بھارت کے ریگستان سے روی کمار اور شانتی بائی نامی جوڑے کی 8 سے 10 روز پرانی لاشیں ملی ہیں جو پاکستان کے شہر گھوٹکی کے رہائشی تھے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق گھوٹکی میں ان کے نمائندے نے روی کمار کے والدین سے بات کی ہے۔

جنھوں نے بتایا کہ روی کا فصل پر پانی لگانے پر اپنے والد سے جھگڑا ہوگیا اور وہ اپنی بیوی لے کر گھر سے ناراض ہوکر چلا گیا تھا۔

راجستھان پولیس کا کہنا ہے کہ ریگستانی علاقے کے ایک مقامی شحص نے پولیس کو لاشوں کی موجودگی کی اطلاع دی تھی۔

بھارتی پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ جس جگہ سے دونوں کی لاشیں ملیں وہ پاکستانی سرحد سے پار تقریباً پندرہ کلومیٹر بھارت کا علاقہ ہے۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جوڑے نے غیر قانونی طور پر سرحد پار کی اور اس سے قبل وہ کسی رہائشی علاقے تک پہنچ پاتے۔ اُن کی ریگستان میں موت ہوگی۔

روی کمار کی لاش سے موبائل فون ملا جس میں پاکستانی سم کارڈ لگی ہوئی تھی۔ روی کی لاش سے 50 فٹ کی دوری پر شانتی کی لاش ملی۔

لاشیں مسخ ہوچکی ہیں اور ان کے چہرے ناقابل شناخت ہیں۔ دونوں کی موت ریگستان کی گرمی اور پانی نہ ملنے سے ہوئی۔

لاشوں سے شناختی کارڈ بھی برآمد ہوئے جن سے مرد کی شناخت 17 سالہ روی کمار ولد دیوان جی اور خاتون کی 15 سالہ شانتی بائی ولد گلو جی کے نام سے ہوئی۔

بھارتی پولیس نے مزید بتایا کہ لاشوں کا پوسٹ مارٹم کیا جا چکا ہے لیکن ابھی رپورٹ نہیں آئی۔

راجستھان کے علاقے جیسلمیر میں جوڑے کے رشتے داروں نے شناختی کارڈز کی بنیاد پر ان کی شناخت کی۔

پاکستان سے صحافی لطیف لغاری نے بی بی سی کو بتایا کہ روی کمار اور شانتی بائی ان کے گاؤں سے ہے اور باپ بیٹے کے درمیان تلخ کلامی چاول کی فصل کو پانی دینے کے معاملے پر ہوئی تھی۔

صحافی لطیف لغاری کے بقول والد دیوانو نے بیٹے کو کہا کہ وہ چاول کی فصل کو پانی دینے جائے لیکن اس نے انکار کیا تو والد نے اس کو تھپڑ مارا جس پر وہ اپنی بیوی کو لے کر موٹر سائیکل پر بیٹھ کر روانہ ہو گیا۔‘

لطیف لغاری بے بتایا کہ روی کے والد دیوانو کو معلوم تھا کہ ان کا بیٹا بارڈر کے علاقے کھینجو میں نور پیر کی درگاہ کے آس پاس موجود ہے وہ ان کے پچھے گئے لیکن کوئی پتہ نہیں چلا۔

پاکستانی صحافی لطیف لغاری نے بی بی سی کو مزید بتایا کہ روی کے والد دیوانو کے بقول ان کے کچھ رشتے دار انڈیا میں رہتے ہیں اور وہی جوڑے کی آخری رسومات ادا کریں گے۔

روی کمار نے اہلیہ کے ہمراہ بھارت جانے کے لیے گزشتہ برس ویزے کی درخواست بھی جمع کرائی تھی۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: لطیف لغاری بتایا کہ روی کمار

پڑھیں:

پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ

اسلام آباد:

پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔

بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا