پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ کے مقابلے ہمیشہ ہی شائقین کے لیے سب سے بڑی کشش رہے ہیں۔

ان بڑے اور ہائی وولٹیج میچز میں جہاں بھارتی میڈیا اکثر اپنے کھلاڑیوں کی تعریفوں کے پل باندھتا ہے اور نفسیاتی دباؤ پیدا کرنے کے لیے جھوٹے پروپیگنڈے کا سہارا لیتا ہے، وہیں ریکارڈز یہ حقیقت بھی عیاں کردیتے ہیں کہ اصل دباؤ ہمیشہ بھارتی ٹیم پر ہی رہا ہے اور فیصلہ کن لمحات میں پاکستان کا پلڑا ہی ہمیشہ بھاری نظر آیا ہے۔

ماضی کی مثالوں پر نظر ڈالیں تو 1986ء کا شارجہ فائنل آج بھی شائقین کے ذہنوں میں تازہ ہے، جب جاوید میانداد کے آخری گیند پر چھکے نے بھارت کی جیت کو شکست میں بدل دیا۔

یہ لمحہ صرف ایک میچ کی جیت نہیں تھا بلکہ بھارتی کرکٹ کے اعصاب پر ایسا دباؤ ڈال گیا جو آج تک محسوس کیا جاتا ہے۔

اسی طرح 2004ء میں بھارت کے دورہ پاکستان کے دوران راولپنڈی ٹیسٹ میں انضمام الحق اور یونس خان کی شاندار شراکت نے بھارت کو بے بس کر دیا تھا۔

2005ء کے کولکتہ ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم نے بھارت کو اسی کے میدان میں شکست دے کر ایسا سبق سکھایا، جسے بھارتی شائقین آج بھی یاد رکھنے پر مجبور ہیں۔

اسی طرح 2017ء کی چیمپئنز ٹرافی فائنل کا ذکر کیے بغیر بھی بھارتی شکستوں کی یہ داستان مکمل نہیں ہو سکتی، جب پاکستان نے بھارت کو 180 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دی۔

اس فائنل میں نہ صرف فخر زمان کی شاندار سنچری بلکہ محمد عامر کی ابتدائی تباہ کن بولنگ نے بھارتی ٹیم کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا تھا۔ یہ جیت جہاں پاکستان کے لیے تاریخی تھی، وہیں بھارتی کرکٹ کے لیے سب سے بڑی ہزیمت بھی ثابت ہوئی۔

کرکٹ کی تاریخ کے ریکارڈز یہی ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان کے بولرز نے ہمیشہ بھارتی بلے بازوں پر دباؤ ڈالا ہے۔ خواہ شعیب اختر کی 1999ء ورلڈ کپ میں راہول ڈریوڈ اور سچن ٹنڈولکر کو لگاتار آؤٹ کرنے والی گیندیں ہوں یا وسیم و وقار کے تباہ کن اسپیلز، بھارت بار بار اس دباؤ کا شکار ہوا۔

اس طرح کے یادگار ریکارڈز سے پتا چلتا ہے کہ پاک بھارت میچ میں اصل اعصاب پر قابو ہمیشہ پاکستان کے پاس رہا ہے اور جب بھی دباؤ کے لمحے آتے ہیں، بھارتی ٹیم ہمیشہ گھبراہٹ کا شکار رہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج بھی دنیا بھر کے شائقین اس ٹاکرے کو پاکستان کے مضبوط اعصاب اور بھارتی ٹیم دباؤ کے نیچے دبی ہونے کے تناظر ہی میں دیکھتے ہیں۔

بھارت کے خلاف پاکستان کی بڑی کامیابیاں:

شارجہ 1986ء: جاوید میانداد کا آخری گیند پر چھکا، ایشیا کپ فائنل جیتا۔ ورلڈ کپ انگلینڈ 1999ء : شعیب اختر کے تباہ کن اسپیل ے بھارت کے ٹاپ آرڈر کا دھڑن تختہ۔ کولکتہ ٹیسٹ 2005ء: پاکستان نے بھارت کو اسی کے میدان میں دھول چٹائی۔ چیمپئنز ٹرافی فائنل، اوول 2017ء: پاکستان کی 180 رنز سے تاریخی فتح، بھارت کے لیے کبھی نہ بھولنے والی سب سے بڑی ہزیمت۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے بھارت کو بھارتی ٹیم پاکستان کے بھارت کے کے لیے

پڑھیں:

کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان

کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے  جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔

2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔

 کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم  اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک  ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو  نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک  محیط  ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام  تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔

یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔

صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔

نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ  سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔

پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن  اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔

اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے  80 فیصد  قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟