Express News:
2026-07-24@14:48:12 GMT

نئے صوبے تقسیم نہیں بلکہ تعمیرکا ذریعہ ہیں(آخری حصہ)

اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT

ریاست چترال کو 1969 میں پاکستان میں باقاعدہ طور پر ضم کر کے صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بنایا گیا۔ چترال اپنی ثقافتی، لسانی، جغرافیائی اور نسلی انفرادیت کے باعث باقی صوبے سے کافی مختلف ہے، اس کے علاقوں میں چترال، اپر چترال، لوئر جب کہ اس سے ملحق وادی کیلاش اور بعض شمالی پہاڑی علاقے شامل ہیں۔

ان علاقوں میں بولی جانے والی زبانوں میں کھوار، کیلاشہ، یدغہ، اردو اور پشتو دفتری امور میں بولی جاتی ہے۔ ان کی الگ موسیقی، شاعری اور ثقافتی ورثے ہیں۔ ان کی زبان کالاشہ ہے، یہاں کی آبادی قدیم یونانی و ہندآرائی عقائد سے متاثر انفرادی دیو مالائی نظام، یہ لوگ بتوں، فطری عناصر، سورج، چاند اور موسموں کی پرستش کرتے ہیں۔ ان کی مذہبی رسومات میں مختلف تہوار بھی دنیا بھر میں مشہور ہیں جیسا کہ چاؤ مس، او چاؤ، پولی وغیرہ۔ وادیاں ماحولیاتی لحاظ سے حساس، مگر بے حد خوبصورت اور سیاحتی مرکز ہیں۔ الگ صوبہ یا خود مختار علاقہ بننے سے ان کے رسم و رواج، زبان اور تہذیب کو آئینی تحفظ دیا جا سکتا ہے۔

کالاش اقلیت کو زمین، مذہب اور تعلیم کے شعبے میں آئینی سطح پر خود اختیاری ملنی چاہیے۔ یونیسکو اور اقوام متحدہ نے بارہا پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کالاش ثقافت کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ فرانس، جرمنی، جاپان، اور کئی یورپی ملکوں نے بھی کالاش ثقافت کی مالی معاونت اور تحقیقی مدد پیش کی ہے۔

بلتستان کو ہی لے لیں، یہ پاکستان کے شمال میں واقع گلگت بلتستان کا ایک تاریخی، جغرافیائی اور ثقافتی خطہ ہے۔ اسے ’’ لٹل تبت‘‘  بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں کے باسیوں کی زبان، مذہب، رسم و رواج اور ثقافت تبتی اور ایرانی اثرات لیے ہوئے ہیں۔ یہ خطہ اپنی قدرتی خوبصورتی، دنیا کی بلند ترین چوٹیاں گلیشیئرز، ثقافتی ورثے اور مہمان نوازی کے لیے عالمی شہرت رکھتا ہے۔

اس کے علاقے اسکردو، شگر،گانچھے (خپلو) وغیرہ شامل ہیں۔ یہاں بلتی زبان بولی جاتی ہے، اس کی ثقافت میں تبتی اور فارسی فن تعمیر، موسیقی اور لباس وغیرہ شامل ہیں۔ یہاں کے ٹو جیسے دنیا کے بلند ترین پہاڑ ہیں، اس کے علاوہ مشربرم، گاشر برم اور بیافو جیسے گلیشیر اس کے حسن کو چار چاند لگا رہے ہیں۔ دریائے سندھ کا آغاز بھی یہیں سے ہو رہا ہے۔

یہاں دیوسائی، شنگریلا، ستپارہ، شگر فورٹ، نبلوفورٹ جیسے سیاحتی مقامات عالمی اہمیت کے حامل ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ نہ یہاں کے باسیوں کو مکمل شہری حقوق حاصل ہیں، نہ ہی قومی اسمبلی یا سینیٹ میں نمائندگی ہے۔ حالیہ دہائیوں میں بلتستان کے باسیوں نے الگ شناخت، آئینی تحفظ اور اختیارات کی منتقلی کے مطالبات شدت سے اٹھائے ہیں۔ یہاں کی انتظامی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ اس کو الگ صوبہ بنا دیا جائے تو مقامی نمائندگی اس کی مزید ترقی و عروج کے لیے کام کرے گی۔ اس علاقے کی دفاعی اہمیت بھی مسلم ہے چونکہ یہاں سیاچن، کارگل اور سرحدی علاقوں کا تحفظ ضروری ہے اور ان کی بلتستانی شناخت قومی سلامتی سے جڑی ہے تو ان کی احساس محرومی کا خاتمہ ہوگا سیاسی نظر اندازی کا تدارک ہو سکے گا۔

 پاکستان کی ریاستی وحدت اور عوامی خوشحالی اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم صرف لسانی بنیادوں ہی پر نہیں، بلکہ ثقافتی، جغرافیائی اور انتظامی بنیادوں پر بھی نئے صوبے تشکیل دیں۔ ان ہی اصولوں پر مبنی ایک اہم مطالبہ ’’ پوٹھوہار یا راولپنڈی صوبے‘‘  کے قیام کا ہے، جو برسوں سے زیر بحث ہے مگر عملی اقدام سے محروم ہے۔ اس کے علاقوں میں راولپنڈی، ٹیکسلا، اٹک، جہلم، چکوال، سرگودھا، خوشاب اور تلہ گنگ وغیرہ شامل  ہیں۔

یہ علاقہ پنجاب کے دوسرے لسانی، ثقافتی اور مزاجی طور پر بالکل مختلف ہے۔ یہاں کی زبان پوٹھواری / پہاڑی ہے، جو پنجابی اور کشمیری کا سنگم سمجھی جاتی ہے۔ مع داستانیں (راجہ رسالو، سوہنی مہینوال)، روایتی گیت اور ہنر یہاں کی شناخت ہیں۔ راولپنڈی اور ارد گرد کے علاقوں کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جب کہ لاہور میں بیٹھ کر فیصلے کرنا مقامی مسائل کا حل نہیں۔ پوٹھوہاری زبان اور ثقافت بتدریج دب رہی ہے۔ صوبہ بننے سے یہ زبان اسکولوں، میڈیا اور سرکاری سطح پر فروغ پاسکتی ہے۔

پوٹھواری (علیحدہ شناخت، مکمل پنجابی نہ سرائیکی)، کئی یونیورسٹیاں، میڈیکل کالج، اسپتال موجود مگر بجٹ میں نظر انداز۔ راولپنڈی و پوٹھوہار کے عوام کو اپنی شناخت، اختیارات اور ترقیاتی فیصلوں میں خود مختاری حاصل ہوگی۔ چھوٹے اضلاع (جہلم، چکوال، اٹک) براہ راست مستفید ہوں گے۔ تعلیم، روزگار، ثقافت، زبان، سیاحت ہر پہلو میں نئی راہیں کھلیں گی۔ پوٹھو ہار صوبہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ صرف انتظامی تقسیم نہیں بلکہ ثقافتی بقاء زبان کے تحفظ اور مقامی اختیارات کے لیے بنیاد بنے گا۔ راولپنڈی، چکوال، اٹک، جہلم سب کو وہ حیثیت ملے گی جس کے وہ برسوں سے منتظر ہیں۔ پاکستان کی ترقی چھوٹے صوبوں سے ہی جڑی ہے اور پوٹھو ہار اس سمت ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔

پاکستان ایک کثیر اللسانی اورکثیر الثقافتی ملک ہے جہاں ہر لسانی اکائی کی شناخت، ترقی اور خود مختاری کا احترام ریاست کی وحدت کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ انھی اصولوں پر مبنی ایک پرانا اور مسلسل دہرایا جانے والا مطالبہ پشتونخوا  بلوچستان یعنی پشتون بیلٹ کو ایک علیہ علیحدہ صوبہ بنانے کا ہے۔

یہ مجوزہ صوبہ بلوچستان کے شمالی و شمال مغربی علاقوں پر مشتمل ہو سکتا ہے جن میں کوئٹہ، پیشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، ژوب، لورالائی، ڈکی، موسی خیل، شیرانی، بارکھان اور سی شامل ہیں۔ ان علاقوں کے پشتونوں  کا ماننا ہے کہ کوئٹہ اور ارد گرد کا علاقہ زیادہ آبادی، زیادہ تعلیم اور وسائل کے باوجود صوبہ بلوچستان کے اندر سیاسی طور پر کمزور رکھا گیا ہے۔

پشتون بیلٹ کو صوبائی بجٹ، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی فیصلوں میں وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو بلوچ اکثریتی علاقوں کو دی جاتی ہے۔ پشتون بیلٹ کے لوگوں کو اپنی زبان،کلچر، تعلیم اور وسائل کے تحفظ و فروغ کے لیے خود اپنا انتظامی ڈھانچہ چاہیے۔ محمود خان اچکزئی کی قیادت میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (PKMAP) برسوں سے یہ مطالبہ دہرا رہی ہے۔ ANP بھی اس کی حمایت کرچکی ہے۔ بلوچ قوم پرستوں میں کچھ اس کے مخالف ہیں،کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے بلوچستان کی وحدت کو چیلنج ہوگا۔

پاکستان کے سب سے بڑے مگرکم ترقی یافتہ صوبے بلوچستان کا ایک انتہائی اہم مگر نظر انداز شدہ علاقہ مکران ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے  بلوچستان کا جنوبی حصہ اور پاکستان کا ساحلی گھماؤ دارکنارہ مکران صرف جغرافیائی اہمیت نہیں رکھتا، بلکہ سی پیک،گوادر بندرگاہ، معدنی وسائل اور سمندری معیشت کے لحاظ سے بھی ایک قومی اثاثہ ہے، لیکن بد قسمتی سے یہ علاقہ سیاسی، معاشی اور انتظامی نظراندازی کا شکار ہے۔

اسی تناظر میں مکران کو ایک علیحدہ صوبہ بنانے کا مطالبہ اب صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک قومی ضرورت بنتا جا رہا ہے۔ ان کے علاقوں میں گوادر، کیچ یعنی تربت، پنجگور، لسبیلہ، ہوشاب، پسنی، گوادر، جیوانی اور ماڑا جیسے ساحلی علاقے شامل ہیں۔ یہ خطہ پاکستان کا وہ حصہ ہے جہاں ساحل، معدنیات، تجارت اور ثقافت کا حسین امتزاج ہے۔ یہاں کی زبان بلوچی جس کا لہجہ مکرانی ہے اور براہوی ہے۔ ثقافتی لحاظ سے یہ علاقہ شمالی بلوچستان سے مختلف ہے۔ مکران کی روایتی موسیقی، بحری لوک داستانیں اور رقص اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔گوادر اور سی پیک کا مرکز مکران میں ہے، لیکن مقامی آبادی اس ترقی سے محروم ہیں۔ الگ صوبہ ہونے کی صورت میں مقامی نمائندگی اور شراکت داری ممکن ہوگی۔

میں آخر میں یہ ضرورکہوں گی کہ نئے صوبے پاکستان کوکمزور نہیں کریں گے، بلکہ اسے زیادہ مضبوط، متوازن اور یکساں ترقی یافتہ ملک بنائیں گے۔ ہمیں ان فیصلوں سے گریز نہیں کرنا چاہیے جن سے محرومیاں ختم ہوں،  ہر پاکستانی خود کو اس ملک کا اہم اور برابرکا شہری محسوس کرے۔ اب وقت ہے کہ پاکستان کی ہر لسانی، تہذیبی اور جغرافیائی اکائی کو اس کا حق دیا جائے تاکہ ’’ ہم ایک قوم، ایک پاکستان‘‘ کو صرف نعرے کی بجائے ایک عملی حقیقت میں بدل سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: علاقوں میں کے علاقوں اور ثقافت شامل ہیں جاتی ہے کی زبان یہاں کی کے لیے اور ان

پڑھیں:

 صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات

 ویب ڈیسک: صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ 

 صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔ 

 صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔

ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔  
 

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • بلاول برخودار! کشمیر کو کشمور، میرپور کو میرپور خاص نہ سمجھنا، نواز شریف
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • شہرِ دل رُبا۔۔۔۔ راول پنڈی (تیسرا اور آخری حصہ)