پاکستان کو ٹونا مچھلی کی برآمد سے 200 ملین ڈالرز آمدن متوقع
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان کو آئندہ برسوں میں ٹونا مچھلی کی برآمدات سے 200 ملین ڈالر زکی آمدنی متوقع ہے، حکومت نے ماہی گیری کے شعبے میں بڑی اصلاحات متعارف کروا دی ہیں۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چوہدری نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان نے انڈین اوشین ٹونا کمیشن (IOTC) سے 25 ہزار میٹرک ٹن ٹونا مچھلی کا کوٹہ حاصل کر لیا ہے، جس میں 15 ہزار ٹن ییلوفن ٹونا اور 10 ہزار ٹن اسکیپ جیک ٹونا شامل ہیں، یہ کوٹہ ماحولیاتی تحفظ اور سمندری حیاتیات کی پائیدار دیکھ بھال کے اصولوں کے تحت حاصل کیا گیا ہے۔
وزیر بحری امور نے اسے "پاکستان کے ٹونا سیکٹر کیلیے سنگِ میل" قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی منڈی میں ٹونا کی قیمت فی کلو 5 سے 7 ڈالر تک ہے، جو ویلیو ایڈیڈ پراسیسنگ کے ساتھ اور بھی بڑھ سکتی ہے.
اگرچہ پاکستان ہر سال 45 ہزار میٹرک ٹن سے زائد ٹونا پکڑتا ہے تاہم ضابطہ نہ ہونے کے باعث اس قیمتی وسیلے سے مکمل معاشی فائدہ حاصل نہیں ہو رہا تھا، اب "نیشنل فشریز اینڈ ایکوا کلچر پالیسی" کے تحت ضابطوں کو یکجا کر کے ماحول دوست اور منافع بخش ماہی گیری کو فروغ دیا جا رہا ہے، جو پاکستان کے بین الاقوامی ماحولیاتی وعدوں کے مطابق ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستانی سرکاری افسر کو پہلی بار IOTC کی اسٹینڈنگ کمیٹی آن ایڈمنسٹریشن اینڈ فنانس کا چیئرمین منتخب کیا گیا ہے، جو عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو مستحکم کرے گا، غیر پائیدار طریقے جیسے گِل نیٹنگ اور ٹرالنگ کو ختم کر کے ماحول دوست "لانگ لائننگ" کو متعارف کرایا جا رہا ہے، جس سے ناپسندیدہ شکار (بائی کیچ) میں کمی اور سمندری ماحولیاتی توازن کو بہتر بنایا جائے گا.
جبکہ ایف اے او نے اس اقدام کی حمایت میں مقامی ماہی گیروں کو 10 لانگ لائن فشنگ کٹس مفت فراہم کی ہیں، اس تبدیلی سے ٹونا کی فی کلو قیمت 2 ڈالر سے بڑھ کر 8 ڈالر تک ہو سکتی ہے۔
برآمدی عمل کو مزید موثر بنانے کیلیے سرٹیفیکیشن اور ٹیسٹنگ فیس میں ترمیم کی گئی ہے، جس سے آمدنی 48 ملین روپے سے بڑھ کر 250 ملین روپے ہو گئی ہے، کراچی کے کورنگی فشریز ہاربر کی بحالی جاری ہے تاکہ یورپی یونین سمیت دیگر مارکیٹوں کے لیے ٹونا برآمدات کو فروغ دیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔