’مجھ پر جھوٹا کیس عائد کیا گیا‘، گرفتاری کے بعد فلک جاوید کا پہلا بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
تحریک انصاف کی رہنما فلک جاوید نے گزشتہ روز گرفتاری کے بعد آج عدالت میں پیشی کے موقع صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہ میرے اوپر جھوٹا کیس کیا ہوا ہے،یہ لوگ کچھ ثابت نہیں کرسکتے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں نے سنا ہے کہ عظمیٰ بخاری نے میری جھوٹی ای آئی ویڈیو لگائی ہے۔اب میں ان پر کیس کروں گی۔
فلک جاوید کو کیوں گرفتار کیا گیا؟ وجہ سامنے آگئینیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فلک جاوید خان کو پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کی جعلی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کے کیس میں گرفتار کرلیا ہے۔ یہ بات فلک جاوید کے وکیل نے بدھ کو بتائی۔
پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا ہے کہ فلک جاوید کو گزشتہ رات اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پی ٹی آئی کارکن فلک جاوید کو سلمان اکرم راجہ کے فلیٹ سے گرفتار کیا گیا ہے؟
فلک جاوید کے وکیل ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق نے ڈان ڈاٹ کام سے گفتگو میں گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قانونی ٹیم کل لاہور ڈسٹرکٹ کورٹ میں پیش ہوگی۔
سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فلک جاوید خان کو گرفتار کر لیا گیا، اس غیر قانونی گرفتاری کی بھرپور مزمت کرتے ہیں، فارم 47 کی عسکری حکومت کو ابھی تک سمجھ نہیں آئی کہ ڈنڈے کے زور پر سوچ نہیں بدلی جا سکتی،#PakistanUnderFascism pic.
— PTI (@PTIofficial) September 23, 2025
انہوں نے کہا کہ فلک جاوید کو ہر ممکن قانونی معاونت فراہم کی جائے گی، اور اگر این سی سی آئی اے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کرتی ہے تو اس کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔ ان کے مطابق کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کارکن فلک جاوید خان گرفتار، رہائی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع
خیال رہے کہ گزشتہ سال جولائی میں صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری نے ان افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا جنہوں نے ان کی ایڈیٹ شدہ تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلائیں۔ عظمیٰ بخاری نے الزام لگایا تھا کہ فلک جاوید نے یہ مواد تیار کرکے سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔
وزیر اطلاعات نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سوشل میڈیا پر ان کی کردار کشی کی گئی اور ان کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی۔ انہوں نے اپنی درخواست میں عدالت سے استدعا کی تھی کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (FIA) کو فلک جاوید اور دیگر کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جائے اور عدالت کو عمل درآمد رپورٹ جمع کرائی جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر فلک جاوید کو پی ٹی آئی کیا گیا
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔