر فیک نیوز کا پھیلاؤ، دونوں صورتوں میں تخلیقی قوتوں کا غلط استعمال معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتا ہے۔

شدت پسندی کے اس دور میں، شاعروں، ادیبوں، فنکاروں، اساتذہ، اور سوشل میڈیا تخلیق کاروں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہےکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو انسانیت، برداشت، اور امن کے فروغ کے لیے استعمال کریں۔

لوک داستانیں، امن پسند شاعری، اور موسیقی کو سوشل میڈیا کے ذریعے اجاگر کر کے مختلف طبقات کو جوڑا جا سکتا ہے۔ اساتذہ ایک ایسا نصاب اور رویہ اپنائیں جو معاشرتی اقدار سے ہم آہنگ ہو اور طلبہ میں تنقیدی سوچ اور ہمدردی پیدا کرے۔

اگر شاعر اپنے کلام میں محبت، ادیب اپنی تحریروں میں انصاف، مصور اپنی تصاویر میں خوبصورتی، اساتذہ اپنی تعلیم میں رواداری اور سوشل میڈیا تخلیق کار اپنی پوسٹوں میں ہم آہنگی کو فروغ دیں، تو معاشرہ نہ صرف مادی ترقی کرے گا بلکہ اخلاقی طور پر بھی مضبوط ہوگا۔

آج کے دور میں، جب نفرت اور شدت پسندی ہمارے اجتماعی شعور کو کمزور کر رہی ہے۔ امن پسند ادب، لوک رومانی داستانیں اور صوفی موسیقی کی عالمگیر زبان، معاشرتی اقدار سے ہم آہنگ تعلیم، اور سوشل میڈیا کی طاقت کے ذریعے مختلف طبقات کو جوڑ کر ایک پرامن معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

آئیے، ہم سب مل کر ایسی تخلیقات کی آبیاری کریں جو معاشرے کو امن کی راہ پر گامزن کریں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آشر گل

شاعر معاشرہ موسیقی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اور سوشل میڈیا کے فروغ کے لیے مثال کے طور پر مختلف طبقات امن کے فروغ تنقیدی سوچ لوک رومانی اور انسانی صوفی شاعری اور موسیقی صوفی شاعر معاشرے کی تخلیق کار کا ذریعہ کے ذریعے اور صوفی ہم آہنگی لوگوں کو نفرت اور کا پیغام اجاگر کر سکتا ہے لوک ادب اور امن کو فروغ کرتی ہے امن کی کے دور کو ایک

پڑھیں:

بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟

گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ

بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔

بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟

بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔

نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔

بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔

چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔

حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔

ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔

تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔

کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟

پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔

2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان

دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل