بھارت کی ایک عدالت نے ایلون مسک کی سوشل میڈیا کمپنی “ایکس” (سابق ٹوئٹر) کی وہ درخواست مسترد کر دی ہے جس میں مودی حکومت کی سخت کنٹینٹ مانیٹرنگ پالیسی کو چیلنج کیا گیا تھا۔ ماہرین اس فیصلے کو بھارت جیسی بڑی اور حساس مارکیٹ میں کمپنی کے لیے ایک “بڑا قانونی دھچکا” قرار دے رہے ہیں۔

یہ مقدمہ رواں سال مارچ 2025 میں کرناٹک ہائی کورٹ میں دائر کیا گیا تھا، جس میں بھارتی حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پر سخت سنسر شپ اور مواد ہٹانے کے احکامات کو قانونی طور پر چیلنج کیا گیا تھا۔

فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس ایم ناگا پرسنا نے کہا کہ سوشل میڈیا پر موجود مواد کو ریگولیٹ کرنا ضروری ہے اور اس حوالے سے حکومتی اقدامات جائز ہیں۔ کمپنی کی جانب سے دی گئی درخواست میں کوئی قانونی وزن نہیں تھا۔”

بھارت میں سنسرشپ مزید سخت

یاد رہے کہ 2023 سے بھارت نے انٹرنیٹ پر کنٹرول مزید سخت کر دیا ہے۔ نئی پالیسیوں کے تحت مزید سرکاری حکام کو ٹیک ڈاؤن آرڈرز جاری کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے

اکتوبر میں ایک سرکاری ویب سائٹ بھی لانچ کی گئی ہے جس کے ذریعے حکام براہِ راست ٹیک کمپنیوں کو ہدایات دے سکتے ہیں کہ کون سا مواد ہٹانا ہے۔

یہ اقدامات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے نہ صرف آزادی اظہار کے حوالے سے ایک چیلنج ہیں بلکہ کاروباری طور پر بھی ان کے لیے پالیسی سازی کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

کمپنی کے لیے خطرے کی گھنٹی

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عدالتی فیصلہ نہ صرف ایکس بلکہ دیگر عالمی ٹیک کمپنیوں کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے کہ انہیں بھارت جیسے ممالک میں مقامی قوانین کے تابع ہونا ہوگا، چاہے وہ قوانین آزادی اظہار پر اثرانداز ہی کیوں نہ ہوتے ہوں۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل