ناسا نے کائنات کے دوسرے نظام سے تیسرا برفانی شہاب ثاقب دریافت کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چلی میں نصب جدید ترین دوربین کی مدد سے ناسا کے سائنسدانوں نے ایک اور بین النجمی (انٹرسٹیلر) شہاب ثاقب دریافت کرلیا ہے۔ یہ تیسرا موقع ہے جب ہمارے نظام شمسی میں کسی دوسرے ستاروں کے نظام سے تعلق رکھنے والا شہاب ثاقب داخل ہوا ہے۔
یہ دلچسپ دریافت 1 جولائی 2025 کو چلی کے ریو ہرٹاڈو میں واقع ایٹلاس سروے ٹیلی اسکوپ کے ذریعے کی گئی۔ اس شہاب ثاقب کو ایک ’’برفانی گیند‘‘ (آئسی سنوبال) سے تشبیہ دی جارہی ہے جو بنیادی طور پر برف اور گیس پر مشتمل ہے۔ خوش قسمتی سے، اس کا راستہ زمین سے محفوظ فاصلے پر ہے اور اس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں۔
ایٹلاس ٹیلی اسکوپ کا بنیادی مقصد ہی زمین کے لیے ممکنہ خطرہ بننے والے خلائی اجسام کی نگرانی کرنا ہے۔ اس سے قبل 2017 اور 2019 میں بھی دو ایسے ہی بین النجمی شہاب ثاقب دریافت کیے گئے تھے جو ہمارے نظام شمسی میں داخل ہوئے تھے۔
ماہرین فلکیات کے مطابق، یہ دریافت ہمیں کائنات کے دوسرے حصوں کی ساخت اور ترکیب کو سمجھنے میں مدد دے گی۔ ہر نئے بین النجمی شہاب ثاقب سے ہمیں ستاروں اور سیاروں کی تشکیل کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔
ناسا کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ شہاب ثاقب ہمارے نظام شمسی سے گزر چکا ہے اور اب یہ دور جا چکا ہے۔ تاہم، اس کی حرکت اور ساخت کا مطالعہ جاری ہے جو ہمیں کائنات کے بارے میں مزید راز افشا کر سکتا ہے۔ یہ دریافت جدید فلکیاتی تحقیق میں ایک اور اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شہاب ثاقب
پڑھیں:
پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں