پشاور سٹی ٹریفک پولیس کے تحت ٹریفک قوانین سے متعلق آگاہی سیمینار
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور(آئی این پی ) سٹی ٹریفک پولیس پشاور کے زیر اہتمام آر ایم آئی ہسپتال میں ٹریفک قوانین سے متعلق آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا. جس میں چیف ٹریفک آفیسر ہارون رشید خان، دیگر ٹریفک حکام اور ڈاکٹروں نے شرکت کی۔ چیف ٹریفک آفیسر ہارون رشید خان نے کہا کہ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے شہریوں میں ٹریفک قوانین سے متعلق آگاہی پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے جس کے ذریعے ٹریفک حادثات اور ٹریفک جام جیسے اہم مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے اس سلسلے میں سٹی ٹریفک پولیس مختلف اوقات میں مختلف اداروں میں جا کر طلبہ و طالبات کو ٹریفک قوانین سے متعلق آگاہی دیتی ہے تاکہ ٹریفک حادثات میں کمی واقع ہو اور شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے سمیت ٹریفک کی روانی یقینی ہو۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سٹی ٹریفک پولیس پشاور نے حادثات کے روک تھام کو یقینی بنانے کیلئے شہریوں میں مفت ہیلمٹ کی تقسیم سمیت انہیں باقاعدہ ٹریفک قوانین سے متعلق آگاہی دی جاتی ہے اسی طرح سٹی ٹریفک پولیس پشاور کے اہلکاروں کو باقاعدہ سی پی آر ٹریننگ بھی دی گئی ہے تاکہ شہریوں کی حفاظت کو ممکن اور خدا نخواستہ حادثہ کی صورت میں نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی تقریباً تمام یونیورسٹیوں اور کالجز سمیت سکولز میں طلباء و طالبات کو ٹریفک رولز سے متعلق آگاہی دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوران سفر سیٹ بیلٹ اور ہیلمٹ کے استعمال سے ٹریفک حادثات اور جانی نقصان سے بچا جا سکتا ہے اس سلسلے میں باقاعدہ مہمات جاری ہیں۔ اسی طرح دوران ڈرائیونگ روڈ سیفٹی و سیکورٹی کا خاص خیال رکھتے ہوئے صبر و تحمل سے ٹریفک اصولوں کے مطابق گاڑی چلانی چاہئے انہوں نے کہا کہ شہری ہمیشہ سیٹ بیلٹ باندھ کر لائن ڈسپلن اور دوسری گاڑیوں کا خیال رکھتے ہوئے گاڑی چلائیں دوران ڈرائیونگ موبائل فون کے استعمال سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک قوانین سے متعلق آگاہی دینے سے شہریوں نے ٹریفک قوانین پر عملدرآمد شروع کردیا ہے جس سے شہر میں ٹریفک کی روانی میں کافی بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹی ٹریفک پولیس پشاور کے حکام اور اہلکار پرائمری‘ مڈل اور میٹرک تک سکول کے طلبہ کو باقاعدہ روڈ کراسنگ اور اشاروں سمیت دیگر ٹریفک قوانین بارے آگاہی دیتے ہیں تاکہ وہ بچپن ہی سے ٹریفک قوانین سے آگاہ ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سٹی ٹریفک پولیس پشاور انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔