بھارت میں مواد کی نگرانی پر عدالت کا بڑا فیصلہ: ایلون مسک کی کمپنی ایکس کو جھٹکا
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
بھارت کی ایک عدالت نے ایلون مسک کی سوشل میڈیا کمپنی “ایکس” (سابق ٹوئٹر) کی وہ درخواست مسترد کر دی ہے جس میں مودی حکومت کی سخت کنٹینٹ مانیٹرنگ پالیسی کو چیلنج کیا گیا تھا۔ ماہرین اس فیصلے کو بھارت جیسی بڑی اور حساس مارکیٹ میں کمپنی کے لیے ایک “بڑا قانونی دھچکا” قرار دے رہے ہیں۔
یہ مقدمہ رواں سال مارچ 2025 میں کرناٹک ہائی کورٹ میں دائر کیا گیا تھا، جس میں بھارتی حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پر سخت سنسر شپ اور مواد ہٹانے کے احکامات کو قانونی طور پر چیلنج کیا گیا تھا۔
فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس ایم ناگا پرسنا نے کہا کہ سوشل میڈیا پر موجود مواد کو ریگولیٹ کرنا ضروری ہے اور اس حوالے سے حکومتی اقدامات جائز ہیں۔ کمپنی کی جانب سے دی گئی درخواست میں کوئی قانونی وزن نہیں تھا۔”
بھارت میں سنسرشپ مزید سخت
یاد رہے کہ 2023 سے بھارت نے انٹرنیٹ پر کنٹرول مزید سخت کر دیا ہے۔ نئی پالیسیوں کے تحت مزید سرکاری حکام کو ٹیک ڈاؤن آرڈرز جاری کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے
اکتوبر میں ایک سرکاری ویب سائٹ بھی لانچ کی گئی ہے جس کے ذریعے حکام براہِ راست ٹیک کمپنیوں کو ہدایات دے سکتے ہیں کہ کون سا مواد ہٹانا ہے۔
یہ اقدامات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے نہ صرف آزادی اظہار کے حوالے سے ایک چیلنج ہیں بلکہ کاروباری طور پر بھی ان کے لیے پالیسی سازی کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
کمپنی کے لیے خطرے کی گھنٹی
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عدالتی فیصلہ نہ صرف ایکس بلکہ دیگر عالمی ٹیک کمپنیوں کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے کہ انہیں بھارت جیسے ممالک میں مقامی قوانین کے تابع ہونا ہوگا، چاہے وہ قوانین آزادی اظہار پر اثرانداز ہی کیوں نہ ہوتے ہوں۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا کے لیے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔