اسرائیلی حملوں میں ایران کے 935 شہری شہید ہوئے، نئی فرانزک رپورٹ میں انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
ایران کے عدالتی ترجمان نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ اسرائیلی فضائی حملوں میں 935 ایرانی شہری جاں بحق ہوئے، جن میں 38 بچے اور 132 خواتین شامل ہیں۔
یہ اعداد و شمار تازہ ترین فرانزک ڈیٹا کی بنیاد پر جاری کیے گئے، جو اس سے قبل وزارت صحت کے بتائے گئے 610 ہلاکتوں کے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہیں۔
ترجمان اصغر جہانگیر کے مطابق، تہران کی ایوین جیل پر اسرائیلی حملے میں ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھا کر 79 کر دی گئی ہے، جو پہلے 71 بتائی گئی تھی۔
اسرائیل نے 13 جون کو ایران پر فضائی حملے شروع کیے تھے، جن کا ہدف جوہری تنصیبات، اعلیٰ فوجی کمانڈر اور شہری علاقے تھے۔ اسے اسلامی جمہوریہ پر 1980 کی دہائی کے بعد سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
جوابی کارروائی میں ایران نے بھی اسرائیل کے فوجی اڈوں، بنیادی ڈھانچے اور شہروں پر میزائل داغے۔ بعد ازاں 22 جون کو امریکہ نے بھی ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ان حملوں نے "متعدد جنگی جرائم کو جنم دیا ہے"، اور ایران ان کے ثبوت بین الاقوامی اداروں کو فراہم کرے گا تاکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر جوابدہ بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ "کوئی بھی شہید، یا تباہ شدہ عمارت، جنگی جرم کی واضح مثال ہے۔ ہم فوجی اور شہری ہدف میں فرق کو نہیں مانتے کیونکہ یہ حملے بلاجواز تھے۔"
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت جاری ہے جبکہ حالیہ حملے میں 4 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شمالی مقبوضہ مغربی کنارے کے نابلس کے جنوب مغرب میں واقع قصبے طیل پر جمعہ کے روز اسرائیلی فوج اور اسرائیلی آبادکاروں کے حملے میں چار فلسطینی شہید اور چار زخمی ہوگئے، جن میں سے تین کی حالت نازک ہے۔
فلسطینی وزارت صحت نے ایک بیان میں کہا کہ نابلس کے جنوب مغرب میں واقع طیل میں ہلاکتوں کی تعداد چار ہو گئی ہے اور چار دیگر زخمی ہیں جن میں سے تین کی حالت نازک ہے۔
مقامی اور سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی قابضین نے قصبے میں فلسطینیوں کے گھروں پر حملہ کیا اور دو گھروں کی طرف براہ راست فائرنگ کی۔