اب ہمیں معاشی جنگ جیتنی ہے: غریدہ فاروقی
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
لاہور (ویب ڈیسک) سینئر صحافی و اینکرپرسن غریدہ فاروقی نے کہا ہے کہ ہمیں جو جنگ جیتنی ہے وہ معاشی ترقی کی ہے لیکن معذرت کے ساتھ اس میں شہبازشریف کی حکومت انتہائی کمزورنظرآتی ہے، ابھی وزارت خزانہ کی اپنی رپورٹ اٹھا کر دیکھ لیں، اس میں بھی اعدادوشمار اچھے نہیں۔
نجی ٹی وی چینل 365کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کاکہناتھاکہ میں سمجھتی ہوں کہ اس وقت آپ کے جو وزیر خزانہ ہیں، کوئی بینکر کبھی بھی معیشت نہیں چلاسکتا، ہمیں ہرچند سال بعد یہ بات کرنے کی ضرورت آخرکیوں پیش آتی ہے؟ آپ نے معیشت چلانی ہے تو آپ کو ایک ماہر چاہیے ، اس ٹیم کا سربراہ کوئی سیاسی شخصیت ہونی چاہیے جسے کچھ علم بھی ہوا اوراس کا عوامی سطح پر احتساب بھی ہو۔
ان کامزید کہناتھاکہ یہ بینکرز اور ٹیکنوکریٹ آتے ہیں، کچھ عرصہ انجوائے کرتے ہیں ،تنخواہیں، گاڑیاں اور مراعات لیتے ہیں ، اس کے بعد اپنی اپنی جگہوں پر اڑان بھرجاتے ہیں، کوئی عالمی بینک چلاجاتا ہے توآئی ایم ایف تو کوئی کہیں اور۔
اے ایف سی ویمنز ایشین کپ کوالیفائرز، انڈونیشیا کے بعد پاکستان نے کرغزستان کو بھی شکست سے دوچار کردیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔