گلگت بلتستان: بونر ٹریک پر غیر ملکی خاتون کوہ پیما حادثے کا شکار، ریسکیو آپریشن کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
چلاس کے قریب واقع بونر بیس کیمپ میں ایک غیر ملکی خاتون کوہ پیما کولاوشاوا کلارا کو ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ شب تقریباً 4 بجے بیس کیمپ کے علاقے میں پیش آیا۔
پولیس نے بتایا کہ کلارا کا تعلق چیک ریپبلک سے ہے اور وہ 15 جون کو اپنی ٹیم کے ہمراہ شنگریلا ہوٹل میں قیام پذیر تھیں۔ 16 جون کو انہوں نے بونر بیس کیمپ کی طرف روانگی اختیار کی، اور 17 جون کو ٹیم بیس کیمپ پہنچی۔
پولیس کے مطابق، کیمپ ون اور کیمپ ٹو کے درمیان ٹریکنگ کے دوران کلارا کی آکسیجن گیس پھٹ گئی، جس کے نتیجے میں وہ حادثے کا شکار ہوئیں۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی متعلقہ حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
کلارا کی ٹیم کو ہر ممکن معاونت فراہم کی جا رہی ہے، اور آج باضابطہ طور پر ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو آپریشن شروع کیا جائے گا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل چھان بین جاری ہے اور جلد مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پولیس چلاس خاتون ریسکیو آپریشن کولاوشاواکلارا کوہ پیما.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پولیس چلاس خاتون ریسکیو ا پریشن کوہ پیما بیس کیمپ
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔