گلگت بلتستان: بونر ٹریک پر غیر ملکی خاتون کوہ پیما حادثے کا شکار، ریسکیو آپریشن کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
چلاس کے قریب واقع بونر بیس کیمپ میں ایک غیر ملکی خاتون کوہ پیما کولاوشاوا کلارا کو ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ شب تقریباً 4 بجے بیس کیمپ کے علاقے میں پیش آیا۔
پولیس نے بتایا کہ کلارا کا تعلق چیک ریپبلک سے ہے اور وہ 15 جون کو اپنی ٹیم کے ہمراہ شنگریلا ہوٹل میں قیام پذیر تھیں۔ 16 جون کو انہوں نے بونر بیس کیمپ کی طرف روانگی اختیار کی، اور 17 جون کو ٹیم بیس کیمپ پہنچی۔
پولیس کے مطابق، کیمپ ون اور کیمپ ٹو کے درمیان ٹریکنگ کے دوران کلارا کی آکسیجن گیس پھٹ گئی، جس کے نتیجے میں وہ حادثے کا شکار ہوئیں۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی متعلقہ حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
کلارا کی ٹیم کو ہر ممکن معاونت فراہم کی جا رہی ہے، اور آج باضابطہ طور پر ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو آپریشن شروع کیا جائے گا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل چھان بین جاری ہے اور جلد مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پولیس چلاس خاتون ریسکیو آپریشن کولاوشاواکلارا کوہ پیما.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پولیس چلاس خاتون ریسکیو ا پریشن کوہ پیما بیس کیمپ
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟