محرم الحرام باطل کی بیعت سے انکاری اور حق پر ڈٹ جانے کا نام ہے، سید امین الحق
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
قائد حزبِ اختلاف سندھ اسمبلی علی خورشیدی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ کربلا میں نواسہ رسولؑ نے اپنا سر کٹوا کر رہتی دنیا تک یہ پیغام دے دیا کہ حق و باطل کی جنگ میں جیت ہمیشہ حق کی ہی ہوتی ہے چاہے دشمن تعداد میں زیادہ ہی کیوں نہ ہو، امام حسینؑ اور اہل بیتؑ کے صبر اور استقامت نے آج ان کے ذکر کو بلند کردیا ہے اور یزید کا آج نام لینے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما سید امین الحق نے 09 محرم الحرام کے اورنگی ٹاؤن سے نکلنے والے مرکزی جلوس میں شرکت کی اور جلوس کے منتظمین سے ملاقات کی۔ جلوس میں شرکت کرنے والوں میں قائد حزبِ اختلاف برائے سندھ اسمبلی علی خورشیدی، ممبر صوبائی اسمبلی اعجازالحق، سی او سی کے ذمہ داران، ٹاؤن انچارج و اراکین کمیٹی شامل تھے۔ جلوس کی گزرگاہوں پر ایم کیو ایم کی جانب سے لگائے گئیں سبیلیں اور طبی امدادی کیمپوں پر ایم کیو ایم سینئر مرکزی رہنما سید امین الحق اور قائد حزبِ اختلاف علی خورشیدی نے زائرین کو شربت پلایا اور طبی امدادی کیمپوں میں جا کر عزاداروں کی خیریت دریافت کی اور رضاکاروں کو ہدایت کی کہ عزاداروں کا خاص خیال رکھا جائے۔
اس موقع پر سید امین الحق نے اپنی گفتگو میں کہا کہ محرم الحرام باطل کی بیعت سے انکاری اور حق پر ڈٹ جانے کا نام ہے، باطل چاہیئے جتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو اس کے آگے سر خم نہیں کرنا بلکہ سر بلند کرکے اس کا مقابلہ کرنا ہے پھر چاہے آپ تعداد میں کم ہی کیوں نہ ہوں۔ قائد حزبِ اختلاف صوبائی اسمبلی علی خورشیدی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ کربلا میں نواسہ رسولؑ نے اپنا سر کٹوا کر رہتی دنیا تک یہ پیغام دے دیا کہ حق و باطل کی جنگ میں جیت ہمیشہ حق کی ہی ہوتی ہے چاہے دشمن تعداد میں زیادہ ہی کیوں نہ ہو، امام حسینؑ اور اہل بیتؑ کے صبر اور استقامت نے آج ان کے ذکر کو بلند کردیا ہے اور یزید کا آج نام لینے والا بھی کوئی نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سید امین الحق علی خورشیدی باطل کی کیوں نہ
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک