گزشتہ کچھ دنوں سے اس خبر پر بحث ہورہی ہے کہ مائیکروسافٹ نے پاکستان میں اپنا دفتر بند کردیا ہے۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) کے سابق چیئرمین محمد زوہیب خان نے کا کہنا تھا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ مائیکروسافٹ پاکستان چھوڑ کر جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مائیکروسافٹ کبھی بھی پاکستان میں بطور باقاعدہ رجسٹرڈ اور ٹیکس ادا کرنے والی کمپنی موجود ہی نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیے: فیکٹ چیک: مائیکروسافٹ نے پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

زوہیب خان کے مطابق مائیکروسافٹ کے زیادہ تر پاکستانی ملازمین مقامی تنخواہ دار نہیں تھے بلکہ انہیں ریموٹ یعنی بیرونِ ملک سے آن لائن کام پر رکھا گیا تھا۔ جو ملازمین ٹیکس دیتے تھے، وہ انفرادی طور پر ادا کرتے تھے کمپنی کی طرف سے نہیں۔

زوہیب خان کے مطابق جہاں تک مائیکروسافٹ کی ‘سرمایہ کاری’ کا تعلق ہے، تو وہ زیادہ تر اپنی مصنوعات کی فروخت بڑھانے اور ٹریننگ سیشنز تک محدود تھی۔ ان کی طرف سے کوئی بڑا یا مستقل انفراسٹرکچر بنانے کی کوشش نظر نہیں آئی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پچھلے 20 سالوں میں مائیکروسافٹ نے پاکستان سے کروڑوں ڈالرز کمائے لیکن یہ رقم واپس مقامی معیشت میں نہیں آئی۔ ‘نہ ان کا یہاں کوئی ڈیلیوری سینٹر تھا، نہ انجینئرنگ کا کوئی دفتر، اور نہ ہی کوئی مکمل سپورٹ ٹیم۔ جب بھی کسی بڑے گاہک کو مدد چاہیے ہوتی، تو انہیں صرف کسی مقامی پارٹنر کے پاس بھیج دیا جاتا۔ مائیکروسافٹ انڈیا میں اپنی ٹیم اتنی بڑھاتا ہے لیکن پاکستان میں کیوں نہیں بڑھائی؟’

یہ بھی پڑھیے: اسرائیلی فوج کو اے آئی اور کلاؤڈ سروسز دینے  کے خلاف مائیکروسافٹ  کے احتجاجی ملازمین  نوکری سے برخاست

انہوں نے مزید کہا کہ جتنی بھی ٹیک کمپنیاں پاکستان سے اتنا بزنس کر رہی ہیں وہ یہاں ٹیکس ادا کریں۔ آن لائن بھی جب کسی ملک میں گوگل یا مائیکروسافٹ کی سروسز تو چند ممالک میں اس ملک کے قوانین کے مطابق ٹیکس بھی ادا کرنا ہوتا ہے۔ سیلز ٹیکس اور وڈ ہولڈنگ ٹیکس الگ ہے۔ پرافٹ پر مائیکروسافٹ نے کتنا ٹیکس دیا۔ سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن میں مائیکروسافٹ سافٹ کے نام سے یہ 90 کی دہائی سے رجسٹرڈ ہیں۔ اس کے بعد سے ان سے پوچھا جائے کہ انہوں نے کتنا ٹیکس ادا کیا، کتنا منافع کمایا، کتنی امپلائمنٹ جنریٹ کی۔

حبیب اللہ خان ‘پینمبرا’ نامی ڈیجیٹل ڈیزائن اسٹوڈیو کے سی ای او اور پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے ماہر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملٹی نیشنل ٹیک کمپنیاں کسی ملک میں دفتر جذبات یا ساکھ کی بنیاد پر نہیں کھولتیں، وہ صرف وہاں پیسہ اور کاروباری امکانات دیکھتی ہیں۔

‘جب کسی ملک سے بڑے گاہکوں کی جانب سے مسلسل آمدن آنے لگتی ہے اور مقامی پارٹنرز کے ذریعے نئے سودوں کی اُمید بھی ہو، تب وہ وہاں اپنا دفتر کھولتی ہیں۔ یہی کچھ مائیکروسافٹ نے 2000 کی دہائی کے شروع میں پاکستان کے ساتھ کیا.

جب چند بڑے معاہدے ہوئے، کام کا سلسلہ مستقل اور منافع بخش ہونے لگا، تو انہوں نے پاکستان میں اپنا دفتر کھول لیا۔’

یہ بھی پڑھیے: پی ٹی اے نے تمام پاکستانیوں کے لیے مفت انٹرنیٹ اور منٹس کا اعلان کر دیا، جانیں کیسے؟

انہوں نے بتایا کہ اب 20 سال بعد سافٹ ویئر کا کاروباری انداز بدل چکا ہے۔ پہلے جو ایک بار لائسنس بیچ کر پیسے کمائے جاتے تھے، اب وہی سروسز ماہانہ یا سالانہ سبسکرپشن کی صورت میں بیچی جاتی ہیں۔ اس تبدیلی کے ساتھ کمپنیوں کا عملہ رکھنے کا طریقہ بھی بدل گیا ہے۔ مائیکروسافٹ اب دنیا بھر میں اپنے بہت سے کام (جیسے سپورٹ یا معاہدوں کی نگرانی) چند بڑے عالمی مراکز سے سنبھال رہا ہے، جیسا کہ باقی بڑی کمپنیوں نے بھی کیا ہے۔

حبیب اللہ کے مطابق یہ قدم کمپنی کی مجموعی لاگت کم کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ پچھلے 2 سالوں میں مائیکروسافٹ نے دنیا بھر میں ہزاروں ملازمتیں ختم کی ہیں اور اب کمپنی کی توجہ نئی AI مصنوعات پر ہے۔ پاکستان ان تبدیلیوں کا صرف ایک ابتدائی نمونہ ہے، یہ پاکستان کی معیشت پر کوئی فیصلہ نہیں ہے۔

انہوں نے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھے کہ دفتر بند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت کمزور ہو گئی ہے، تو وہ بڑی غلط فہمی میں ہے۔ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں، اسٹاک مارکیٹ دنیا کی بہترین مارکیٹوں میں شامل ہو رہی ہے، صرف یہی نہیں بلکہ ورلڈ بینک نے پاکستان کے ساتھ 40 ارب ڈالر کے تعاون کی منظوری بھی دے دی ہے۔

‘سرکاری ادارے اور نجی کمپنیاں اب بھی ٹیکنالوجی خرید رہی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب وہ یہ خدمات مائیکروسافٹ کے پارٹنرز یا کلاؤڈ (آن لائن) سسٹمز سے لیں گے، نہ کہ براہِ راست دفتر سے۔’

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ پاکستان کی ٹیکنالوجی کی ترقی اس بات سے نہیں جُڑی کہ مائیکروسافٹ یہاں دفتر رکھتا ہے یا نہیں بلکہ اس بات سے ہے کہ ملک میں جدید ڈیجیٹل نظام (Digital Public Infrastructure) کب مکمل ہوتا ہے۔

حبیب اللہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت ایک بہت اہم ڈیجیٹل تبدیلی کے دہانے پر ہے۔ ملک کو ایک ایسا سسٹم چاہیے جہاں تمام ادارے ڈیٹا کا تبادلہ آسانی سے کر سکیں، ہر شہری کی تصدیق شدہ ڈیجیٹل شناخت ہو اور پیسے کی ادائیگی چند سیکنڈز میں ممکن ہو جائے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان آئی ٹی میں خطے کا مرکزی ہَب بن کر ابھرے گا، وزیرِاعظم

حبیب اللہ خان کہتے ہیں کہ اسے ‘نیشنل اسٹیک’ کہا جاتا ہے۔ نادرا، وزارتِ آئی ٹی اور دوسرے ادارے اس پر کام کر رہے ہیں۔ جیسے ہی یہ نظام مکمل ہوگا، پاکستان میں ای کامرس (آن لائن خرید و فروخت) کئی گنا بڑھ جائے گی اور لوگ بڑی تعداد میں ڈیجیٹل طریقوں سے پیسے لینا دینا شروع کر دیں گے۔ اور اس سے جو معاشی ترقی آئے گی، وہ مائیکروسافٹ یا کسی اور کمپنی کے دفتر بند ہونے سے کہیں زیادہ بڑی ہوگی۔

‘دراصل کہانی یہ ہے کہ پاکستان اب اپنی پرانی رکاوٹوں کو پیچھے چھوڑ کر ایک نئی ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے، جو آنے والے پانچ برسوں میں سینکڑوں ارب ڈالر کی ہو سکتی ہے۔’

وزارت آئی ٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق مائیکروسافٹ سمیت عالمی ٹیک کمپنیاں اب روایتی سافٹ ویئر فروخت سے سبسکرپشن ماڈل کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ اسی حکمت عملی کے تحت مائیکروسافٹ نے پاکستان کے لائسنسنگ اور معاہدوں کا انتظام آئرلینڈ منتقل کر دیا ہے، جبکہ مقامی خدمات مصدقہ پارٹنرز کے ذریعے دی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان آئی ٹی میں امریکا کی نسبت 70 فیصد کم خرچ اور معیاری خدمات فراہم کررہا ہے، رضوان سعید شیخ

حالیہ جائزے میں مائیکروسافٹ پاکستان میں اپنے دفتر کے مستقبل پر غور کر رہا ہے، جو عملے کے عالمی سطح پر ازسرِنو تعین کی پالیسی کا حصہ ہے۔ یہ پاکستان سے دستبرداری نہیں بلکہ شراکت داروں کے ذریعے کام کو آگے بڑھانے کی پالیسی ہے۔

وزارتِ آئی ٹی مائیکروسافٹ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ یہ تبدیلیاں پاکستان میں ٹیکنالوجی کے فروغ اور مقامی شراکت داروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی ٹی پاکستان سافٹ ویئر مائیکروسافٹ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آئی ٹی پاکستان سافٹ ویئر مائیکروسافٹ مائیکروسافٹ نے پاکستان میں مائیکروسافٹ ہے کہ پاکستان پاکستان میں پاکستان کی پاکستان کے سافٹ ویئر حبیب اللہ انہوں نے دفتر بند کے مطابق یہ ہے کہ رہی ہیں سافٹ کے کے ساتھ آن لائن رہا ہے آئی ٹی کی طرف

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف