پاکستان میں مائیکروسافٹ کا دفتر بند: کیا ملکی ڈیجیٹل معیشت کو نقصان ہو سکتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
گزشتہ کچھ دنوں سے اس خبر پر بحث ہورہی ہے کہ مائیکروسافٹ نے پاکستان میں اپنا دفتر بند کردیا ہے۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) کے سابق چیئرمین محمد زوہیب خان نے کا کہنا تھا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ مائیکروسافٹ پاکستان چھوڑ کر جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مائیکروسافٹ کبھی بھی پاکستان میں بطور باقاعدہ رجسٹرڈ اور ٹیکس ادا کرنے والی کمپنی موجود ہی نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیے: فیکٹ چیک: مائیکروسافٹ نے پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا؟
زوہیب خان کے مطابق مائیکروسافٹ کے زیادہ تر پاکستانی ملازمین مقامی تنخواہ دار نہیں تھے بلکہ انہیں ریموٹ یعنی بیرونِ ملک سے آن لائن کام پر رکھا گیا تھا۔ جو ملازمین ٹیکس دیتے تھے، وہ انفرادی طور پر ادا کرتے تھے کمپنی کی طرف سے نہیں۔
زوہیب خان کے مطابق جہاں تک مائیکروسافٹ کی ‘سرمایہ کاری’ کا تعلق ہے، تو وہ زیادہ تر اپنی مصنوعات کی فروخت بڑھانے اور ٹریننگ سیشنز تک محدود تھی۔ ان کی طرف سے کوئی بڑا یا مستقل انفراسٹرکچر بنانے کی کوشش نظر نہیں آئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پچھلے 20 سالوں میں مائیکروسافٹ نے پاکستان سے کروڑوں ڈالرز کمائے لیکن یہ رقم واپس مقامی معیشت میں نہیں آئی۔ ‘نہ ان کا یہاں کوئی ڈیلیوری سینٹر تھا، نہ انجینئرنگ کا کوئی دفتر، اور نہ ہی کوئی مکمل سپورٹ ٹیم۔ جب بھی کسی بڑے گاہک کو مدد چاہیے ہوتی، تو انہیں صرف کسی مقامی پارٹنر کے پاس بھیج دیا جاتا۔ مائیکروسافٹ انڈیا میں اپنی ٹیم اتنی بڑھاتا ہے لیکن پاکستان میں کیوں نہیں بڑھائی؟’
یہ بھی پڑھیے: اسرائیلی فوج کو اے آئی اور کلاؤڈ سروسز دینے کے خلاف مائیکروسافٹ کے احتجاجی ملازمین نوکری سے برخاست
انہوں نے مزید کہا کہ جتنی بھی ٹیک کمپنیاں پاکستان سے اتنا بزنس کر رہی ہیں وہ یہاں ٹیکس ادا کریں۔ آن لائن بھی جب کسی ملک میں گوگل یا مائیکروسافٹ کی سروسز تو چند ممالک میں اس ملک کے قوانین کے مطابق ٹیکس بھی ادا کرنا ہوتا ہے۔ سیلز ٹیکس اور وڈ ہولڈنگ ٹیکس الگ ہے۔ پرافٹ پر مائیکروسافٹ نے کتنا ٹیکس دیا۔ سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن میں مائیکروسافٹ سافٹ کے نام سے یہ 90 کی دہائی سے رجسٹرڈ ہیں۔ اس کے بعد سے ان سے پوچھا جائے کہ انہوں نے کتنا ٹیکس ادا کیا، کتنا منافع کمایا، کتنی امپلائمنٹ جنریٹ کی۔
حبیب اللہ خان ‘پینمبرا’ نامی ڈیجیٹل ڈیزائن اسٹوڈیو کے سی ای او اور پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے ماہر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملٹی نیشنل ٹیک کمپنیاں کسی ملک میں دفتر جذبات یا ساکھ کی بنیاد پر نہیں کھولتیں، وہ صرف وہاں پیسہ اور کاروباری امکانات دیکھتی ہیں۔
‘جب کسی ملک سے بڑے گاہکوں کی جانب سے مسلسل آمدن آنے لگتی ہے اور مقامی پارٹنرز کے ذریعے نئے سودوں کی اُمید بھی ہو، تب وہ وہاں اپنا دفتر کھولتی ہیں۔ یہی کچھ مائیکروسافٹ نے 2000 کی دہائی کے شروع میں پاکستان کے ساتھ کیا.
یہ بھی پڑھیے: پی ٹی اے نے تمام پاکستانیوں کے لیے مفت انٹرنیٹ اور منٹس کا اعلان کر دیا، جانیں کیسے؟
انہوں نے بتایا کہ اب 20 سال بعد سافٹ ویئر کا کاروباری انداز بدل چکا ہے۔ پہلے جو ایک بار لائسنس بیچ کر پیسے کمائے جاتے تھے، اب وہی سروسز ماہانہ یا سالانہ سبسکرپشن کی صورت میں بیچی جاتی ہیں۔ اس تبدیلی کے ساتھ کمپنیوں کا عملہ رکھنے کا طریقہ بھی بدل گیا ہے۔ مائیکروسافٹ اب دنیا بھر میں اپنے بہت سے کام (جیسے سپورٹ یا معاہدوں کی نگرانی) چند بڑے عالمی مراکز سے سنبھال رہا ہے، جیسا کہ باقی بڑی کمپنیوں نے بھی کیا ہے۔
حبیب اللہ کے مطابق یہ قدم کمپنی کی مجموعی لاگت کم کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ پچھلے 2 سالوں میں مائیکروسافٹ نے دنیا بھر میں ہزاروں ملازمتیں ختم کی ہیں اور اب کمپنی کی توجہ نئی AI مصنوعات پر ہے۔ پاکستان ان تبدیلیوں کا صرف ایک ابتدائی نمونہ ہے، یہ پاکستان کی معیشت پر کوئی فیصلہ نہیں ہے۔
انہوں نے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھے کہ دفتر بند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت کمزور ہو گئی ہے، تو وہ بڑی غلط فہمی میں ہے۔ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں، اسٹاک مارکیٹ دنیا کی بہترین مارکیٹوں میں شامل ہو رہی ہے، صرف یہی نہیں بلکہ ورلڈ بینک نے پاکستان کے ساتھ 40 ارب ڈالر کے تعاون کی منظوری بھی دے دی ہے۔
‘سرکاری ادارے اور نجی کمپنیاں اب بھی ٹیکنالوجی خرید رہی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب وہ یہ خدمات مائیکروسافٹ کے پارٹنرز یا کلاؤڈ (آن لائن) سسٹمز سے لیں گے، نہ کہ براہِ راست دفتر سے۔’
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ پاکستان کی ٹیکنالوجی کی ترقی اس بات سے نہیں جُڑی کہ مائیکروسافٹ یہاں دفتر رکھتا ہے یا نہیں بلکہ اس بات سے ہے کہ ملک میں جدید ڈیجیٹل نظام (Digital Public Infrastructure) کب مکمل ہوتا ہے۔
حبیب اللہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت ایک بہت اہم ڈیجیٹل تبدیلی کے دہانے پر ہے۔ ملک کو ایک ایسا سسٹم چاہیے جہاں تمام ادارے ڈیٹا کا تبادلہ آسانی سے کر سکیں، ہر شہری کی تصدیق شدہ ڈیجیٹل شناخت ہو اور پیسے کی ادائیگی چند سیکنڈز میں ممکن ہو جائے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان آئی ٹی میں خطے کا مرکزی ہَب بن کر ابھرے گا، وزیرِاعظم
حبیب اللہ خان کہتے ہیں کہ اسے ‘نیشنل اسٹیک’ کہا جاتا ہے۔ نادرا، وزارتِ آئی ٹی اور دوسرے ادارے اس پر کام کر رہے ہیں۔ جیسے ہی یہ نظام مکمل ہوگا، پاکستان میں ای کامرس (آن لائن خرید و فروخت) کئی گنا بڑھ جائے گی اور لوگ بڑی تعداد میں ڈیجیٹل طریقوں سے پیسے لینا دینا شروع کر دیں گے۔ اور اس سے جو معاشی ترقی آئے گی، وہ مائیکروسافٹ یا کسی اور کمپنی کے دفتر بند ہونے سے کہیں زیادہ بڑی ہوگی۔
‘دراصل کہانی یہ ہے کہ پاکستان اب اپنی پرانی رکاوٹوں کو پیچھے چھوڑ کر ایک نئی ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے، جو آنے والے پانچ برسوں میں سینکڑوں ارب ڈالر کی ہو سکتی ہے۔’
وزارت آئی ٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق مائیکروسافٹ سمیت عالمی ٹیک کمپنیاں اب روایتی سافٹ ویئر فروخت سے سبسکرپشن ماڈل کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ اسی حکمت عملی کے تحت مائیکروسافٹ نے پاکستان کے لائسنسنگ اور معاہدوں کا انتظام آئرلینڈ منتقل کر دیا ہے، جبکہ مقامی خدمات مصدقہ پارٹنرز کے ذریعے دی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان آئی ٹی میں امریکا کی نسبت 70 فیصد کم خرچ اور معیاری خدمات فراہم کررہا ہے، رضوان سعید شیخ
حالیہ جائزے میں مائیکروسافٹ پاکستان میں اپنے دفتر کے مستقبل پر غور کر رہا ہے، جو عملے کے عالمی سطح پر ازسرِنو تعین کی پالیسی کا حصہ ہے۔ یہ پاکستان سے دستبرداری نہیں بلکہ شراکت داروں کے ذریعے کام کو آگے بڑھانے کی پالیسی ہے۔
وزارتِ آئی ٹی مائیکروسافٹ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ یہ تبدیلیاں پاکستان میں ٹیکنالوجی کے فروغ اور مقامی شراکت داروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ٹی پاکستان سافٹ ویئر مائیکروسافٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئی ٹی پاکستان سافٹ ویئر مائیکروسافٹ مائیکروسافٹ نے پاکستان میں مائیکروسافٹ ہے کہ پاکستان پاکستان میں پاکستان کی پاکستان کے سافٹ ویئر حبیب اللہ انہوں نے دفتر بند کے مطابق یہ ہے کہ رہی ہیں سافٹ کے کے ساتھ آن لائن رہا ہے آئی ٹی کی طرف
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔