اسرائیل کا مقصد ایرانی نظام حکومت کا تختہ الٹنا تھا لیکن ایران پہلے سے بڑھکر مستحکم ہوا ہے، مصری تجزیہ کار
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
یہ بیان کرتے ہوئے کہ قابض اسرائیلی رژیم کیجانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کا اصلی مقصد ایرانی نظام حکومت کا خاتمہ تھا، معروف مصری تجزیہ کار نے اعلان کیا کہ اس حملے میں تل ابیب کی ذلت آمیز شکست کے سبب تہران پہلے سے زیادہ مستحکم ہوا ہے لہذا اب چین و روس کو بھی مضبوطی کیساتھ ایران کیساتھ آ کھڑا ہونا چاہیئے! اسلام ٹائمز۔ مصر کے معروف سیاستدان و تجزیہ کار حمدین صباحی نے ایران کے خلاف غاصب صیہونی رژیم کی 12 روزہ جنگ کے بارے اعلان کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف قابض صیہونی دشمن کی جارحیت کو ذلت آمیز شکست ہوئی ہے جس کے بدولت ایران اپنی قومی و جمہوری قوت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا، تاہم، اگر خدا نخواستہ ایران ٹوٹ گیا تو اسرائیلی جارحیت کا اگلا ہدف، خطے کے بڑے ممالک جیسا کہ مصر، سعودی عرب اور ترکی ہوں گے۔ لبنانی چینل المیادین کے خصوصی پروگرام "اگر ممکن ہو" میں گفتگو کرتے ہوئے حمدین صباحی کا کہنا تھا کہ ایران، مشرق وسطی سے متعلق اسرائیل کے گھناؤنے منصوبے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے لہذا ایران کو راستے سے ہٹانے اور تنہاء کرنے کے لئے اس جعلی رژیم کو، کسی نہ کسی طور جنگ شروع کرنا ہی تھی تاکہ ایران بھی ایک "منحصر" ملک میں بدل جائے، اور یہی وجہ ہے کہ اس نے جنگ شروع کی جو 12 روز تک جاری رہی لیکن آخر کار اس نے خود ہی جنگ بندی کا مطالبہ بھی شروع کر دیا۔
مصری سیاستدان و تجزیہ کار نے تاکید کی کہ غاصب اسرائیلی رژیم کی جارحیت اب بھی "ختم" نہیں ہوئی اور نہ ہی کبھی ہو گی جبکہ عربی-ایرانی-ترکی تہذیبی مثلث، ایران کے لئے "تکمیلی مزاحمتی منصوبہ" ثابت ہو سکتی ہے درحالیکہ یہ نئے مشرق وسطی کے تسلط پسند منصوبے کے خلاف، شامی خطے کی بقا کے لئے بھی ایک سنہری اصول ہے لہذا ان تینوں فریقوں کے درمیان سنجیدہ مذاکرات کو فعال ہونا چاہیئے۔
حمدین صباحی نے تاکید کی کہ ایک تکمیلی نکتہ یہ بھی ہے کہ "شام" اور اس کے وسط میں "مشرق وسطی" پر تسلط کی جدوجہد؛ دراصل مستقبل قریب کے نئے عالمی نظام کے لئے جدوجہد ہے لہذا چین و روس کو بھی مزید سنجیدہ اقدامات اٹھانے چاہیئیں تاکہ وہ واضح، شفاف اور دوٹوک انداز میں ایران کے ساتھ آ کھڑے ہوں؛ نہ صرف ایران کے تحفظ کے لئے بلکہ اپنے، اپنے مفادات اور دنیا بھر میں اپنے مقام و کردار کے تحفظ کے لئے بھی!
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قابض اسرائیلی رژیم نے درحقیقت ایران کو خود سے دور کرنے اور اپنے تسلط کے تحت مشرق وسطی کا نیا نظام قائم کرنے کے لئے ہی حملہ کیا تھا، اگرچہ اس نے یہ اعلان کر رکھا تھا کہ اس کا مقصد ایرانی جوہری صلاحیت یا اس کے میزائل پروگرام کو تباہ کرنا ہے، لیکن یہ دونوں بنیادی مقاصد نہ تھے جبکہ اس کا بنیادی مقصد ایران پر برسراقتدار حکومتی نظام کا تختہ الٹنا اور اسرائیلی کنٹرول کے تحت ایک نیا مشرق وسطی بنانا تھا۔
معروف مصری سیاستدان نے تاکید کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر کہا کہ امریکی-صیہونی جارحیت کا اولین و آخرین ہدف ایران پر برسر اقتدار اسلامی نظام حکومت کا خاتمہ ہے کیونکہ یہ حکومت اس قوم کے خودمختار عزم کا نتیجہ ہے اور جیسا کہ امریکہ بڑا شیطان اور اسرائیل چھوٹا شیطان ہے، ان کا اولین مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کی "خود مختار حکومت" کا تختہ الٹنا جبکہ دوسرا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنا ہے۔ اس حوالے سے اپنی گفتگو کے آخر میں ان کا کہنا تھا کہ دشمن کے شوم منصوبوں کے برعکس، اسلامی جمہوریہ ایران نہ صرف مسلط کردہ اس جنگ سے اپنے بھرپور قومی اتحاد و قومی خود مختاری کے ہمراہ کامیابی کے ساتھ باہر نکلا بلکہ اس نے اپنے ایٹمی پروگرام کو بھی، قانون کے مطابق، بغیر کسی توقف کے محفوظ رکھا اور اب وہ اسے مزید ترقی دینے کا ارادہ رکھتا ہے!
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مقصد ایران تجزیہ کار ایران کے ہے لہذا کے لئے
پڑھیں:
وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات،وزیر اعظم نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا
وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اس منصوبے سے ملک میں زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور تربیت کو ان منصوبوں کا حصہ بنایا جائے۔
جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے پر بات چیت کی جارہی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں
ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار